شام اور اس کی ریاستیں
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت شام کی اسلامی فوج اور وہاں کے ملکی انتظام و انصرام کے اعلیٰ ذمہ دار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے اور جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت سنبھالا تو حضرت خالد بن ولیدؓ کو شام کی گورنری سے معزول کر کے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو وہاں کے امراء و افسران کا گورنر جنرل و اعلیٰ ذمہ دار بنا دیا۔
(تہذیب تاریخ دمشق: جلد 1 صفحہ 152) چنانچہ حضرت ابو عبیدہؓ وہاں کے امور و معاملات کو جدید طریقے سے منظم کرنے لگے۔ شام کے بعض جدید علاقوں پر اپنی صوابدید سے نئے گورنران کی تقرری کی، جبکہ دیگر علاقوں کے گورنران میں سے بعض کو انہی کے مقام پر باقی رکھا اور بعض کو معزول کر دیا۔ مؤرخ خلیفہ بن خیاط لکھتے ہیں: ’’جب شام کے تمام علاقے اسلامی سلطنت کے زیر نگیں ہو گئے تو حضرت ابو عبیدہؓ نے اپنی ولایت کے دوران فلسطین اور اس سے متصل علاقوں پر یزید بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما کو، اردن پر شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو، دمشق پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اور حمص پر حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو وہاں کے امیر کی حیثیت سے مقرر کیا، البتہ آخر الذکر کو آخر میں معزول کر کے ان کی جگہ پر عبداللہ بن قرط ثمالی رضی اللہ عنہ (عبداللہ بن قرط الثمالی الازدی صحابی ہیں، آپ سے احادیث مروی ہیں، شام کی فتوحات میں آپ نے شرکت کی ہے۔) کو مقرر کر دیا تھا۔ اسی طرح حضرت عبادہ بن صامتؓ کو والی نائب گورنر بنایا لیکن پھر ان کو معزول کر کے ان کی جگہ دوبارہ حضرت عبداللہ بن قرطؓ کو مقرر کر دیا۔
( تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 155)
کبھی کبھار آپؓ اپنے معاونین و مصاحبین کو ایک محدود وقت کے لیے شام کے بعض خطوں کا حاکم بنا کر بھیجتے تھے، مثلاً سیدنا معاذ بن جبلؓ کو اردن پر اسی نوعیت کا حاکم بنا کر بھیجا تھا۔
(فتوح الشام: صفحہ 248)
اسی طرح جب کبھی جہاد کے سفر پر نکلتے تو کسی کو اپنا نائب بنا کر جاتے تھے، جیسے بیت المقدس میں جاتے ہوئے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو دمشق میں اپنا نائب بنایا تھا۔
( الفتوح: ابن اعثم الکوفی: صفحہ 289، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 90) حضرت ابو عبیدہؓ جب تک شام کے گورنر رہے اپنے ماتحت دیگر امراء و ذمہ داران، نیز عوام کے لیے ایک نیک اور رحم دل انسان کی سچی تصویر کا نمونہ بن کر رہے، آپؓ کی وفات طاعون عمواس میں ہوئی اور پھر آپؓ کے بعد حضرت معاذؓ یہاں کے گورنر ہوئے، لیکن مختصر ہی مدت میں ان کی بھی وفات ہو گئی۔ چنانچہ سیدنا عمر بن خطابؓ کو جب ابو عبیدہ اور معاذ رضی اللہ عنہما کی وفات کی خبر ملی تو یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کو شام کی افواج کا اعلیٰ ذمہ دار کمانڈر ان چیف مقرر کیا اور دوسرے کئی امراء کو صوبائی ذمہ داریاں دے کر شام کے مختلف علاقوں کا الگ الگ انتظام و انصرام سونپ دیا، یزید رضی اللہ عنہ کو فوجی قیادت میں مہارت حاصل تھی، کیونکہ حضرت ابوبکرؓ نے شام کے محاذ پر جن افواج کو روانہ کیا تھا ان میں سے ایک کی قیادت آپ کر چکے تھے۔ اسی طرح حضرت ابو عبیدہؓ نے جہاد کے لیے نکلتے وقت کئی مرتبہ ان کو اپنا نائب بنایا تھا۔
(فتوح البلدان: صفحہ 137) مؤرخین نے لکھا ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے جب یزیدؓ کو شام کی افواج کا اعلیٰ کمانڈر بنایا تو دوسرے امراء و جرنیلوں کو ان کے ماتحت کر کے وہاں کے مختلف علاقوں میں بھیج دیا، البتہ یزیدؓ کو فلسطین و اردن کے لیے خاص کر دیا۔
(فتوح البلدان: صفحہ 145، 146) چونکہ شام پر یزیدؓ کی مدت ولایت بہت مختصر رہی اس لیے تاریخی مصادر میں ان کے متعلق زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔ 18ہجری میں یزیدؓ کی وفات ہوئی، اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے یزیدؓ نے اپنے بھائی معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو ولایت کے لیے اپنا نائب نامزد کر کے اس کی اطلاع حضرت عمر بن خطابؓ کو دے دی تھی۔ یزیدؓ کی مدت ولایت تقریباً ایک سال تھی۔
(الوثائق السیاسۃ للعصر النبوی والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 493) سیدنا عمرؓ نے سیدنا معاویہؓ کی ولایت کی منظوری دیتے ہوئے شام کے چند سرکاری امور و انتظام میں کچھ تبدیلیاں کیں، مثلاً حضرت معاویہؓ کو دمشق کی اسلامی فوج اور وہاں کے اخراج سے متعلقہ امور کا مکمل اختیار دیا اور نماز کی امامت نیز منصب قضاء کی ذمہ داریوں سے ان کو سبکدوش کر کے اس کے لیے اپنے یہاں سے دو ممتاز علماء و صحابہ کرامؓ کو وہاں بھیجا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 92) گویا ایک اہم تبدیلی یہ واقع ہوئی کہ حضرت معاویہؓ کے اختیارات محدود کر دیے گئے، بالخصوص اس سے قبل نماز کی امامت وہی شخص کرتا تھا جو صوبہ کی ولایت و امارت پر مامور ہوتا تھا، لیکن اب وہ ذمہ داری دوسرے کے ذمہ ہو گئی، شاید وہاں کچھ ایسے اسباب موجود تھے جن کی بنا پر حضرت عمرؓ کو یہ جدید طریقہ اختیار کرنا پڑا اور پھر یہی طریقہ دیگر ریاستوں میں بھی نافذ ہوا، حضرت معاویہؓ نے بھی اسی اسلوب پر عمل کیا یعنی اپنے ماتحت نائب گورنران کو امامت نماز اور قضاء کی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا حضرت معاویہؓ بردباری اور سخاوت میں کافی مشہور ہوئے جس کی وجہ سے عراق وغیرہ کے بہت سے باشندے یہاں آ کر آپ کی ریاست میں آباد ہو گئے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 239) سیدنا عمرؓ نے بعض امراء کو شام کے مختلف علاقوں کے لیے نامزد کر کے بھیجا اور انہیں حضرت معاویہؓ کی زیر نگرانی مامور کیا۔ حضرت معاویہؓ منصب ولایت پرفائز ہوتے ہوئے کبھی کبھار شام کے شمالی علاقوں میں رومیوں کے خلاف محاذ جنگ قائم کرتے تھے، انہی جنگوں کو صوائف یعنی موسم گرما کی جنگی کارروائی کہا جاتا تھا
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 92) سیدنا معاویہؓ منصب ولایت سنبھالنے کے بعد سے حضرت عمرؓ کی وفات تک ریاست شام کے فرائض برابر انجام دیتے رہے۔ جبکہ وہاں کے دوسرے علاقوں سے اپنا رابطہ رکھتے تھے، بس ان امراء و احکام اور حضرت معاویہؓ میں فرق اتنا تھا کہ حضرت معاویہؓ کو ان میں سب سے زیادہ شہرت حاصل تھی کیونکہ وہ بلقاء، اردن، فلسطین، انطاکیہ، قلقیلیہ اور معرہ مصرین وغیرہ شام کے دیگر کئی شہروں کے گورنر تھے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 93) بعض مؤرخین نے آپؓ کو پورے شام کا تنہا گورنر بتایا ہے، جبکہ بعض مؤرخین نے اس سلسلے میں قید لگائی ہے اور جہاں حضرت عمرؓ کے گورنروں کا ذکر کیا ہے وہاں لکھا ہے کہ ’’معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما شام کے بعض علاقوں کے گورنر تھے۔‘‘ اور بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ سیدنا عمرؓ نے اپنی وفات سے پہلے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو پورے شام کا گورنر بنا دیا تھا۔
(تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 155۔ سیر أعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 88) بہرحال جو کچھ بھی ہو یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس دور میں ملک کے احوال و ظروف بالخصوص فوجی حالات کے پیش نظر ریاستوں کی حدود میں برابر تبدیلیاں ہوتی رہتی تھیں۔ چنانچہ اردن کبھی کبھار مستقل ایک ریاست ہوتی تھی اور کبھی اس کے ساتھ دیگر ریاستیں بھی شامل کر دی جاتی تھیں اور کبھی ایسا ہوتا تھا کہ اس کے کچھ شہروں کو اردن سے نکال کر شام یا فلسطین میں شامل کر دیا جاتا تھا، اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں ہیں جن کا تفصیلی بیان یہاں مقصود نہیں ہے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 102)