اے اللہ میں نہ حاضر تھا نہ حکم دیا نہ راضی ہوں اور نہ واقعہ سن کر خوش ہوں
علی محمد الصلابیجب فتح ’’ تُستر‘‘ کی خبر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ملی تو آپؓ نے کہا: کیا کوئی نئی بات تو نہیں پیش آئی؟ لوگوں نے کہا: ہاں ایک بات ہوئی ہے، وہ یہ کہ ایک آدمی اسلام سے مرتد ہو گیا۔ آپؓ نے پوچھا: تم نے اس کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ انہوں نے کہا: ہم نے اسے قتل کر دیا۔ آپؓ نے فرمایا: کیوں نہیں تم نے اسے ایک گھر میں بند کر دیا اور ہر روز اسے کھانے کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا دیتے، پھر اس سے توبہ کرواتے، اگر توبہ کر لیتا تو ٹھیک تھا، ورنہ اسے قتل کر دیتے۔ پھر آپؓ نے کہا: اے اللہ میں اس واقعہ کے وقت حاضر نہ تھا، نہ اس کا حکم دیا، نہ راضی ہوں اور جب واقعہ سنا تو مجھے خوشی نہیں ہوئی۔
(محض الصواب: جلد 1 صفحہ 372)