Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شراب نوشی کی حد اسی 80 کوڑے مقرر کرنا

  علی محمد الصلابی

جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت سنبھالا اور اسلامی فتوحات کی کثرت ہو گئی، آبادیاں دور دور تک پھیل گئیں، لوگوں کی اقتصادی حالت بہتر ہو گئی اور ایسے بہت سارے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا جو مکمل طریقے سے اسلامی تربیت اور دینی معلومات سے ناآشنا تھے، تو ان میں بہت زیادہ شراب نوشی ہونے لگی اور حضرت عمرؓ کے سامنے ایک بڑی پریشانی آ کھڑی ہوئی۔ چنانچہ آپؓ نے بزرگ صحابہ کو اکٹھا کیا اور اس سلسلہ میں مشورہ لیا، سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کی سزا اسی 80 کوڑے بطور حد مقرر کی جائے، یہ حدود کی سب سے کم تر مقدار ہے۔ بہرحال آپؓ نے اسی پر عمل کیا اور آپؓ کی پوری مدت خلافت میں کسی صحابیؓ نے اس کی مخالفت نہ کی۔ 

(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 211)

علامہ ابن قیم رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے وبرہ الصلیتی کو شام سے حضرت عمرؓ کے پاس روانہ کیا۔ ان کا بیان ہے کہ میں حضرت عمرؓ کے پاس آیا، آپؓ کے پاس طلحہ، زبیر بن عوام اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما مسجد میں ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں نے آپؓ سے کہا: حضرت خالد بن ولیدؓ نے آپؓ کو السلام علیکم عرض کیا ہے اور آپؓ کو خبر دی ہے کہ لوگ کثرت سے شراب نوشی کرنے لگے ہیں اور سزا کا مذاق اڑاتے ہیں، لہٰذا آپؓ کیا حکم دیتے ہیں؟ آپؓ نے فرمایا: یہ سب تمہارے سامنے ہیں، معاملہ پر غور و خوض ہو رہا ہے وبرہ کا کہنا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے خیال میں جب وہ نشہ سے بدمست ہو گا تو بکواس و بہودہ بکے گا، اور جب بے ہودگی بکے گا تو دوسروں پر تہمت لگائے گا، اور تہمت لگانے والے کی شرعی حد اسی 80 کوڑے ہے، یہ سن کر سب نے اسی پر اتفاق ظاہر کیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ان کے مشورہ سے تمہارا حاکم یعنی میں نتیجہ پر پہنچ گیا۔ پھر سیدنا عمر اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما نے بھی ایسے مجرموں کو 80 کوڑے لگوائے۔ 

(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 211)