Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رعایا پر شفقت و مہربانی

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے ماتحت ذمہ داروں اور گورنروں سے اس بات کے خواہاں رہتے تھے کہ وہ اپنی رعایا پر شفقت و مہربانی کریں، بے شمار مواقع پر آپؓ نے اسلامی افواج کے قائدین کو حکم دیا کہ مسلمانوں مجاہدین کو خطرے کا نشانہ نہ بننے دیں اور انہیں تباہی و ہلاکت میں نہ ڈالیں۔ آپؓ ایک مرتبہ بنو اسلم کے ایک آدمی کو خط لکھ کر اس سے ایک کام لینا چاہتے تھے وہ آدمی آپؓ کے پاس آیا اور آپؓ کے بعض بچے آپؓ کی گود میں موجود تھے، آپؓ ان کو پیار و محبت سے بوسہ دے رہے تھے، اس آدمی نے یہ منظر دیکھ کر تعجب سے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ ایسا کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں نے آج تک کسی اولاد کو بوسہ نہیں دیا۔ تو آپؓ نے فرمایا: پھر تو اللہ کی قسم تیرے اندر لوگوں پر رحمت و مہربانی کا جذبہ بہت کم ہو گا، جاؤ تم ہمارے کام کے نہیں ہو، پھر آپؓ نے اسے واپس لوٹا دیا اور کام نہیں دیا۔

(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 519) اسی طرح ایک مرتبہ آپؓ کی بعض اسلامی افواج نے جب بلاد فارس پر حملہ کیا تو فاتحانہ کارروائیوں میں وہ افواج ایک ایسی نہر تک پہنچ گئیں جس پر پل نہ تھا، فوج کے امیر نے اپنے ایک فوجی سے کہا کہ دریا میں اتر کر اس کی گہرائی معلوم کرے تاکہ اسے فوجی گزرگاہ بنایا جا سکے اور وقت سخت سردی کا تھا، فوجی مجاہد نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ اگر پانی میں اتروں گا تو مر جاؤں گا۔ لیکن امیر نے اسے مجبور کیا۔ چنانچہ وہ آدمی چیخ چیخ کر ہائے عمر! ہائے عمر! کہتے ہوئے مجبوراً دریا میں اتر گیا اور تھوڑی دیر ہی میں وفات پا گیا۔ جب سیدنا عمرؓ کو اس واقعہ کی خبر ملی تو آپؓ مدینہ کے بازار میں تھے، آپؓ نے واقعہ سنتے ہی کہا: ’’ہائے اے فلاں! میں حاضر ہوں، ہائے اے فلاں! میں حاضر ہوں۔ پھر آپؓ نے فوراً امیر لشکر کو طلب کیا اور امارت سے سبکدوش کرتے ہوئے کہا: ’’اگر اطاعت امیر کا شرعی حکم نہ ہوتا تو آج میں تجھ سے بدلہ لیتا، آج سے تم میرے کسی کام کے لائق نہیں ہو۔‘‘

(مناقب أمیر المومنین، ابن الجوزی: صفحہ 150) آپؓ نے اپنے گورنروں کے درمیان خطبہ دیتے ہوئے کہا:

’’امام حاکم کی نرمی و بردباری سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک کوئی بردباری محبوب اور عام نہیں ہے اور اسی طرح حاکم کی جہالت و حماقت سے بڑھ کر کوئی چیز اللہ کے نزدیک مبغوض نہیں ہے۔ یاد رکھو! جو شخص اپنے ماتحتوں کے ساتھ عفو و درگزر اور شفقت و مہربانی کرتا ہے وہ اپنے بڑوں کی طرف سے بھی عافیت و مہربانی سے نوازا جاتا ہے۔‘‘

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 334