Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حمل کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مدت

  علی محمد الصلابی

 سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسی عورت کا قضیہ پیش کیا گیا جس کو چھ مہینے میں ولادت ہوئی تھی، حضرت عمرؓ نے اسے رجم سنگسار کرنا چاہا، لیکن اس عورت کی بہن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئی اور کہا: حضرت عمرؓ میری بہن کو سنگسار کرنا چاہتے ہیں، میں آپؓ سے اللہ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ کیا میری بہن کے لیے رجم سے بچنے کے لیے کوئی عذر ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا: ہاں اس کے لیے عذر ہے۔ اس عورت نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا، جسے حضرت عمرؓ نیز آپؓ کے ساتھ بیٹھنے والے دیگر لوگوں نے سنا، وہ عورت وہاں سے حضرت عمرؓ کے پاس آئی اور کہا: بے شک حضرت علیؓ کا خیال ہے کہ میری بہن کے لیے ایک عذر ہے۔ حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ کو بلوایا اور پوچھا کہ اس کے لیے کیا عذر ہے؟ تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اللہ کا ارشاد ہے:

وَالۡوَالِدٰتُ يُرۡضِعۡنَ اَوۡلَادَهُنَّ حَوۡلَيۡنِ كَامِلَيۡنِ‌   ۞ (سورۃ البقرة: آیت 233)

ترجمہ: ’’مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔‘‘

اور ایک مقام پر ارشاد ہے: 

وَحَمۡلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰـثُوۡنَ شَهۡرًا‌ ۞ (سورۃ الاحقاف: آیت 15)

ترجمہ:’’اس ماں کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس 30 مہینے ہے۔‘‘

اس طرح حمل کی مدت چھ مہینے اور دودھ چھڑانے کی مدت چوبیس 24 مہینے ہوتی ہے۔ سیدنا عمرؓ نے یہ استنباط سن کر اس عورت کو معاف کر دیا اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی کبھی ماں کے پیٹ میں حمل نو 9 مہینے سے زیادہ بھی رہتا ہے۔ آپؓ کے پاس ایسی ہی عورت کا معاملہ پیش ہوا، اس کا شوہر دو سالوں سے غائب تھا، جب وہ گھر واپس آیا تو بیوی حاملہ تھی، آپؓ نے اسے رجم کرنے کا ارادہ کیا، تو سیدنا معاذ بن جبلؓ نے آپؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ عورت پر حکم نافذ کر سکتے ہیں لیکن پیٹ میں پلنے والے بچے کا کیا قصور ہے۔ چنانچہ آپؓ نے اسے اس وقت جانے دیا پھر لڑکے کی ولادت ہوئی تو اس کے دونوں اگلے دانت نکلے ہوئے تھے اور شوہر نے بچے کو اپنے مشابہ پایا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: عورتیں معاذ جیسے لوگوں کو پیدا کرنے سے بانجھ ہو گئی ہیں، اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 371 ) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ حمل کی اکثر مدت چار سال قرار دیتے تھے، اس لیے کہ جس عورت کا خاوند گم ہو گیا ہو اسے آپؓ حکم دیتے تھے کہ چار سال تک انتظار کرو، پھر شوہر کی وفات کی عدت گزارو۔ علامہ ابن قدامہؒ اس سلسلہ میں حضرت عمرؓ کا مسلک لکھتے ہیں کہ مفقود غائب ہو جانے والے کی بیوی حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت یعنی چار سال انتظار کرے گی، پھر چار مہینے دس دن یعنی وفات کی عدت گزارے گی اور پھر دوسروں سے نکاح کے لائق ہو جائے گی۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 371) آپؓ نے اسے رجم کرنے کا ارادہ کیا، تو سیدنا معاذ بن جبلؓ نے آپؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ عورت پر حکم نافذ کر سکتے ہیں لیکن پیٹ میں پلنے والے بچے کا کیا قصور ہے۔ چنانچہ آپؓ نے اسے اس وقت جانے دیا پھر لڑکے کی ولادت ہوئی تو اس کے دونوں اگلے دانت نکلے ہوئے تھے اور شوہر نے بچے کو اپنے مشابہ پایا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: عورتیں معاذ جیسے لوگوں کو پیدا کرنے سے بانجھ ہو گئی ہیں، اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 371)

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ حمل کی اکثر مدت چار سال قرار دیتے تھے، اس لیے کہ جس عورت کا خاوند گم ہو گیا ہو اسے آپ حکم دیتے تھے کہ چار سال تک انتظار کرو، پھر شوہر کی وفات کی عدت گزارو۔ علامہ ابن قدامہؒ اس سلسلہ میں حضرت عمرؓ کا مسلک لکھتے ہیں کہ مفقود غائب ہو جانے والے کی بیوی حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت یعنی چار سال انتظار کرے گی، پھر چار مہینے دس دن یعنی وفات کی عدت گزارے گی اور پھر دوسروں سے نکاح کے لائق ہو جائے گی۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 371)