شیعہ  مناظرکے پاس  جب مزید کچھ نہ رہا تو بریک کے دوران…

شیعہ  مناظرکے پاس  جب مزید کچھ نہ رہا تو بریک کے دوران بھیجے گئے چارٹ پرہی  گفتگو شروع کردی!!

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

  رانا محمد سعید شیعہ  : دلائل دینے میں جو خیانتیں کی ہیں انکا جواب  کون دے گا ؟؟؟؟

  جعفر صادق: اپنی خباثت کے مجھ سے اسکرین شاٹ مانگیں،ابھی ثابت کرسکتا ہوں آپ کی خباثت۔  میری  خیانتیں لکھیں۔  نمبر ڈال کر لکھیں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : جی محترم آپ تو چاہتے ہیں کہ ادھر ادھر کا میلہ لگا رہے لیکن   اصل پوائنٹ پر آئیے ۔

  جعفر صادق:  تین دن مسلسل بے حساب جواب دینے کے بعد آپ کا  یہ جواب خباثت نہیں تو کیا ہے۔ وضاحت کردیں۔   میں ہرگز نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔ لیکن ماحول آپ خراب کرتے ہیں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : دو دن کی رخصت آپ نے اپنی مرضی سے دی تھی یا میں نے مانگی تھی ؟؟؟؟

  جعفر صادق: آپ کو آفر دی گئی۔۔کیونکہ آٹھ گھنٹے جواب دینے کے بعد بھی آپ کو مزید وقت درکار تھا۔

کیا یہ درست نہیں ہے؟

 رانا محمد سعید شیعہ : دو دن کی رخصت آپ نے مرضی سے دی تھی یا میں نے مانگی تھی ؟؟؟؟

  جعفر صادق: نیکی کر،دریا میں ڈال۔ آپ جیسوں سے نیکی کر کے بھی بندہ پشیمان ہوتا ہے کہ نیکی کیوں کی۔۔

قارئین! دو دن مزید رخصت دی گئی تو  رانا سعید شیعہ نے شکریہ بھی ادا کیا تھا! اب موصوف کو وہ رخصت مہربانی نہیں لگ رہی !! یہ ہے شیعوں کی اصل خباثت!!

  رانا محمد سعید شیعہ : کیسی نیکی ؟؟؟ جبکہ اب بدلے میں مجھے خباثت کا طعنہ دے رہے ہو۔  یہ تو عین لعنتیوں والا کام ہے۔

 جعفر صادق: مطلب آپ کو وقت درکار نہیں تھا۔میرا دماغ خراب تھا ،زبردستی دو دن دئے کہ جتنے چاہیں میسیج کرتے رہیں؟حالانکہ شرائط کے مطابق  مہلت تیاری کے لئے تھی،آپ دو دن مزید  لگاتار  میسیجز کرتے رہے، پھر بھی  میں نے ڈسٹرب نہیں کیا،حد تو یہ ہے کہ ایک بھی دلیل کام کی نہ تھی۔   مدعے پر آئیں۔    شیعیت کے عقائد ثابت کریں۔    میرے دلائل کا رد آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔

  رانا محمد سعید شیعہ : حمید سے پوچھیئے میں نے اعلان نہیں کیا تھا کہ میں نے ٹرن روک دی ہے ۔ ممتاز سے کہیں اپنی ٹرن شروع کرے۔    آپ دلائل میں موجود خیانتوں پر بات کرنے سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟

  جعفر صادق: کن الفاظ میں ٹرن ختم کرنے کا اعلان کیا تھا؟ اوپر نیچے کیا لکھا تھا؟

 یہ پڑھیں۔۔۔ آپ کا آٹھ گھنٹے میسیجز کرنے کے بعد بھی رونا دھونا کہ جوابات ابھی دینے ہیں پھر اجازت دینے کا انداز! 



رانا سعید شیعہ کا شکوہ کہ دلائل میں خیانتیں کی گئی ہیں! استفسار پر چارٹ کے حوالے سےاعتراض پیش کردیا یعنی  اہل سنت دلائل میں خیانتیں  نہیں کی گئی تھیں!

  جعفر صادق: بس اب میری  ان خیانتوں  کی نشاندھی کرتے جائیں۔   اور کوئی بات نہیں سنوں گا۔

 رانا محمد سعید شیعہ :  یہ مبنی بر خیانت ہے۔ جن دلائل پر آپکی ساری ٹرنین کھڑی ہیں وہی خیانت کاری پر منحصر ہیں تو آگے کیسے چلیں۔  اسکا جواب دیں۔

  جعفر صادق:اسے خیانت  ثابت کریں۔

    اوپر دلیل بمعہ استدلال موجود ہیں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : تو میں نے روک دی تھی نا ٹرن ۔ خیر چھوڑیئے اور مدعے پر آئیے

  جعفر صادق: منتظر ہوں،خیانت ثابت کریں۔  ثابت کریں گے، یا بس آپ کا کہہ دینا کافی ہے۔اب مجھ سے نرمی کی امید نہ رکھئے گا ، آپ لوگوں کو بچپن سے اعتراضات ہی سکھائے جاتے ہیں۔ہم بچپن سے اعتراضات کا رد سیکھتے ہیں۔

یہ ہے اصل فرق۔۔ 

 رانا محمد سعید شیعہ بداخلاق:  شیخ اشعری قمی لکھتے ہیں اول فرقہ شیعہ جو علی ع کے شیعہ تھے وہ رسول ﷺ کے زمانے میں ہوئے جنہوں نے *علی ع کیلئے امامت* کا قول اختیار کیا ۔ پھر لکھا ان میں سے ہی عمار ، سلمان ، مقدار اور ابوذر تھے۔ ابن سباء کیا زمانہ رسالت میں تھا ؟؟؟؟

   جعفر صادق: اسے فی الحال  سائیڈ پر رکھیں۔میری خیانت ثابت کریں۔
 رانا محمد سعید شیعہ : جو بھی فضول بولنا بولیں لیکن بات مدعے پر کریں ۔  سبحان اللہ ۔ محترم یہ آپ کی خیانت ہی پیش کی ہے جس پر آپ اب گفتگو کرنے سے بھاگ رہے

ہیں اور مسلسل بھاگیں گے۔

  جعفر صادق: چارٹ میں کیا لکھا ہے؟  وہ جملے  اردو میں ہے۔ لکھیں یہاں پر

  رانا محمد سعید شیعہ : آپکو نظر نہیں آ رہا ؟؟؟

  جعفر صادق: اس کے بعد آپ کی دلیل پر اشکال پیش کرتا ہوں۔

  آپ کو جو خیانت لگ رہی ہے۔۔اسے لکھیں۔    *کیا آپ انکار کرتے ہیں کہ اس کتاب میں یہ سب نہیں لکھا ہوا؟*

  رانا محمد سعید شیعہ : اعتراف کا لفظ ہی خیانت ہے ، پھر آگے یہ خیانت ہے کہ ابن سباء نے آغاز کیا۔

 جعفر صادق: مطلب اعتراف نہیں لکھا؟

  رانا محمد سعید شیعہ : جی کتاب میں یہ لفظ نہیں لکھے ہوئے ۔ نا ہی یہ اعترافی ہے۔

 جعفر صادق: اچھا مطلب آپ نے ابھی جو اشعری کا اسکین پیش کیا ہے ، اس  میں اعتراف  کا لفظ ہے؟

رانا سعید شیعہ نے  جو اشکال  پیش کیا وہی اشکال خود پر لاگو کرنے سے  فرار!

  رانا محمد سعید شیعہ : آپ کے ساتھ شاید دماغی مسئلہ کے ساتھ ساتھ آنکھوں کا بھی مسئلہ ہے ۔ نہیں بلکہ آپ کا اصل مسئلہ ہے دجل و فریب ۔کتاب کا منہج ہے کہ اسلامی فرقوں کا بیان ۔ اس میں سے آپ من مانی چیزوں کو اعترافی بیان کی حیثیت دیکر جو خیانت اور دجل کے مرتکب ہیں وہ اہل علم شیعہ سنی حضرات پر عیاں ہے۔

  جعفر صادق: اب آجائیں آپ کی دلیل کی طرف۔


   رانا محمد سعید شیعہ : رکو نا،  یہی تو خیانت ہے۔

  جعفر صادق: کونسی خیانت،لکھتے بھی نہیں ہو۔

  رانا محمد سعید شیعہ:   جب مصنف تصریح کے ساتھ لکھ رہا ہے کہ بعض اہل علم نے حکایت کی کہ ابن سباء ۔ ۔ ۔ اسے اعترافی بیان کہہ کر واضح خیانت ہے ۔   ایسے ہی کشی کے نقل کرنے کو آپ نے تائید ، عقیدہ ، اعتراف اور اس جیسے دیگر الفاظ عطا کر دیئے۔  واضح خیانت۔

 جعفر صادق: بعض اہل علم پر گفتگو ہوچکی ہے۔ وہ بعض کذاب لاعلم نہیں تھے۔    میں نے کونسی خیانت کی ہے؟

 رانا محمد سعید شیعہ : یہ آپ نے کیسے طے کر لیا جبکہ ان کا کوئی اتا پتا کوئی نام مذکور نہیں،    نقل کو اعتراف قرار دیا یہ بدترین خیانت ہے۔

 جعفر صادق: مطلب آپ اپنے علماء کے جو بھی   اقوال دکھائیں ،  وہ اعترافات  ہوں گے، میں اگر اقوالات  دکھاؤں گا  تو وہ تردید ہوں گے ۔؟

    چلیں قارئین فیصلہ کر لیں گے۔اب اپنے اسکین پر آئیں۔

 رانا محمد سعید شیعہ : نہیں بالکل نہیں ۔ اعتراف وہی ہوگا جو حقیقتا اعتراف ہوا ۔ جو خبر یا قول نقل ہوگا اسے بغیر تصریح کے اعتراف یا تائید کہنا خیانت اور مکاری کے سوا کچھ نہیں۔





 

(شیعہ کا سوال:یہ آپ نے کیسے طے کر لیا ؟  جبکہ ان بعض  کا کوئی اتا پتا کوئی نام مذکور نہیں؟ )

صفحہ 2 از 3