غیر مسلم ممالک سے درآمد شدہ گوشت خریدنے کا حکم - فتاویٰ جات…

غیر مسلم ممالک سے درآمد شدہ گوشت خریدنے کا حکم


صفحہ 2 از 3

لہٰذا جن غیر مسلم ممالک سے سعودی عرب میں گوشت امپورٹ کیا جاتا ہے، وہاں کی کمپنیوں کے بارے میں یہ معلومات حاصل کرنا ضروری ہے کہ وہاں کس طرح جانور کو ذبح کیا جاتا ہے اور ذبح کرنے والے کون کون لوگ ہوتے ہیں؟ لیکن عام مسلمان یہ سب معلومات کس طرح حاصل کر سکتا ہے؟ اس لئے کہ ان ممالک کے مسافتِ بعیدہ کی وجہ سے ان کی طرف سفر میں بڑی مشقّت پیش آتی ہیں، جس کی وجہ سے بہت کم لوگ ان ممالک کا سفر کرتے ہیں، جو لوگ وہاں کا سفر کرتے ہیں، ان میں اکثر یا تو علاج کی غرض سے سفر کرتے ہیں یا کمانے کی خواہشات کی تکمیل کے لئے یہاں معلومات حاصل کرنے کے لئے لیے وہاں کا سفر کرتے ہیں، لیکن اس مقصد کے لئے کوئی سفر نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی تفتیش کے لئے اور اس کی حقیقت سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے کوئی شخص اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے۔

اس لئے ادارات البحوث العلمیۃو الافتاء والدعوہ والارشاد کے صدر دفتر کی طرف سے ایک خط انہیں اداروں کے ذمہ داروں کی طرف لکھا گیا ہے جو گوشت اور دوسرے کھانے کی اشیاء سعودی عرب میں درآمد کرتے ہیں، جس میں ان اداروں سے حقیقتِ حال پوچھے گئے اور اُن سے درخواست کی گئی کہ وہ دینی اور شرعی نقطہ نظر سے ان امپورٹ شدہ گوشت کا خاص خیال رکھیں تا کہ مسلمانوں کو اُن کھانوں سے بچایا جائے جن کو اللہ تعالیٰ جلّ شانہ٘ نے حرام قرار دیا ہے۔

ان اداروں کی طرف سے جو جواب آیا وہ بہت مجمل تھا جس سے نہ تو اطمینانِ قلب حاصل ہو سکتا تھا اور نہ ہی شک دُور ہو سکتا تھا۔ لہٰذا اس ادارے نے یورپ اور امریکہ میں اپنے نمائندوں کو خط لکھا کہ وہ اُن مذبوح خانوں میں ذبح کی کیفیت اور ذبح کرنے والوں کی دیانت کے بارے میں تحقیق کرکے اطلاع دیں۔ چُنانچہ اُس خط کے جواب میں بعض نے اجمالی جواب لکھ کر بھیج دیا، لیکن بعض غیرت مند حضرات نے اس کے بارے میں رسالہ کی صورت میں ذبح کی کیفیت اور ذبح کرنے والوں کے دیانت کے بارے میں تفصیل سے جواب لکھا۔ اللہ تعالیٰ جلّ شانہٗ ان حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

لیکن ان جوابات میں ان تمام غیر ملکی کمپنیوں کا احاطہ نہیں کیا گیا جو کمپنیاں سعودی عرب میں گوشت ایکسپورٹ کرتی ہیں اور جن کمپنیوں کے بارے میں بیان کیا گیا ان میں سے بعض کے بارے میں اجمالاً بیان کیا گیا۔

بہرحال! کمیٹی کو جو رپورٹیں موصول ہوئیں اور رسائل کے ذریعے اسے جو معلومات حاصل ہوئیں، اور ذبح کرنے کا شرعی طریقہ جس کا اسے جو معلومات حاصل ہوئیں، اور ذبح کرنے کا شرعی طریقہ جس کا بیان اوپر آ چکا اور اس بحث سے متعلق جو فتوے جاری ہوئے، ذیل میں ان سب کا خلاصہ کمیٹی پیش کرتی ہے تا کہ درآمد شدہ گوشت کا حکم واضح ہو جائے۔

خلاصہ:

اولاً: رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری کا جو خط ادارت البحوث المعلمية والافتاء کے رئیس کے پاس آیا، جس میں یہ بات تحریر تھی کہ ان کے پاس یہ رپورٹیں آئی ہیں کہ آسٹریلیا کی بعض کمپنیاں جو اسلامی و ممالک کو گوشت برآمد کرتی ہیں، خاص طور پر الحلال المصادق کمپنی جس کا مالک ایک قادیانی حلال والمصادق ہے، یہ کمپنیاں گائے، بکریاں اور پرندے ذبح کرنے میں اسلامی طریقہ اختیار نہیں کرتی ہیں، اور ان کمپنیوں کے ذبح شدہ جانوروں کا کھانا حرام ہے۔ اور رابطہ عالم اسلامی نے اپنے کتاب میں جو قرارداد اور سفارش پیش کی ہے، اس کی رعایت ضروری ہے۔

ثانياً: استاذ شیخ احمد بن صالح محایری کی طرف سے فرانس کی کمپنی برئیسا کے طریقہ ذبح کرنے کے بارے میں جو رپورٹ آئی ہے کہ اس کمپنی میں ذبح کرنے والے کے بارے میں پتہ نہیں چلتا کہ وہ مسلمان ہے یا کتابی یا بت پرست ہے یا ملحد ہے، اور اس میں شک رہتا ہے کہ مذبوحہ جانور کی دو رگیں کٹی ہیں یا ایک رگ کٹی ہے۔ اور اس کوشت کے حلال ہونے کی تصدیق کرنے والے کی گواہی نہ تو ذبح کے عمل کو بذاتِ خود مشاہدہ کرنے پرمبنی ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے نائب کے مشاہدہ پر بنی ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی شہادت ذبح کرنے والے کو جاننے پر مبنی ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی شہادت ذبح کرنے والے کو جاننے پر مبنی ہوتی ہے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں اس کمیٹی کے ذبح شدہ جانوروں کو کھانا جائز نہیں، اور اس کمپنی کے غیر شرعی تذکیہ کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس کمپنی کے ڈائریکٹر نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ اگر درآمد کرنے والے ملک پہلے سے گوشت کی یقینی مقدار ہمیں بتا دیں تو ہم شرعی طریقے پر ذبح کرنے کے لئے موجودہ ذبح کے طریقے میں تبدیلی کرلیں گے۔

ثالثاً: استاذ احمد بن صالح محایری کی طرف سے (سماد یا اویسۃ) کمپنی کے متعلق گائے اور مرغی کے و ذبح کے طریقہ کار کے بارے میں جو رپورٹ آئی ہے، اس میں ذابح کی دیانت مشکوک ہے، یہ معلوم نہیں کہ وہ ذابح کتابی ہے یا بت پرست ہے۔ دوسرے یہ کہ گائے کو پہلے بجلی کے کرنٹ کے ذریعہ بےہوش کیا جاتا ہے، جب وہ گائے بےہوش ہو کر گر جاتی ہے تو اس کو مشینوں کے ذریعہ پاؤں کی طرف بلند کیا جاتا ہے، پھر چھری کے ذریعہ اس کی رگیں کاٹی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں اس کا خون بڑی مقدار میں خارج ہو جاتا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر اس کمپنی کے مذبوحہ جانور کھانا جائز نہیں۔

رابعاً: شیخ عبداللہ الغضیہ کی طرف سے لندن میں ذبح کے طریقہ کار کے بارے میں یہ رپورٹ آئی ہے کہ یہاں ذبح کرنے والے دین سے منحرف نو جوان، بت پرست اور دہریے ہیں۔ ذبح کا طریقہ کار یہ ہے کہ مرغی کو ایک مشین میں ڈالا جاتا ہے، جب وہ مشین سے باہر نکلتی ہے تو وہ مردہ حالت میں ہوتی ہے اور تمام پر اکھڑے ہوئے ہوتے ہیں اور اس کا سر کٹا ہوا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی گردن پر ذبح کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا، خود مذبح کے انگریز مالک نے بھی ان باتوں کا اقرار کیا۔

صفحہ 2 از 3