تجربہ کاری اور بصیرت
علی محمد الصلابیسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سرکاری عہدوں کے لیے صاحب فضیلت افراد کو چھوڑ کر ایسے افراد کو افسر بناتے تھے جو تجربہ کار اور بصیرت کے حامل ہوں۔
(المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام: جلد 2 صفحہ 56)
صاحب فضیلت افراد کو چھوڑنے سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ اگرچہ دین داری، تقویٰ و طہارت اور اخلاق و کردار میں افضل و مقدم ہوں، لیکن معاملات کی سیاست میں دوسروں کے بالمقابل ان کی مہارت کم ہو۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ دونوں چیزیں تقویٰ و طہارت اور حسن سیاست ایک آدمی میں بدرجہ اتم ہی پائی جائیں۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وضع کردہ یہ معیار انتخاب آج بھی ترقی یافتہ ممالک میں معتبر و معمول بہ ہے اور یہ برحق ہے کہ دین پرست، متقی اور بااخلاق آدمی کو اگر سیاست اور حکومتی معاملات میں بصیرت نہ ہو تو وہ نفس پرستوں اور گمراہوں کے دھوکے میں آ سکتا ہے، لیکن کہنہ مشق اور تجربہ کار صاحب بصیرت شخص کی دور اندیش نگاہیں فوراً الفاظ کے معانی اور ان کے مقاصد و انجام کو بھانپ لیتی ہیں۔ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ آپؓ نے ایسے ہی ایک آدمی کو ذمہ دار بنانے کا ارادہ کیا اور پھر اپنا فیصلہ اس لیے بدل لیا کہ وہ برائیوں کو قطعاً نہیں جانتا تھا۔ واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ آپؓ ایک آدمی کو ذمہ دار بنانے کا ارادہ کیا اور پھر اپنا فیصلہ اس لیے بدل لیا کہ وہ برائیوں کو قطعاً نہیں جانتا تھا۔ واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ آپؓ ایک آدمی کو کسی ذمہ داری پر مامور کرنا چاہتے تھے، اس کے بارے میں لوگوں سے معلومات حاصل کیں، چنانچہ آپؓ کو بتایا گیا کہ اے امیر المؤمنین! وہ آدمی برائی جانتا ہی نہیں۔ یعنی اس کی تعریف کی، سیدنا عمرؓ نے کہنے والے سے کہا: پھر تو ستیاناس ہے، عین ممکن ہے کہ لا علمی میں وہ اس کو کر گزرے۔
(نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: جلد 1 صفحہ 482) بہرحال اس واقعہ کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ کسی شعبہ کا ذمہ دار یا افسر قوت، امانت، علم اور اہلیت و صلاحیت جیسی اعلیٰ صفات و کردار جو کسی بہترین حکومت اور ادارہ کے لیے ضروری ہیں ان سے عاری ہو، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ان صفات کے حاملین میں تفاوت پایا جاتا ہے، لہٰذا ایسے وقت میں ترجیح اسی آدمی کو حاصل ہو گی جو سیدنا عمرؓ کے قول کے مطابق کہنہ مشق اور تجربہ کار صاحب بصیرت ہو۔
(نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: جلد 1 صفحہ 482)