مذکورہ واقعہ کے چند پہلو قابل غور اور باعث عبرت ہیں
علی محمد الصلابیاس واقعہ کا شمار سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قضائی اجتہاد میں ہوتا ہے کیونکہ یہ فیصلہ آپؓ نے اس وقت دیا جب محمد بن مسلمہؓ نے نرمی و اخوت کے ساتھ مطالبہ کو پورا نہ کیا اور ضحاکؓ نے یہ قضیہ حضرت عمرؓ کے سامنے پیش کیا اور حضرت محمد بن مسلمہؓ کو حضرت عمرؓ کی عدالت میں طلب کیا گیا۔
سیدنا عمرؓ نے اس واقعہ میں اٹکل پچو فیصلہ نہیں دیا، بلکہ معاملہ کی تحقیق کر لی، پیچیدگی کو سمجھ لیا اور متاکد ہو گئے کہ مدعا علیہ اپنے انکاری مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے، حالانکہ اس کی کوئی معقول وجہ اور کوئی نقصان نہیں ہے، بلکہ اس کا فائدہ ہی ہے اور اس میں دونوں کا مفاد ہے، ایسی صورت میں مدعا علیہ کی ضد مفاد عامہ کے حق میں رکاوٹ بن کر سامنے آ رہی ہے۔ گویا ذاتی ملکیت کا بے جا استعمال ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ تنگ نظری برتی جا رہی ہے، اس لیے آپؓ نے سختی کا رویہ اپنایا، آپؓ امت مسلمہ کے ہر فرد کے افادۂ عام کے لیے قطعاً کسی طرح کی کوتاہی نہیں برتتے تھے۔
سیدنا عمر بن خطابؓ نے محمد بن مسلمہؓ کے ساتھ شروع میں نرمی کا برتاؤ کیا، اسلامی بھائی چارگی کے حوالے سے انہیں سمجھایا اور پوری کوشش کی کہ صحیح اور مناسب بات مانی جائے، لیکن جب محمد بن مسلمہؓ نے اس نرمی کا جواب سختی سے دیا اور اپنی بات پر بضد رہنے کے لیے قسم کھا لی، بالفاظ دیگر انہوں نے خلیفہ کے حکم و مشورہ کو چیلنج کر دیا، تو حضرت عمرؓ نے اپنی ذمہ داری کے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے سخت رد عمل ظاہر کیا کہ منصب خلافت کا وہ دبدبہ محفوظ رہے جسے آپؓ صرف حقوق کی حفاظت اور تمام مسلمانوں کے افادۂ عام کی خاطر ہی استعمال کرتے تھے۔
(الاجتہاد فی الفقہ الاسلامی: صفحہ 141، 142)