Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانیؒ کا فتویٰ

  حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانیؒ

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانیؒ کا فتویٰ 

سوال: نیکی، اچھائی اور بھلائی دنیا میں کئے جانے والے ایسے اعمال ہیں جو انسان کو خوشی اور اطمینان قلب عطا کرتے ہیں مسلمان کی حیثیت سے ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر وہ نیکی جو ہم اس دنیا میں کریں گے اس کا ثواب ہمیں آخرت میں ملے گا لیکن اچھائی، نیکی کسی کی میراث نہیں، اچھا نیک کام ایک مسلمان بھی انجام دے سکتا ہے اور ایک غیر مسلم بھی۔ مسلمان چونکہ روز جزاء پر یقین رکھتا ہے، اس لئے اسے تو نیکی کا ثواب آخرت میں مل جائے گا، مگر غیر مسلم جو نیکیاں کرتے ہیں ،وہ ان کی نجات کا باعث کیوں نہیں ہو گی؟ 

جواب: آخرت میں نیکیاں انسان کو اسی وقت نجات دلا سکیں گی جبکہ اس کے ساتھ ایمان بھی ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے لئے عمل صالح کے ساتھ ایمان کو ضروری قرار دیا ہے۔

وبشر الذين آمنوا و عملوا الصلحت ان لهم جنت تجرى من تحتها الانهار:

اس مضمون کی اور بھی متعدد آیتیں قرآن مجید میں موجود ہیں، ہاں کفر کے ساتھ نیکیاں دنیا میں فائدہ پہنچا سکتی ہیں، جیسے رزق میں برکت، عمر وصحت میں برکت وغیرہ۔ اسی طرح بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے آخرت کے عذاب میں تخفیف بھی ہوتی ہے جیسا کہ ابوطالب کے بارے میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ آپﷺ کے ساتھ حسنِ سلوک کی وجہ سے ان کے لئے دوزخ میں سب سے ہلکا عذاب رکھا گیا ہے۔ یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ آخر کفار و مشرکین کی نیکیاں کیوں قبول نہیں کی جاتی ؟

اب دیکھئے! اگر ہمارے ملک ہندوستان میں باہر کا کوئی سیاح آئے تو وہ کتنا ہی نیک چال چلن کا آدمی ہو ، اس ملک کا صدر اور وزیر اعظم تو کجا معمولی رکن اسمبلی بھی نہیں بن سکتا، بلکہ وہ ووٹ بھی نہیں دے سکتا، اس لئے کہ اس نے اس ملک کی وفاداری کا طوق اپنے گلے میں ڈالا ہی نہیں ہے۔ اسی طرح جب تک کوئی شخص خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے تو اس نے کائنات کے اس مالک سے اپنی وفاداری کا رشتہ ہی استوار نہیں کیا ، بلکہ اس کی حیثیت ایک نیک خصلت اور خوش اخلاق باغی کی ہے، اور باغی بہر حال باغی ہی ہوتا ہے، اسی لئے آخرت میں ایمان کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔

(کتاب الفتاویٰ:پہلا حصہ:جلد:1:صفحہ:156)