Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اپنے قرابت داروں میں سے کسی کو حاکم نہ بنانا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی یہ پوری کوشش ہوتی تھی کہ اگرچہ آپؓ کے بعض قرابت داروں مثلاً چچا زاد بھائی سعید بن زید اور لڑکے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اسلام میں سبقت حاصل ہے اور عہدہ سنبھالنے کی صلاحیت بھی موجود تھی، لیکن ان میں سے کسی کو گورنر نہیں بنایا۔ آپؓ کے ہم نشینوں میں سے ایک آدمی نے ایک مرتبہ آپؓ سے کوفہ کے گورنران کے ساتھ کوفہ والوں کے عدم تعاون کی شکایت سنی اور آپؓ کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ میری خواہش ہے کہ اگر کوئی طاقت ور اور امانت دار مسلمان مل جاتا تو میں اسے ان پر گورنر بنا کر بھیجتا۔ اس آدمی نے یہ سن کر کہا: اللہ کی قسم! اس سلسلہ میں ایک آدمی کی نشان دہی کر رہا ہوں، وہ ہیں عبداللہ بن عمر۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تمہیں غارت کرے، اللہ کی قسم! تو نے اس رائے سے اللہ کی خوشنودی نہیں چاہی ہے۔

(مناقب عمر بن الخطاب: ابن الجوزی: صفحہ 108 الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 128)

نیز آپؓ کہا کرتے تھے:

’’جس نے ذاتی محبت یا قرابت داری کی بنا پر کسی کو حاکم بنایا اور اس کے علاوہ اور کوئی وجہ ترجیح نہیں ہے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کی۔‘‘

(الفتاوٰی: جلد 28 صفحہ 138)