قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے -…

قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 2 از 10
  •  ایرانی انقلاب کے سینئر عہدیدار اور شام میں ایرانی فوج کے کمانڈر جنرل محمد علی فلکی نے اعتراف کیا ہے کہ تہران نے فیلق المقدس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی کمان میں شیعہ فریڈم آرمی کے نام سے ایک فوج تشکیل دی ہے جو اس وقت تین اہم محاذوں... عراق، شام اور یمن میں لڑائی میں شامل ہیں۔

( روزنامہ ایکسپرس اخبار کوئٹہ، 20 اگست 2016ء)

  •  شام میں ایرانی فوجی اور 6 پاکستانیوں کی ہلاکت کا انکشاف۔ پاکستانی زينبون ملیشیا میں شامل تھے، حلب میں مارے گئے، قم میں سپرد خاک کیا گیا۔

ایرانی میڈیا۔

تفصیلات کے مطابق شام کے شمالی صوبے حلب میں شامی اپوزیشن کے ساتھ لڑائی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک اعلیٰ افسر سمیت زینبون ملیشیا میں شامل 6 پاکستانی جنگجو ہلاک ہو گئے۔ ایرانی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کا مہدی ثامنی راد نامی افسر فروری کے مہینے میں حلب کے مضافات میں ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہوا۔ 

        ایرانی خبر رساں اداروں نے پاکستانی شیعہ نوجوانوں پر مشتمل زينبون ملیشیا کے 6 جنگجوؤں کے جنازے کی تصاویر پر مبنی رپورٹس شائع کی ہیں۔ زینبون ملیشیا کو پاسداران انقلاب بھرتی کرتے ہیں جو شام جاکر بشارالاسد کی فوج کے شانہ بشانہ اپوزیشن کے خلاف لڑائی میں حصہ لیتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس طرح شام جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 600 تک پہنچ چکی ہے۔ شام میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کو ایران کے شہر قم میں خصوصی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔ یہ قبرستان اُن افراد کے لئے مخصوص ہے جو کہ شام میں بشارالاسد کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان گنوا دیتے ہیں۔ مرنے والے پاکستانیوں کی شناخت۔۔۔ عزیزعلی شیخ، سید امام نقی، سہیل عباس، الطاف حسین ، انتظار حسین اورفرزندِ علی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

( روزنامہ ایکسپرس اخبار کوئٹہ، 7 مارچ 2016ء)

  •  ایران نے شام میں حالیہ دنوں میں لڑائی کے دوران اپنے 13 فوجی مشیروں کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا ہے۔

ایرانی انقلاب گارڈز کے ترجمان حسین علی رضائی نے کہا کہ لڑائی میں 21 فوجی مشیر زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مرنے والے تمام گارڈز کا تعلق ایران کے صوبے مازدارن سےتھا۔ 

(روزنامہ ایکسپرس اخبار کوئٹہ، 8مئی 2016ء)* 

    ایران میں باقاعدہ تربیتی کیمپ بنائے گئے ہیں، جہاں پر پاسدارانِ انقلاب کی نگرانی میں شیعہ نوجوانوں کو تخریب کاری اور ٹارگٹ کلنگ وغیرہ کی تربیت دے کر اسلامی ممالک میں بھیجتے ہیں:

       اپنے مخالفوں کو قتل کرنے کے علاوہ ایرانی حکومت دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کے واقعات میں بھی ملوث پائی گئی ہے۔ چند واقعات ملاحظہ فرمائیں۔

  •  مجاہدین کے لیڈر آقای محدسیاں نے مصری اخبار "الاهرام" کو بتایا کہ اس خطہ کے تمام انتہا پسندوں کا مستقل ٹھکانہ ایران میں ہے جہاں ان کو پاسدارانِ انقلاب کی نگرانی میں اسلحہ کے مؤثر استعمال اور تخریب کاری کی بہترین تربیت دی جاتی ہے اور ان کو ذہنی اور جسمانی طور پر دوسرے ملکوں میں ہر طرح کی دہشت گردی اور تخریب کاری کیلئے تیارکیا جاتا ہے۔

 (اخبار الاهرام، 8:12:1992)

  • اسرائیلی ریڈیو: 1993-2-29 کے مطابق ایران پڑوسی اسلامی ملکوں میں انتہا پسندوں کو سرمایہ اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور ان کو تخریب کاری کی تربیت دے رہا ہے تاکہ ان ملکوں کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے اور وہاں کی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے بعد ان پر اپنی اجارہ داری قائم کر سکے ۔

 (ایران افکار و عزائم، صفحہ 28)

  • فروری 1993 میں ترکی کے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ہماری تفتیش سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ملک میں سیاسی قاتلوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے، انہوں نے بتایا کہ ہم اب تک ایک ایسے گروہ کے 19 کارکن گرفتار کرچکے ہیں جن کا براہ راست تعلق ایران سے ہے، اور جن کو ایران میں تخریب کاری کی تربیت دی گئ ہے۔

  (دی نیوز، راوالپنڈی، 1993-2-5)

  •  مارچ 1993 میں امریکی وزیرِ خارجہ نے ایران کو ایک بین الاقوامی عادی مجرم اور تخریب کار قرار دیا اور کہا کہ ایران اپنے مسلح گروہوں حزب اللہ ، الجہاد اور دوسری جنگجو تنظیموں کو دنیا میں دہشتگردی کے لیئے استعمال کر رہا ہے۔ وہ نہ صرف اپنے مخالفوں کو ختم کر رہا ہے بلکہ وہ تخریب کاری کے ذریعے دوسرے ملکوں میں دہشتگردی بھی پھیلا رہا ہے۔ 

(voa,1993-3-31)

  •  بی بی سی نے 1993-6-2 کو بتایا کہ ترک وزیرِ خارجہ نے ایرانی وزیرِ خارجہ کو ان واقعات کی تفصیل سے آگاہ کردیا ہے اور ضروری ثبوت بھی فراہم کردئیے ہیں۔
  • مارچ 1992ء میں ارجنٹائن میں اسرائیلی سفارتخانہ کو طاقتور بم کے ذریعے اُڑا دیا گیا، جس میں تقریبا 50 لوگ مارے گئے، ایران کی سر پرستی میں قائم ہونےوالی جماعت الجهاد نے فوراً اس کی ذمہ داری قبول کر لی۔ 

(vog:19:3:1992)

  • اسی طرح اسکندریہ میں چند گرفتار شدہ مصری تخریب کاروں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایران کے شہر مشہد میں تربیت حاصل کی، انہوں نے بتایا کہ وہاں تقریباً پندرہ سو نوجوان زیرِ تربیت تھے جن کا تعلق مصر، الجزائر، تیونس، سعودی عرب اور پاکستان سے تھا۔ 

(ایران افکار و عزائم، صفحہ39)

  • ایران کی کچھ سرکاری تنظیمیں اور سیاسی نمائندے اُن تمام اسلامی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے رابطے ایسے نوجوانوں خصوصاً شیعہ نوجوانوں سے ہیں جو یا تو بے کار ہیں یا کسی وجہ سے اپنی حکومتوں سے بیزار ہیں اور یا شیعہ تنظیموں کے سرگرم کارکن ہیں۔ ایسے نوجوانوں کو ایرانی اور بوسینیائی لڑکیوں سے شادی کی ترغیب اور مالی پیشکش کی جاتی ہے اور تخریب کاری کی تربیت کیلئے ایران لایا جاتا ہے جہاں اس مقصد کیلئے درجنوں تربیتی مراکز کام کر رہے ہیں۔ ان مرکزوں میں نو جوانوں کو تربیت دی جاتی ہے۔

(ایران افکار و عزائم، صفحہ39)

  • شیعہ طبقہ مسلح ہونا اپنا حق اور تخریب کاری کو اپنے ایمان کا جزو سمجھتےہیں۔ ان کا قول ہے کہ دہشت گردی اور تخریب کاری کے عمل سے بڑی سے بڑی قوت کامقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
صفحہ 2 از 10