Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار کرنے کی ممانعت


مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار کرنے کی ممانعت

حدیث شریف میں شدید ضرورت اور تقاضے کے بغیر مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار کرنے کی ممانعت آئی ہے۔ چنانچہ ابوداؤد شریف میں سیدنا سمرۃ بن جندبؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص مشرک کے ساتھ موافقت کرے اور اس کے ساتھ رہائش اختیار کرے وہ اسی کے مثل ہے۔

سیدنا جریر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہائش اختیار کرے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سوال کیا یا رسول اللہﷺ! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپﷺ نے فرمایا اسلام کی آگ اور کفر کی آگ دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ تم یہ امتیاز نہیں کر سکو گے کہ یہ مسلمان کی آگ ہے یا مشرکین کی آگ ہے۔

امام خطابیؒ حضور اقدسﷺ کے اس قول کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ مختلف اہلِ علم نے اس قول کی شرح مختلف طریقوں سے کی ہے۔ چنانچہ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ مسلمان اور مشرکین حکم کے اعتبار سے برابر نہیں ہو سکتے، دونوں کے مختلف احکام ہیں۔ اور دوسرے اہلِ علم فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دارالاسلام اور دار الکفر دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر دیا ہے۔ لہٰذا کسی مسلمان کے لئے کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہائش اختیار کرنا جائز نہیں اس لئے کہ جب مشرکین اپنی آگ روشن کریں گے اور یہ مسلمان ان کے ساتھ سکونت اختیار کئے ہوئے ہو گا تو دیکھنے سے یہی خیال کریں گے یہ بھی انہی میں سے ہے۔

علماء کی اس تشریح سے یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ اگر کوئی مسلمان تجارت کی غرض سے بھی دارالکفر جائے تو اس کے لئے وہاں پر ضرورت سے زیادہ قیام کرنا مکروہ ہے۔

(فقھی مقالات جلد 1، صفحہ 235)