مسلمان عورت کا غیر مسلم مرد سے نکاح کرنا
مسلمان عورت کا غیر مسلم مرد سے نکاح کرنا
سوال: کسی مسلمان عورت کا کسی غیر مسلم مرد سے نکاح کرنا کیسا ہے؟ اگر اس عورت کو یہ یقین ہو کہ اس شادی کے نتیجے میں وہ مرد مسلمان ہو جائے گا تو کیا اس شخص کے مسلمان ہو جانے کی اُمید اور لالچ میں اس سے نکاح کرنا درست ہے؟ جبکہ دوسری طرف اس مسلمان عورت کو مسلمانوں میں کوئی برابری کا رشتہ نہ مل رہا ہو اور معاشی تنگی کی وجہ سے خود اس عورت کے دین سے منحرف ہونے کا امکان بھی ہو تو کیا ایسی صورت میں نکاح کے جواز میں کچھ گنجائش مل سکتی ہے؟
اگر کوئی عورت مسلمان ہو جائے اور اس کا شوہر کافر ہو تو کیا اس عورت کو اپنے شوہر سے علاقہ زوجیت برقرار رکھنے کی گنجائش ہے؟ جبکہ اُس عورت کو یہ اُمید ہے کہ علاقہ زوجیت باقی رکھنے کی صورت میں وہ اپنے شوہر کو اسلام کی دعوت دے کر مسلمان کر لے گی، جبکہ دوسری طرف اس عورت کی اپنی شوہر سے اولاد بھی ہیں اور علاقہ زوجیت ختم کرنے کی صورت میں ان کے خراب ہو جانے اور دین سے منحرف ہو جانے کا قویٰ احتمال موجود ہے، کیا ان حالات میں اس عورت کے لئے اپنے شوہر سے رشتہ زوجیت بر قرار رکھنے کی گنجائش ہے؟
اور اگر اس عورت کو اپنے شوہر کے اسلام لانے کی امید نہیں ہے، لیکن اسکا شوہر اس کے ساتھ اچھے اخلاق اور بہترین معاشرت کے ساتھ حق زوجیت ادا کر رہا ہے اور اس عورت کو یہ بھی ڈر ہے کہ اگر اس نے اپنے شوہر سے جُدائی اختیار کر لی تو کوئی مسلمان مرد اس سے شادی کرنے پر تیار نہیں ہو گا، کیا اس صورت میں مسئلہ کے جواز و عدمِ جواز پر کوئی فرق واقع ہو گا؟
جواب: کسی مسلمان عورت کا کسی غیر مسلم مرد سے نکاح کرنا کسی حال میں بھی جائز نہیں قرآن کریم کا واضح ارشاد موجود ہے وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّؕ وَلَاَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكَةٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡۚ وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا ؕ وَلَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكُمۡؕ (سورۃ البقرة آیت نمبر 221)
اور مشرکین سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور البتہ مسلمان غلام بہتر ہے مشرک سے، اگرچہ وہ تم کو بھلا لگے۔
دوسری جگہ ارشاد ہے لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّوۡنَ لَهُنَّ ۚ
(سورۃ الممتحنة آیت نمبر 10) نہ وہ عورتیں ان کافروں کے لئے حلال ہیں، اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لئے حلال ہیں۔
اور کسی کافر کے مسلمان ہو جانے کی صرف اُمید اور لالچ کسی مسلمان عورت کے لئے اس سے نکاح کرنے کی وجہ جواز نہیں بن سکتی ہے اور نہ ہی اس قسم کی خیالی اُمید اور لالچ کسی حرام کام کو حلال کر سکتی ہے۔
اسی طرح اگر کوئی عورت مسلمان ہو جائے جمہُور علماء کے نزدیک اس کے صرف اسلام لانے سے ہی نکاح ختم ہو جائے گا۔ البتہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک صرف اسلام لانے سے نکاح نہیں ٹوٹے گا، بلکہ عورت کے اسلام لانے کے بعد مرد کو اسلام کی دعوت دی جائے گی، اگر وہ بھی اسلام قبول کر لے تب تو نکاح باقی رہے گا اور اگر اسلام لانے سے انکار کر دے تو نکاح ٹوٹ جائے گا۔
اور اگر شوہر کچھ عرصہ بعد مسلمان ہو جائے تو دیکھا جائے گا اس عورت کی عدت گزر چکی ہے یا نہیں؟ اگر وہ عورت ابھی عدت میں ہے تو شوہر کے اسلام لانے سے پہلے نکاح لوٹ آئے گا، اور اگر اس کی عدت گزر چکی تھی تو اس صورت میں دونوں کے درمیان نکاحِ جدید کرنا ضروری ہو گا، نکاح کے بعد وہ دونوں بحیثیت میاں بیوی کے رہ سکتے ہیں۔ اس مسئلہ میں تمام فقہاء متفق ہیں۔ لہٰذا شوہر کے اسلام لانے کی موہوم اُمید اور لالچ کی بنیاد پر شریعت کا قطعی حکم نہیں بدلا جا سکتا۔
(فقھی مقالات جلد 1، صفحہ 239)