Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی چند فقہی ترجیحات

  علی محمد الصلابی

محکمۂ قضا میں قصاص، حدود، انسداد جرائم، اور تعزیرات تادیبی سزاؤں کے باب میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مخصوص اجتہادی نقوش ہیں۔ اسی طرح فقہ اسلامی کی نشوونما میں آپؓ کی وسعت علمی، دینی فقہ کی گہرائی اور اسلامی اسرار و مقاصد کی واقفیت پر مبنی آپؓ کے فقہی اجتہادات کا بڑا اثر ہے، یوں تو اسلامی فقہ میں جن مسائل میں آپؓ کی ذاتی ترجیحات ہیں ان کی تعداد کافی ہے، لیکن یہاں صرف چند مسائل کا ذکر کیا جا رہا ہے:

1۔ مردار جانور کا چمڑا دباغت دینے سے پاک ہو جائے گا، بشرطیکہ وہ زندگی کی حالت میں پاک جانوروں میں سے رہا ہو۔

2۔ لومڑی کے چمڑے میں نماز ادا کرنا حرام ہے۔

3۔ سورج ڈھلنے کے بعد روزے دار کے لیے مسواک کرنا حرام نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے۔

4۔ دونوں موزوں یا ان کے قائم مقام چیزوں پر مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن اور تین رات مسح کرنا جائز ہے۔

5۔ موزوں پر سابقہ مسح کی مدت ختم ہونے اور مسح جدید کی مدت کے آغاز کا اعتبار حدث وضو ٹوٹنے کے بعد سے ہو گا۔

6۔ سورج ڈھلنے کے بعد جمعہ کا وقت شروع ہو گا۔

7۔ شرم گاہ چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

8۔ عید الاضحیٰ کی تکبیر کا وقت عرفہ کے دن فجر سے شروع ہوتا ہے اور ایام تشریق کے آخری دن عصر کے وقت ختم ہوتا ہے۔

9۔ ابوبکر اور عمر دونوں کے نزدیک جنازہ کے آگے آگے چلنا افضل ہے۔

10۔ بچے اور جوان پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔

11۔ بیع وشراء میں بائع و مشتری کو عقد بیع فسخ کرنے یا نافذ کرنے کا اختیار ہے، بشرطیکہ ابھی مجلس ختم نہ ہوئی ہو۔

12۔ حیوانات میں بیع سلم جائز ہے۔ ( بیع سلم میں قیمت پیشگی دے دی جاتی ہے اور مال بعد میں لیا جاتا ہے۔ مترجم)

13۔ مرتہن اگر یہ شرط لگائے کہ وقت پورا ہو جانے پر اگر قرض کی ادائیگی نہ ہوئی تو قرض کے بدلے رہن رکھا ہوا مال مرتہن کا ہو جائے گا، تو یہ شرط فاسد ہے۔

14۔ اگر قرض خواہ مفلس (مفلس وہ شخص جس کا دیوالیہ ہوگیا ہو۔) کے پاس قرض میں دیا ہوا اپنا مال پائے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ 

15۔ بچی اگر بالغ ہو جائے تو بوجہ بلوغت اسے اس کا مال نہیں دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ شادی کر لے، یا اسے ولادت ہو جائے، یا شوہر کے گھر میں ایک سال کی مدت گزر جائے۔

16۔ اگر کوئی شخص چوپائے کی آنکھ پھوڑ دے تو وہ جانور کی قیمت کا چوتھائی حصہ 4/1 اس کے مالک کو ادا کرے گا۔ 

17۔ شفعہ صرف مشترکہ ملکیت میں جائز ہے، صرف پڑوسی ہونا شفعہ کے وجوب کے لیے کافی نہیں ہے۔

18۔ ہر قسم کے پھل دار درخت کو نصف، ربع، ثلث وغیرہ مشترکہ تمام حصوں کے عوض آب پاشی پر دیا جا سکتا ہے۔

19۔ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے نزدیک کپڑے کی اجرت پر نوکر رکھنا جائز ہے۔

20۔ ’’ہبہ‘‘ کا حکم اس وقت تک نہیں نافذ ہو گا جب تک کہ موہوب لہ کا اس پر قبضہ نہ ہو جائے۔

21۔ اگر کوئی آدمی کسی غیر ذی رحم عام آدمی کو کچھ ہبہ کر دے تو موہوب لہ کے اس پر قبضہ پانے سے پہلے ہبہ کرنے والے کو اس کا واپس لینا درست ہے، جب کہ ذی رحم قریبی رشتہ دار کو ہبہ کیے ہوئے مال کا واپس لینا درست نہیں ہے۔

22۔ لقطہ گری پڑی چیز کے اعلان کی مدت ایک سال ہے۔

23۔ لقطہ گری پڑی چیز اگر معمولی نوعیت کی ہو تو اعلان کیے بغیر اسے استعمال کر لینا اور رکھ لینا جائز ہے۔

24۔ اگر شریعت کی مقررہ مدت تک لقطہ کا اعلان کیا جائے اور اس کا کوئی مالک نہ مل سکے تو وہ مال پانے والے کا ہو جائے گا، وہ مال دار ہو یا فقیر۔

25۔ حدود حرم اور حدود حرم سے باہر کے لقطہ کا حکم یکساں ہے۔

26۔ گری پڑی چیز پانے والے کی امانت کا تقاضا ہے کہ یہ بتا دے کہ یہ مال اسے کس نے دیا۔

27۔ وصیت کردہ مال کو واپس لینا درست ہے، نیز آدمی اپنی وصیت میں تبدیلی کر سکتا ہے۔

28۔ ’’کلالہ‘‘ اس میّت کو کہتے ہیں جس کے نہ کوئی اولاد ہو اور نہ والدین۔

29۔ لڑکیوں کی موجودگی میں بہنیں عصبہ ہوں گی بشرطیکہ مال باقی بچے۔

30۔ اگر میت بیوی ہو اور اس کے ورثاء میں شوہر، ماں، سگے بھائی اور اخیافی بھائی ہوں تو قدیم و جدید ہر دور میں اس مسئلہ میں اختلاف رہا ہے۔ عمر، عثمان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم نے ثلث میں سگے بھائیوں کے ساتھ اخیافی بھائیوں کو بھی حصہ دیا ہے، اور لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ کے مطابق ہر ایک کو برابر برابر تقسیم کیا ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ سیدنا عمرؓ سگے بھائیوں کو ایسی حالت میں حصہ دینے کے قائل نہ تھے تو ان میں سے بعض نے کہا: اے امیر المؤمنین! مان لیں ہمارا باپ گدھا تھا، کیا ہماری مائیں ایک نہیں ہیں؟ تو آپؓ نے ان کو بھی شریک کر دیا۔ اسی وجہ سے علم المواریث میں اس مسئلہ کو مُشَرَّکۃ‘‘ اور ’’حماریہ‘‘ کہتے ہیں۔ 

31۔ جدات دادیوں کا حصہ 6/1 سدس ہے، ان کی تعداد خواہ کتنی بھی ہو، یہی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بھی قول ہے۔ 

32۔ ایک میت کے ورثاء میں اگر ماں، بہن، اور دادا ہوں تو بہن کو نصف 2/1 اور ماں کو باقی ماندہ مال کا 3/1 ثلث، پھر جو بچے وہ دادا کا ہے۔ 

33۔ ایک میت بیوی کے ورثاء میں شوہر اور میت کے ماں باپ ہوں تو شوہر کو نصف 2/1 اور ماں کو باقی ماندہ مال کا ثلث 3/1 اور پھر جو بچے وہ باپ کا ہے اور اگر میت شوہر ہے، تو بیوی کو ربع 4/1، ماں کو ثلث 3/1 اور بقیہ جائیداد باپ کی ہو گی۔ ان دونوں مسئلوں کو مسئلہ عمریہ کہا جاتا ہے، اس لیے کہ حضرت عمرؓ نے اس مسئلہ میں اسی طرح فیصلہ دیا تھا۔ 

34۔ اگر اصحاب الفروض اور عصبہ نہ ہوں تو ذوی الارحام قریبی رشتہ داروں میں وراثت تقسیم کر دی جائے۔

(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 754، 774 ) اسلامی فقہ و اجتہاد کے میدان میں انہی چند فاروقی فقہی ترجیحات پر بس کیا جاتا ہے، یہاں میں نے صرف بطور اشارہ انہیں ذکر کیا ہے ورنہ یہ مسائل کافی بحث و تحقیق اور تفصیل کے متقاضی ہیں۔