قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے -…

قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 1 از 10

قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے

  1. بشار الاسد کی مدت صدارت میں اضافے کیلئے ایران میں اجلاس۔ روس، ایران اور شام کے وزرائے دفاع کی اجلاس میں شرکت، کا روائیاں تیز کرنےپر غور۔ (روزنامہ ایکسپرس اخبار کوئٹہ، 11 جنوری 2016ء)
  2. حال ہی میں بعض سعودی شہریوں کو سعودی قوانین کے تحت سزائے موت دی گئی۔ ان میں سے ایک "شیخ النمر" ہے۔ جس کی موت پر ایرانی حکومت اور ایرانی قوم نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے۔ ایران میں عالمی قوانین کی بے حرمتی کر کے سعودی سفارت خانے کو جلایا گیا، سعودی عرب کو شدید دھمکیاں دی گئی۔

ایرانی انقلاب کے بعد پاکستان میں جو قتل و غارت گری ہوئی، انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق جو اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں، ایران ملوث ہے۔ عراق، شام، بحرین اور یمن کے بعد اب کھلم کھلا سعودی عرب کے خلاف ایران کا طرزِ عمل انتہائی ظالمانہ ہے۔ ایران اپنے ایک ہم مذہب کے لئے دوسرے ملکی قوانین پر سیخ پا ہے تو ایران اپنے ہی ملک میں سینکڑوں اہلِ سنت عوام اور علماء کرام اور حال ہی میں 27 اہلِ سنت یونیورسٹیوں کے نوجوانوں کو مقدمہ چلائے بغیر تختہ دار پر لٹکانے کا مجرم کیوں نہیں؟ تہران میں یہودیوں، آتش پرست مجوسیوں اور ہندوؤں وغیرہ کے عبادت خانے ہیں تو اہل سنت و الجماعت کی ایک مسجد کیوں نہیں؟

      خمینی ملعون کے خونی انقلاب سے پہلے عالمِ اسلام میں موجودہ خلفشار نہیں تھا، جب سے موجودہ ایرانی انقلاب آیا ہے دنیا بھر خاص کر اسلامی ممالک بشمول پاکستان فتنه و فساد کا شکار ہیں۔ عراق میں امریکہ اور روس کے حواریوں سے مل کر ایران نے وہاں جو کچھ کیا وه "اظهر من الشمس" ہے۔ اسی طرح بحرین، کویت اور شام میں ایرانی جارحیت جاری ہے، اس کے کئی اہم عہدیدار اور جرنیل بھی مارے جاچکے ہیں۔ اسی طرح فلسطین میں بھی جبکہ مظلوم فلسطینی، یہودیوں کے ساتھ برسر پیکار ہیں، وہاں ایران کی پروردہ تنظیم حزب الله کے ذریعے جو کچھ ہوا، وہ ننگِ انسانیت ہے، یمن میں حوثیوں کو ایرانی اسلحہ سے مسلح کر کے وہاں پر جو کچھ کھیل جاری ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ (ماهنامه زکریا، جنوری فروری 2016 ء، صفحہ5)

  • ایران حزب الله کی شہ رگ ہے۔ ایران حزب الله کا ہیڈ آفس ہے، جہاں سے اسے ہدایات اور احکامات دیئے جاتے ہیں۔ جبکہ حسن نصر اللہ ایران اور لبنان میں ایرانی ملیشیاء کے درمیان رابطے کے فرائض انجام دیتا ہے۔ 

   5 مارچ 1987ء کو منعقدہ ایک اجلاس میں حزب الله کے ترجمان ابراہیم الامین نے بیان دیا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم ایران کا جزء ہیں بلکہ ہم لبنان میں ایران اور ایران میں لبنان کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جبکہ حزب الله کا جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ کہتا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایرانی حکومت ایسی مملکت ہے جو اسلامی قانون کے مطابق احکامات جاری کرتی ہے اور وہ ایسی حکومت ہے جو مسلمانوں اور عربوں کی مددگار ہے۔ اور ہمارا ایرانی حکومت سے باہمی تعاون کا رشتہ ہے۔ ایرانی حکمرانوں کے ساتھ ہمارے گہرے قلبی تعلقات ہیں اور ہم ایرانی حکومت کے ساتھ گہرے روابط میں بندھے ہیں جیسا کہ ہماری مسلح جدوجہد کی دینی اورشرعی حمایت بھی ایران ہی میں ہے۔ 

(حزب اللہ کون ہے، صفحہ 83)

  • حزب الله اصل میں ایران ہی کا بیٹا ہے۔ اس بات کی وضاحت حزب الله کے سابقہ جنرل سیکرٹری صبحی الطفیلی کے اس بیان سے بھی ہوتاہے کہ وہ ایران کے دورے پر تھا جب ایرانی حکومت کے ساتھ لبنان میں مزاحمتی تحریک شروع کرنے پر ہمارا اتفاق ہوا۔ پھر حزب الله نے کام شروع کیا تو ہزاروں ایرانی حزب الله کو تربیت دینے اور ان کی مدد کرنے لبنان آگئے۔

ایران نے انقلابی گارڈ لبنان روانہ کئے تاکہ حزب اللہ کے عملی قیام کو یقینی بنایا جا سکے اور حزب اللہ کے افراد کو ٹریننگ اور امداد فراہم کی جاسکے۔ اس مقصد کے لئے 2000 دو ہزار گارڈز روانہ کئے گئے۔ جنہوں نے لبنان کے البقاع علاقے اورحزب الله کے ٹھکانے میں شیعہ عقائد بھی پھیلائے۔ اپنی شیعی تبلیغ کو مؤثر بنانے کے لئے انہوں نے متعدد ہسپتال، مدارس اور فلاحی تنظیمیں بنائیں۔ اور تہران میں حزب الله کا مستقل آفس بھی موجود ہے۔

حزب الله اپنی کتابوں میں اس نظریے کا اقرار کرتی ہے کہ ہمارے فقیہ ولی کو جنگ یا صلح کا فیصلہ کرنے کا کلی اختیار ہے۔ کیونکہ فقیہ ولی کی حکومت و اقتدار کا علاقے اور وطن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ ولی فقیہ تمام ممالک کے شیعہ کا حکمران ہے۔ اس لئے خمینی ملعون تمام ممالک میں موجود شیعہ آبادی کی سیاسی ذمّہ داریاں مقرر کیا کرتا تھا جو کسی بھی استعمار کے خلاف نبرد آزما ہوتے تھے۔ 

(حزب اللہ کون ہے، صفحہ89)

ایران دہشت گردوں کو اسلحہ دیتا ہے

ایرانی حکومت کی طرف سے ملنے والے احکامات کے تحت بحرینی حزب الله طویل المدت منصوبوں پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت اسلحہ کی سمگلنگ بحرین میں جاری رہے گی، تاکہ سیکورٹی ادارے اس سازش کو ایک ہی مرتبہ پکڑنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ اسی طرح اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ یہ اسلحہ مختلف خفیہ ارکان تک مختلف علاقوں میں بر وقت تقسیم بھی کیا جائے۔

گذشتہ کاروائی کا اعتراف بحرینی حزب الله کے قائد علی احمد کاظم المنقوی نے بھی کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ:

   ہم نے ایرانی انٹیلی جنس آفیسر احمد شریفی کے ساتھ ایک خفیہ میٹنگ کی جس میں اس نے ہمیں سمندر کے راستے اسلحہ اسمگل کر کے بحرین پہنچانے کا پروگرام دیا ہے۔ ملزم جاسم خیاط نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ اسلحے کو اسمگل کرنے کا مقصد بحرینی حکومت کا خاتمہ کرنا ہے۔ عسکری قوت استعمال کر کے اس حکومت کو ختم کر کے اس کی جگہ ایرانی شیعہ حکومت کے ماتحت حکومت قائم کرنا ہمارا مقصد ہے۔ اس نے یہ وضاحت بھی کی کہ پہلی سپلائی کرج چھاؤنی میں پہنچائی گئی جو تہران کے شمال میں واقع ہے۔ یہ کاروائی ایرانی انٹیلی جنس افسر محمد رضی آل صادق اور میجر وحیدی نے کی ہے۔

 (حزب اللہ کون ہے، صفحہ 46)

ایران دوسرے ممالک میں دہشت گرد بھیجتے ہیں جو وہاں جا کر لڑتے ہیں

صفحہ 1 از 10