سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین شمار کیا
علی محمد الصلابیحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں۔ پھر سیدنا عمرؓ نے فرمایا: لوگ اس معاملے میں جلدی کرنے لگے ہیں جس میں ان کے لیے مہلت تھی، لہٰذا اگر ہم اسے ان پر نافذ کر دیتے تو اچھا ہوتا چنانچہ آپؓ نے ایسا ہی کردیا۔
(صحیح مسلم: الطلاق: حدیث1472)
ابو صہباء سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ عہد نبوت، عہد صدیقی اور خلافت فاروقی کے ابتدائی تین سالوں میں تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں؟ حضرت ابن عباسؓ نے جواب دیا: ہاں۔
(صحیح مسلم: الطلاق: حدیث 1472 )
مذکورہ دونوں آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے زمانے سے معمول بہ طریقہ یعنی ایک لفظ یا ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ماننے کے خلاف حضرت عمرؓ نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین شمار ہوں گی اور اس تعزیری و تادیبی کارروائی کی وجہ یہ تھی کہ آپؓ نے دیکھا کہ لوگ تین طلاقیں ایک ساتھ کثرت سے دینے لگے ہیں، تو ضروری سمجھا کہ ان پر سختی کر کے انہیں مسنون و شرعی طریقۂ طلاق کی طرف لوٹایا جائے اور وہ طریقہ یہ (طلاق کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو بحالت طہر جس میں ہم بستری نہ کی ہو، بوقت ضرورت ایک طلاق دی جائے، اب اگر عدت کے اندر رجوع کرنا چاہے تو کر لے اور عدت گزر جانے کے بعد طرفین آزاد ہیں، اگر دونوں دوبارہ رشتۂ زوجیت میں آنا چاہتے ہیں تو طرفین کی رضا سے تجدید نکاح کرنا ہو گا، اگر پھر دوبارہ طلاق کی نوبت آ گئی تو پھر عدت کے اندر رجعت اور عدت کے بعد تجدید نکاح کے ذریعہ رشتہ زوجیت سے منسلک ہو سکتے ہیں ، لیکن اگر تیسری بار پھر طلاق کی نوبت آ گئی تو پھر نہ رجعت کا حق ہو گا اور نہ تجدید نکاح کا۔ مترجم) ہے کہ ایک طلاق دینے کے بعد عورت کو چھوڑ دیا جائے رجعت نہ کی جائے یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو جائے لیکن اگر وہ اس کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے یا رشتۂ زوجیت میں رکھنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ عدت پوری ہونے سے پہلے اس کی طرف رجوع کر لے یہاں تک کہ تین طلاقیں پوری ہو جائیں۔
(القضاء فی عہد عمر بن الخطاب: دیکھئے ناصر الطریفی: جلد 2 صفحہ 733)
ڈاکٹر عطیہ مصطفیٰ مشرفہ جیسے بعض لوگوں نے حضرت عمرؓ کے اس اقدام کو نصوص شرعیہ کے مخالف قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے: ’’حضرت عمرؓ رائے و اجتہاد پر عمل کرنے میں بہت جری تھے اگرچہ وہ آراء و اجتہادات بعض نصوص شرعیہ اور معمول بہ طور طریقہ کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں، اس سے آپؓ کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی حکم جدید اسلامی معاشرہ کے تقاضوں کے موافق ہو جائے۔‘‘
اور پھر ڈاکٹر موصوف نے ایک لفظ یا مجلس میں تین طلاقوں کے تین شمار کرنے کی فاروقی کارروائی کو بطور مثال ذکر کیا ہے۔
(القضاء فی الإسلام: صفحہ 98، 99)
لیکن صحیح اور حق بات یہ ہے کہ آپ کا یہ اقدام نصوص قطعیہ کے بالکل مخالف نہ تھا بلکہ چند معتبر شرعی دلائل و امثال کی بنیادوں پر آپؓ نے شرعی نص کے سمجھنے میں اجتہاد کیا تھا، مثلاً:
1۔ امام مالک نے اشہب سے، انہوں نے قاسم بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ ان سے یحییٰ بن سعید نے اور ان سے ابن شہاب نے اور ان سے ابن مسیب نے بیان کیا ہے کہ نبی کریمﷺ کے زمانے میں قبیلۂ اسلم کے ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ اس سے چند صحابہ کرامؓ نے کہا: تمہیں اسے لوٹانے کا اختیار ہے۔ چنانچہ اس کی بیوی نبی کریمﷺ کے پاس آئی اور کہا: میرے شوہر نے ایک ہی کلمہ میں تین طلاقیں دے دی ہیں، اب میں کیا کروں؟ آپﷺ نے اس سے فرمایا:
قَدْ بَنْتِ مِنْہُ وَلَا مِیْرَاثَ بَیْنَکُمَا۔
(المدونۃ الکبریٰ: الطلاق: طلاق السنۃ: جلد 2 صفحہ 62۔ یہ روایت مرسل ہے۔ لیکن سعید بن مسیب کے مراسیل میں سے ہے جسے محدثین نے قابل قبول مانا ہے۔)
ترجمہ: ’’تم اس سے جدا ہو گئی، تم دونوں کے درمیان کوئی میراث نہیں۔‘‘
اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک کلمہ میں دی جانے والی تین طلاقوں کو تین شمار کیا۔
2۔ امام نسائیؒ نے اپنی سند سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ کو ایک آدمی کے بارے میں خبر دی گئی کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں ایک ساتھ دے دی ہیں، آپﷺ بہت سخت غصہ ہوئے اور فرمایا:
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین شمار کیا۔
ترجمہ: ’’کیا اللہ کی کتاب سے کھلواڑ کیا جائے گا، حالانکہ میں تمہارے درمیان ابھی موجود ہوں۔‘‘
یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: ’’اے اللہ کے رسول کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟‘‘
(سنن النسائی: الطلاق الثلاث المجموعۃ: جلد 6 صفحہ 163، رقم الحدیث: 3401۔ حافظ ابنِ حجرؒ نے اس کے رجال کو ثقہ کہا ہے۔ دیکھئے: فتح الباری: جلد 9 صفحہ 362۔ حافظ ابن قیمؒ کا کہنا ہے کہ اس کی سند مسلم کی شرط پر ہے۔ دیکھئے: زاد المعاد: جلد 5 صفحہ 241۔ شیخ البانی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے، دیکھئے ضعیف سنن النسائی۔ اس روایت کو صحیح مان لینے کی صورت میں بھی مصنف کا استدلال عجیب ہے کہ سخت ناراضگی کا اظہار کرنے کے باوجود ان دی ہوئی طلاقوں کو صحیح مان لیا، حالانکہ آپﷺ کی ناراضگی اس کی عدم شرعیت کی دلیل ہے کیونکہ یہ فعل غیر مشروع ہے، اور جب غیر مشروع ہے تو پھر اس کے وقوع کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ جب کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌّ۔ رواہ مسلم: 1718۔ جو کوئی ایسے عمل کا ارتکاب کرے جو ہمارے طریقے کے خلاف ہے وہ مردود ہے۔ مترجم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس آدمی نے ایک ہی لفظ میں تین طلاقیں ایک ساتھ دے دی تھیں رسول اللہﷺ اس پر بہت سخت ناراض ہوئے اور اس کو ڈانٹا۔ پس آپﷺ کی ناراضی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ طلاقیں واقع ہو گئی تھیں، کیونکہ وہاں بیان اور وضاحت کی ضرورت تھی، اگر وہ واقع نہ ہوتیں تو آپﷺ اس کو ضرور بیان کرتے اور اصول فقہ کا یہ قاعدہ بھی ہے کہ جس مقام و وقت پر بیان و وضاحت کی ضرورت ہو اسے بلا کسی مجبوری کے وہاں سے مؤخر کرنا درست نہیں ہے۔
(القضاء فی عہد عمر بن الخطاب: جلد 2 صفحہ 736 )
3۔ نافع بن عمیر بن عبدیزید بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبدیزید نے اپنی بیوی سہیمیہ کو طلاق بتہ دے دی اور پھر نبی کریمﷺ کو اطلاع دیتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم میں نے اس سے صرف ایک طلاق کی نیت کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَاللّٰہِ مَا اَرَدْتَّ اِلَّا وَاحِدَۃً؟
ترجمہ: ’’اللہ کی قسم! کیا یقیناً تم نے ایک ہی کی نیت کی تھی؟‘‘
رکانہ نے جواب دیا:
’’قسم اللہ کی، میں نے ایک ہی کی نیت کی تھی۔‘‘
پھر آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان کے پاس واپس کر دیا اور رکانہ نے پھر حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں اپنی بیوی کو دوسری طلاق اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں تیسری طلاق دی۔
(سنن أبی داؤد: باب فی البتۃ: جلد 1 صفحہ 511، رقم الحدیث: 2206۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ جریج کی سند سے آئی ہوئی روایت جس میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی تھیں اس کے مقابلے میں یہ حدیث زیادہ صحیح ہے۔ اس لیے کہ اس حدیث کو نقل کرنے والے رکانہ کے اہل خانہ ہیں اور وہ واقعہ سے زیادہ آگاہ ہیں ۔ امام نوویؒ کا کہنا ہے کہ دوسری روایت جس میں ہے کہ رکانہ نے تین طلاقیں دی تھیں، پھر اس کو ایک شمار کیا تھا، سو یہ روایت ضعیف ہے، اس میں مجہول راوی ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ’’طلاق بتہ‘‘ دی تھی، اور ’’بتہ‘‘ کا لفظ ایک اور تین دونوں کو محتمل ہے۔‘‘ شرح النووی: جلد 10 صفحہ 71۔ یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں نافع بن عجیر ہیں ابن حبان کے علاوہ کسی نے ان کی توثیق نہیں کی ہے اور ابن قیم نے انہیں مجہول قرار دیا ہے۔ زاد المعاد: جلد 2 صفحہ 263۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: جلد 2 صفحہ 147)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رکانہ نے اپنی بیوی کو ’’طلاق بتہ‘‘ دے دی اور کہا کہ میری نیت ایک طلاق دینے کی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بات پر قسم لی کہ کیا واقعتاً تم نے ایک ہی کی نیت کی تھی؟ اور جب انہوں نے قسم کھا لی تو آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان کے پاس واپس کر دیا۔ پس آپﷺ کا حلفیہ بیان لینا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر ’’طلاق بتہ‘‘ سے انہوں نے تینوں طلاقوں کی نیت کی ہوتی تو وہ واقع ہو جاتیں، ورنہ نیت پر حلفیہ بیان لینے کے کوئی معنیٰ نہیں رہ جاتے۔ بہرحال مذکورہ دلائل و امثال کی روشنی میں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطابؓ نے طلاق سے متعلق مذکورہ اقدام رسول اللہﷺ کی سنت کی روشنی میں کیا تھا، اور ایک لفظ میں تین طلاقوں کو تین شمار کر کے آپؓ نے اپنی طرف سے کوئی بدعت ایجاد نہیں کی۔ نیز واضح رہے کہ آپؓ کے اس اقدام کی توثیق و تائید کرنے والے عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن مسعود اور عمران بن حصین جیسے بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے اور ان سے اس سلسلہ میں کئی کئی روایات وارد ہیں۔
خلاصہ یہ کہ ایک لفظ میں یا متعدد الفاظ میں تین طلاقیں دینا مثلاً اس طرح کہا جائے کہ تجھے تین طلاق، یا تجھے طلاق، طلاق، طلاق یا تجھے طلاق، پھر طلاق، پھر طلاق، یا یوں کہا جائے کہ تجھے طلاق ہے، تین، دس، سو، یا ہزار طلاقیں، یا اس طرح کی کوئی بھی تعبیر اختیار کی جائے، یہ مسئلہ حاکم کے اجتہاد پر موقوف ہے۔ وقت اور زمانہ کے مفاد کی رعایت کرتے ہوئے جیسا مناسب سمجھے فیصلہ کرے۔ انہیں تین طلاق شمار کرے یا ایک طلاق، طلاق رجعی۔
(الفقہاء فی عہد عمر بن الخطاب: جلد 2 صفحہ 736، 739)
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: مسئلہ طلاق میں حضرت عمرؓ نے اپنے متقدمین صحابہ کرامؓ کے اجماع کی مخالفت نہیں کی، بلکہ اس معاملہ میں عجلت کرنے والوں کے لیے بطور سزا تینوں طلاقیں نافذ کر دینا مناسب سمجھا، کیونکہ بلا کسی شرعی وجہ جواز کے طلاق دینے کی حرمت سب کو معلوم تھی۔ تاہم ان میں اس کا عام چلن ہوتا جا رہا تھا اور بلاشبہ ان حالات میں ائمہ وقت حکام کو یہ اختیار ہے کہ لوگ جس مشقت کو خود مول لینے پر تلے ہوئے ہوں اور اللہ کی نرمی و رخصت قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں وہ انہیں اسی کا پابند کر دے۔
(زاد المعاد: جلد 5 صفحہ 270۔ طلاق سے متعلق سیدنا عمر بن خطابؓ کی کارروائی سے متعلق امام ابن قیمؒ کا مؤقف ہی راجح ہے کہ یہ ایک تعزیری اقدام تھا، تاکہ لوگ ایک ساتھ ایک سے زیادہ طلاق دینے سے باز آ جائیں اور حاکم کو اس طرح تعزیری قانون نافذ کرنے کا اختیار ہے شریعت نے حاکم کو اس کا حق دیا ہے۔ مترجم)