دور فاروقی میں گورنران ریاست کی تقرری
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ والیان ریاست کے انتخاب اور ان کی تقرری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقہ کار کی پیروی کرتے تھے۔ چنانچہ اس منصب پر انہی لوگوں کو فائز کرتے تھے جو باصلاحیت، امانت دار اور فرائض منصبی کی ادائیگی میں سب سے بہتر ہوں، تقرری کا مسئلہ ہو یا معزولی کا، دونوں مواقع پر بھرپور چھان بین کرتے تھے، ایسے آدمی کو عہدہ ہرگز نہیں دیتے تھے جو اس کا خواہاں ہو۔ گورنروں کی تقرری کو ایک امانت سمجھتے تھے جس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر عہدہ کے لیے وہی لوگ سب سے زیادہ مستحق ہیں جو اس کے لیے سب سے زیادہ موزوں و مناسب ہوں اگر بلا کسی معقول عذر کے اصلح و باصلاحیت فرد کو چھوڑ کر اس سے ادنیٰ درجہ کے آدمی کو مقرر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ اس کے رسولﷺ اور مومنوں کے ساتھ خیانت ہے۔
(وقائع ندوۃ النظم الإسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 295، 296)
اس سلسلے میں آپؓ کے چند ایک اقوال زریں ہیں، مثلاً: ’’میں اپنی امانت اور عہدہ کا ذمہ دار ہوں، میرے دل میں جو خیالات آتے ہیں اس کو ان شاء اللہ میں جانتا ہوں، اسے دوسروں کے حوالہ نہیں کروں گا اور جو باتیں مجھ سے دور ہیں انہیں میں امانت داروں اور امت مسلمہ کے خیر خواہوں کے ذریعہ ہی سے جان سکتا ہوں، ان امانت داروں اور خیر خواہوں کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنی امانت نہیں دوں گا۔‘‘
(دورالحجاز فی الحیاۃ السیاسیۃ: صفحہ 255) اور فرمایا: ’’جس نے کسی آدمی کو کسی جماعت کا ذمہ دار بنایا حالانکہ کہ اس جماعت میں اس سے بہتر اور اللہ ترس آدمی موجود ہے تو اس نے اللہ، اس کے رسولﷺ اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی۔‘‘
(الفتاوٰی: جلد 28 صفحہ 42) نیز فرمایا: ’’جو شخص مسلمانوں کا حاکم بنایا گیا اور اس نے کسی قرابت داری یا ذاتی محبت کی بنا پر کسی کو عہدہ دیا اس نے اللہ، اس کے رسولﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی۔‘‘
(الفتاویٰ: جلد 28 صفحہ 138)