شخصی ملکیت پر پابندیاں لگانا تاکہ اس کے استعمال میں بے راہ روی نہ ہو
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جن فاروقی اجتہادات کو سبقت حاصل ہے اور جن میں ذاتی مفادات پر عوامی مفادات کی ترجیحات نمایاں ہیں، نیز جن میں ذاتی ملکیت پر چند پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تاکہ اس کے استعمال میں بے راہ روی نہ ہو، انہی میں سے ایک مثال وہ واقعہ بھی ہے جسے امام مالکؒ نے اپنی کتاب ’’الموطا‘‘ میں نقل کیا ہے: ’’عمر بن یحییٰ المازنی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ضحاک بن خلیفہ نے اپنے لیے پانی لے جانے کی ایک کشادہ نالی کھو دی اور چاہتے تھے کہ محمد بن مسلمہؓ کی زمین سے ہو کر یہ نالی آگے نکل جائے، لیکن محمد بن مسلمہؓ نے نالی کے لیے اپنی زمین دینے سے انکار کر دیا، تو ضحاک نے ان سے کہا: آپ مجھے کیوں روکتے ہیں، اس میں آپؓ کے لیے بھی فائدہ ہے۔ پانی لے جاتے وقت اور بند کرتے وقت، یعنی شروع اور آخر میں آپؓ اس سے اپنی کھیتی سیراب کر سکتے ہیں اور اس سے آپؓ کو کوئی نقصان نہ ہو گا، لیکن محمد بن مسلمہؓ نے اجازت نہیں دی۔ چنانچہ ضحاک نے حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس یہ معاملہ پیش کیا، حضرت عمرؓ نے محمد بن مسلمہؓ کو طلب کیا اور حکم دیا کہ ضحاک کو پانی لے جانے دیں۔ لیکن محمد بن مسلمہؓ نے کہا: نہیں، میں اجازت نہیں دوں گا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم اپنے بھائی کے لیے ایسی چیز کیوں بند کرتے ہو جو اس کے لیے فائدہ مند ہے اور تمہارے لیے بھی مفید ہے، شروع میں اور آخر میں تم اس سے اپنی کھیتی سیراب کر لو، تمہیں اس سے کوئی نقصان ہونے والا نہیں۔ لیکن محمد بن مسلمہؓ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم میں اجازت نہیں دوں گا۔ تو حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم! وہ نالی ضرور لے جائیں گے چاہے تمہارے پیٹ پر سے گزر کر جائے۔ پھر آپؓ نے ضحاک کو نالی لے جانے کا حکم دیا اور ضحاک نے نالی بنالی۔‘‘
(الموطا: جلد 2 صفحہ 746۔ اسعاف المبط برجال الموطا: صفحہ 638، 639)
دراصل حضرت عمرؓ کا یہ فیصلہ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی اس حدیث پر قیاس تھا کہ جس میں نبیﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:
لَا یَمْنَعُ جَارٌ جَارَہٗ اَنْ یَّغْرِزْ خَشَبَہٗ۔
ترجمہ:’’تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔‘‘
پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تم کو اس سے اعراض کرنے والا دیکھ رہا ہوں۔ اللہ کی قسم! اگر اس کی اجازت نہ دو گے تو میں تمہارے کندھوں کے درمیان اسے گاڑوں گا۔
(سبل السلام شرح بلوغ المرام: جلد 3 صفحہ 60۔ بخاری: رقم الحدیث: 2463)
اس واقعہ سے یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ سیدنا عمرؓ کا عمل قیاس اولیٰ پر مبنی تھا، اس لیے کہ پڑوسی کو اپنے پڑوسی کے لیے لکڑی گاڑنے سے روکنے کی ممانعت میں اگرچہ جس کی دیوار میں لکڑی گاڑی جا رہی ہے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے، جب کہ پانی کی نالی گزرنے کی صورت میں نقصان نہ ہونے کے ساتھ ساتھ فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اس لیے آپؓ نے قیاس اولیٰ پر عمل کیا۔ چنانچہ ہمارے دور کے ایک ماہر عالم احمد ابراہیم کا یہی خیال ہے کہ اس قضیہ میں حضرت عمرؓ نے موجودہ دور میں ’’ضابطۂ فوجداری‘‘ کہے جانے والے اصول کی رو سے فیصلہ دیا۔
(علم أصول الفقہ وتاریخ التشریع الإسلامی: صفحہ 39) عبدالسلام سلیمانی کا خیال ہے کہ یہ واقعہ موجودہ دور کے مغربی عدالتی قانون ’’دفعہ برائے ملکیت کا بے جا استعمال‘‘ کے تحت آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مغربی عدالتی قانون کے وجود میں آنے سے کئی صدیاں پیشتر ہی مسلمان اس اصول کو عملی جامہ پہنا چکے ہیں۔ انہوں نے اسے حضرت ابو ہریرہؓ کی گزشتہ حدیث سے سیکھا تھا، حضرت عمرؓ نے حدیث کے حکم کو عام کرتے ہوئے پڑوسی کی ہر ملکیت سے دوسرے ضرورت مند پڑوسی کو فائدہ اٹھانے کا حق دیا، خواہ وہ گھر ہو یا زمین، جب کہ بعض علماء کا خیال ہے کہ بغیر پڑوسی کی اجازت کے اس کی ملکیت کے سامان سے فائدہ اٹھانا درست نہیں ہے۔