شیعہ سے نکاح کا حکم
سوال: رافضی شیعہ اور اثناء عشری میں کوئی فرق ہے تو تحریر کیجئے، نیز ایسے عقائد رکھنے والوں سے کسی سنّی العقیدہ عورت کا یا مرد کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ خلفائے ثلاثہؓ پر تبرّاء پڑھتے ہیں، حالانکہ حضورﷺ کی حدیث ہے۔
کہ جس نے میرے صحابی کو تکلیف دی اسنے مجھے تکلیف دی، جس نے مجھے تکلیف دی اُس نے گویا اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا۔ اِن ارشادات کی روشنی میں نکاح کا کیا حکم ہے؟
جواب: شیعوں کے بہت سے فرقے ہیں۔ وہ سب اپنے آپ کو شیعہ اور اثناء عشری کہتے ہیں اور اہلِ سنّت ان سب کو رافضی کہتے ہیں۔ یہ تمام فرقے علی الاطلاق کافر نہیں ہیں بلکہ ان میں سے جو لوگ سیدنا علیؓ کی خدائی کے قائل ہوں یا قرآن کریم کو تحریف شدہ مانتے ہوں یا سیدہ عائشہؓ پر تہمت لگاتے ہوں یا اس قسم کے کسی اُور کافرانہ عقیدے کے معتقد ہوں وہ تو کافر ہیں اور ان سے نکاح نہیں ہوتا، لیکن جو اس قسم کے کفریہ عقائد نہ رکھتے ہوں وہ کافر نہیں ہیں، ان سے نکاح ہو تو جاتا ہے مگر مُناسب نہیں۔
(فتاویٰ عثمانی جلد 2، صفحہ 261)