غیر مسلم ممالک سے درآمد شدہ گوشت خریدنے کا حکم - فتاویٰ جات…

غیر مسلم ممالک سے درآمد شدہ گوشت خریدنے کا حکم


صفحہ 3 از 3

اور مذبح خانے کا عملہ یہ دھوکہ دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس خود کار مشین کے ذریعہ ہونے والے ذبح کے طریقے کو دیکھنا چاہے جس کے ذریعہ ذبح کرنے کے بعد وہ گوشت برآمد کیا جاتا ہے تو اس شخص کو وہ مذبح خانہ دکھایا جاتا ہے جس میں چند مسلمان اندرون ملک رہنے والے مسلمانوں کے لئے ذبح کرتے ہیں۔ یہ بات ذبح کے طریقے اور ذبح کرنے والے کی دیانت میں شک ڈال دیتی ہے، اس لئے اس کمپنی کے ذبح شدہ جانوروں کو کھانا حلال نہیں۔

خامساً: استاد حافظ کی طرف سے یونان کے بعض مشہور مقامات کے بارے میں یہ رپورٹ آئی ہے کہ وہاں پر بڑے جانوروں کو سروں پر پستول کے ذریعہ مار کر پہلے انہیں گرایا جاتا ہے اور پھر اسے ذبح کیا جاتا ہے، چونکہ ایسے جانور میں یہ شک رہتا ہے کہ ذبح کا عمل اس کی موت کے بعد ہوا یا پہلے ہوا، اس لئے ایسے جانور کو کھانا جائز نہیں۔ وہاں پر ذبح کا ایک اور طریقہ بھی رائج ہے، جس کے بارے میں رپورٹ بھیجنے والے کا کہنا یہ ہے کہ وہ طریقہ اسلامی طریقہ کے مطابق ہے، البتہ رپورٹ بھیجنے والے نے نہ تو ذبح کی کیفیت بیان کی ہے اور نہ ہی ذابح کی دیانت کی دیانت کے بارے میں کچھ بیان کیا ہے، اسی طرح نہ تو ذبح کرنے کی جگہ کے بارے میں بیان کیا ہے اور نہ ہی ذبح کرنے والی کمپنیوں کا ذکر کیا ہے۔

سادساً: ہمیں شیخ عبدالقادر ناؤط سے یوگو سلادیہ میں ذبح کے طریقہ کے بارے میں یہ رپورٹ موصول ہوئی ہے کہ یوگو سلاویہ کے دیہاتوں میں اور سرایو شہر میں اسلامی طریقے پر جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے اور ذابح بھی مسلمان ہوتا ہے، لہٰذا ان جانوروں کو کھانا جائز ہے۔ لیکن یوگوسلاویہ کے دوسرے شہروں میں جو جانور ذبح کئے جاتے ہیں، ان میں ذبح کرنے والا غیر مسلم ہوتا ہے جو ظاہراً تو کتابی یا شیعہ ہوتا ہے لیکن حقیقۃ الامر میں وہ ایسا نہیں ہوتا۔ لہٰذا ذابح کی اہلیت میں شک کی وجہ سے یوگوسلاویہ کے دوسرے شہروں کے ذبیحہ جانور کو کھانا جائز نہیں۔ (سابعاً) مغربی جرمنی میں ذبح کے طریقے کے بارے میں ڈاکٹر طباع نے یہ رپورٹ بھیجی ہے کہ ذبح کرنے سے پہلے گائے کے سر میں پستول ماری جاتی ہے اور پھر اس گائے کی موت واقع ہونے کے بعد اسے ذبح کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ان ذبائح کو کھانا جائز نہیں۔

ثامناً: رسالہ المجتمع میں ڈنمارک میں ذبح کے طریقے کے بارے میں رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ ذبح کرنے والے عیسائیوں کی بہ نسبت شیوعیین اور بت پرستوں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور یہ کہ کمپنی کو اسلامی ذبح کے طریقہ کار کے بارے میں کچھ معلومات حاصل نہیں ہیں، سوائے اس کے کہ جو باتیں افواہوں کے ذریعہ معلوم ہوئی ہیں، لہٰذا کمپنی کیلئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اسلامی ذبح کے طریقے کا خیال رکھے اور یہ کہ وہ گوشت کے پیکٹ پر یہ عبارت لکھ دے کہ (ذبح على الطريقة الاسلامية) اس کو اسلامی طریقے پر ذبح کیا گیا ہے۔

گوشت درآمد کرنے والے یہ جملہ اس لئے لکھتے ہیں تا کہ وہ اس کی تصدیق کر دے جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، کمپنی کے لوگ اُس شخص کو ذبح کی کیفیت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے روکتے ہیں جو معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اور استاد احمد صالح محایری کے واسطے سے محمد الابیض المغربی کی طرف سے ایک رپورٹ آئی ہے جو ڈنمارک میں گوشت کو پیک کرنے کا کام کرتا ہے، وہ یہ کہ پیکنگ پر جو یہ عبارت لکھتے ہیں کہ ذبحت على الطريقة الاسلامیة یہ درست نہیں ہے، اس لئے کہ جانور کا قتل ہر حالت میں بجلی کے ذریعہ مکمل ہوتا ہے۔ بہرحال مندرجہ بالا دونوں رپورٹوں کی بنیاد پر ڈنمارک سے درآمد ہ گوشت کھانا جائز نہیں۔

تاسعاً: علامه ابنِ عربیؒ کا جو قول بیان کیا گیا کہ جس چوپائے اور پرندے وغیرہ کو اہلِ کتاب نے ذبح کیا ہو، اُس کا کھانا مطلقاً حلال ہے، اگرچہ ان کے ذبح کا طریقہ ہمارے طریقے کے موافق نہ ہو۔ اور یہ کہ ہر وہ چیز جس کو وہ اپنے مذہب میں حلال سمجھتے ہیں، وہ ہمارے لئے بھی حلال ہے، سوائے اُس چیز کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ جل شانہ نے انہیں جھوٹا قرار دیا ہے۔ ذبح کا جو طریقہ اور جو فتاویٰ بیان ہوئے ہیں، ان کی بنیاد پر ان کا یہ قول مردود ہے۔

عاشراً:  ذبح کرنے کا طریقہ اور ذبح کرنے والے کی دیانت کے بارے میں جو تفصیل اوپر بیان ہوئی، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وزارت تجارت و صنعت کی طرف سے ایوانِ صدارت جو تم پر بھیجی گئی ہے جس میں لکھا ہے کہ برآمد شدہ گوشت حلال ہے، یہ تحریر کے اطمینان کیلئے کافی نہیں، بلکہ دلوں کی خلجان باقی رہتا ہے کہ یہ ذبائح اسلامی طریقہ ذبح کے موافق ہیں یا نہیں؟ اور گوشت کے اندر اصل حرمت ہے، لہٰذا اس مشکل کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ 

(اسلام اور جدید معاشی مسائل: جلد، 4 صفحہ، 40)


صفحہ 3 از 3