Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور اسے میراث سے محروم کر دیتا ہے

  علی محمد الصلابی

 سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ غیلان ثقفی جب اسلام لائے تو ان کے عقد میں دس بیویاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے صرف چار کو منتخب کر لو اور باقی کو چھوڑ دو، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں انہوں نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی، اور اپنی جائیداد بیٹوں میں تقسیم کر دی۔ اس بات کی خبر سیدنا عمرؓ تک پہنچی، آپؓ نے انہیں بلا بھیجا، وہ آپؓ کے پاس آئے، آپؓ نے ان سے کہا: مجھے لگتا ہے کہ شیطان جو کچھ چوری سے ملأ اعلیٰ کی گفتگو سنتا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری موت کے بارے میں سن لیا ہے، اور پھر تمہارے دل میں یہ بات ڈال دی ہے کہ تم جلد ہی مر جاؤ گے، اس طرح اس کی سبقت بیانی نے تم کو اس کام پر مجبور کیا ہے۔ اور میں اللہ کی قسم! تمہارے بارے میں یہ سوچتا ہوں کہ میری اس جگہ سے تم اٹھ کر نہیں جاؤ گے کہ تمہاری موت ہو جائے گی اور اللہ کی قسم اپنی بیویوں کو لوٹانے اور بیٹوں میں تقسیم کردہ مال کو واپس لینے سے پہلے اگر تم مر گئے تو تمہاری بیویوں کو تمہاری جائیداد میں حصہ دلاؤں گا، پھر تمہاری قبر پر پتھر برساؤں گا اور جس طرح ابو رغال کی قبر کے ساتھ ہوا ہے اسی طرح تمہاری قبر کے ساتھ بھی کروں گا۔ چنانچہ اس نے اپنی بیویوں کو لوٹا لیا اور وہ مال بھی واپس لے لیا جو اپنے بیٹوں میں تقسیم کیا تھا، پھر تھوڑی دیر بعد ہی وفات پا گیا۔

(موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 47)