دیہاتی اور شہری
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے افسران کی تقرری کے وقت بعض خصوصیات، طبائع، عادات اور عرف رواج و مراسم کو خاص طور سے نگاہ میں رکھتے تھے۔ آپؓ کی سیاست کا یہ پہلو کافی مشہور ہے کہ بادیہ نشینوں و دیہاتیوں یعنی دیہاتیوں کو شہریوں یعنی متمدن لوگوں کا حاکم و ذمہ دار بنانے سے منع کرتے تھے۔
(نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: جلد 1 صفحہ 482) گویا موظفین و عہدیداران کی انتخابی سیاست میں معاشرتی اور تہذیبی اقدار و روایات کی ایک ساتھ رعایت کی گئی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ بادیہ نشینوں اور شہریوں کی طبیعتیں، عادات، تہذیبیں اور طرز زندگی مختلف ہوتی ہیں۔ پس فطری تقاضا یہی ہے کہ حاکم اپنی رعایا کی نفسیات سے واقف ہو۔ یہ بالکل نا انصافی ہے کہ رعایا کے معاملات ایسے آدمی کے ہاتھ میں دیے جائیں جو ان سے بالکل ناواقف ہو۔ کیونکہ وہ بسا اوقات اصطلاحات اور عرف سے ناواقفیت کی وجہ سے ایک معروف شے کو منکر قرار دے سکتا ہے۔ اسی طرح بعض فطری امر طبعی امر کو انوکھا تصور کر سکتا ہے اور پھر اس کا انجام معاشرہ و سماج کے مطلوبہ اہداف و مقاصد کے خلاف ہو جائے گا۔
(نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: جلد 1 صفحہ 483)