قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے -…

قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 3 از 10

در اصل ایران کے انقلاب کی بنیاد ہی دہشت گردی اور تخریب کاری پر رکھی گئی تھی اور شاہ کے خلاف انقلاب کی راہ ہموار کرنے کے لیئے ہزاروں ایرانیوں نے (0:P:L) کےچارج حبش کی زیر نگرانی عراق، لیبیا اور لبنان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی تربیت حاصل کی۔ (P،L،O) کے تربیت یافتہ ایرانی تخریب کاروں نے بعد میں پاسدارانِ انقلاب کے فرائض سنبھال لئیے۔ وہ اس فن میں ایسی مہارت حاصل کر چکے ہیں کہ یہ لوگ دوسرے اسلامی ملکوں کے شیعہ نوجوانوں کو اپنے کیمپوں میں تخریب کاری کی تربیت دیتے ہیں ان کا دعوی ہے کہ ان کے تربیت یافتہ تخریب کار اپنے جرائم کے ارتکاب کے بعد شاذ و نادر ہی پکڑے جاتے ہیں۔

 (ایران افکار و عزائم، صفحہ5)

  • حزب الله کا آخری گھناؤنا منصوبہ جو 2006ء میں پکڑا گیا وہ یہ تھا کہ حکومتِ بحرین کو پتہ چلا کہ ایرانی حکومت حزب الله کے ذریعے سے بحرین کے مختلف علاقوں میں زمینیں خرید کر شیعہ لوگوں میں تقسیم کر رہی ہیں تا کہ شیعہ آبادی میں اضافہ کیا جا سکے۔ایران کی حمایتی تنظیموں اور جماعتوں میں بالواسطہ طریقے سے امدادی رقوم تقسیم کی جا رہی ہیں۔ بلکہ سیکورٹی اداروں کی رپورٹ کے مطابق تہران کے قریب امام علی، چھاؤنی میں حزب الله بحرین کے اراکین کو تربیت دینے کیلئے معسکر کو دوبارہ بنا دیا گیا ہے اور اس کی تشکیلِ نو کی جارہی ہے۔

حزب الله لبنانی کے کئی لیڈروں نے اس معسکر میں ملاقاتیں کی ہیں،

ان میں ایک ملاقات مکرم برکات اور بحرینی شیعہ جنگجوؤں کی ہوئی جو پہلے دمشق اور پھر بیروت میں منعقد ہوئی۔ ان ملاقاتوں میں بحرین میں شیعہ اثر و رسوخ کو بڑھانے کیلئے شیعہ تحریک کو فعال بنانے اور سیاسی عمل میں تنظیم سازی پر غورو فکر کیا گیا۔ اس ملاقات میں حسن نصر اللہ نے شیعی افرادی قوت مہیا کرنے کا عہد کیا تا کہ ایرانی شیعی پلان کو مکمل کیا جا سکے۔

    اسی طرح اس میٹنگ میں اقتصادی اثر و رسوخ میں اضافے کی قرارداد بھی منظورکی گئی، تاکہ شیعہ تاجروں کو بھی سرگرم کیا جا سکے۔ یہ کام شیعہ تاجروں کی بھاری امدادی رقوم دے کر اور ان کے ساتھ کاروباری شراکت کر کے کیا جا سکے تاکہ بحرین کی اقتصادیات پر کنٹرول ہو سکے اور بعد میں بعض بنیادی ضروریات زندگی کو مارکیٹ سے غائب کر کےمصنوعی قلت کا بحران پیدا کر کے حکومت کو اپنے مزید مطالبات ماننے پر مجبور کیا جا سکے۔

اس کے ساتھ ایرانی انٹیلی جنس ادارے بحرینی شیعہ کو انتخابات میں بھر پور شرکت کیلئے ہر قسم کی امداد فراہم کریں گے تاکہ قومی اسمبلی میں شیعہ ممبران کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکے۔ تا کہ وہ شیعہ مفادات کے مطابق قانون سازی کرسکیں اور ایسے قوانین اسمبلی سے پاس کرا سکیں جو خلیجی اور عربی ممالک میں ایرانی مفادات کی حمایت اور تحفظ کا کام دے سکیں۔ (حزب اللہ کون ہے، صفحہ 49)

  •  اسی لئے یمن کے رئیس علی بن عبد اللہ نے بھی ایک خطاب میں شیعہ اور ایرانی حکومت کی طرف سے حوثی کو ملنے والی امداد کی طرف اشارہ کیا۔ کیونکہ حوثی کی تنظیم کو اتنی بھاری مقدار میں مالی اور عسکری امداد اندرونِ یمن سے ملنا ممکن ہی نہیں عسکری امداد کی صورت یہ تھی کہ عراقی شیعہ اور ایرانی انقلابی گارڈز کے افراد یمن میں قتل و غارت کے مظاہروں اور دہشت گردی کی وارداتوں کیلئے تربیت دینے کیلئے یمن آتے رہے ہیں۔ چنانچہ روزنامه اخبار اليوم اپنے ایک شمارے میں لکھتا ہے کہ حوثی کے کارکنان میں سے گرفتار ہونے والوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ ایرانی انقلاب گارڈ اور عراقی شیعہ کے معسکرات میں دہشت گردی کی تربیت لیتے رہے ہیں۔

(حزب اللہ کون ہے ،صفحہ71)

  •  حجازی حزب الله کے افراد ایران اور لبنان میں عسکری اور تخریبی تربیت حاصل کرتے ہیں تاکہ اسلامی حکومتیں الٹنے اور ایرانی انقلاب کے زیرِ اثر نظام حکومت اُن ملکوں میں قائم کرنے کے خفیہ منصوبوں پر عمل کر سکیں۔ اگرچہ اس عسکری ونگ کے متعدد کمانڈر گرفتار ہو چکے ہیں اور کچھ قائد تنظیم سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں، تاہم اس تنظیم نے سیاسی اورابلاغی کوششیں بیرونِ ملک جاری رکھی ہوئی ہیں اور تنظیم ابھی تک اپنے شیعی عوام کو اشتعال دلانے اور حکومتی دشمنی اور عداوت پر ابھارنے والے رسائل اور میگزین شائع کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے انٹرنیٹ ویب سائٹ کھولی ہوئی ہے جہاں پر اپنی باغیانہ اور تخریبی نشریات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ (حزب اللہ کون ہے، صفحہ59)
  • خلیجی ممالک میں کویتی حزب الله کے موسسین اور کارکنان کی بھرتی قم شہر ہی سے ہوتی ہے، جبکہ یہ لوگ وہاں کے حوزہ علمیہ میں شیعی تعلیم حاصل کرنے کیلئے جاتے ہیں۔ اس تنظیم کے اکثر کارکنان کے ایرانی انقلابی گارڈ کے ساتھ گہرے روابط ہیں، کیونکہ انہوں نے تخریبی تربیت انہیں سے حاصل کی تھی۔ انہی لوگوں نے "الضر" میگزین بھی نکالا تھا جو حزب الله الکویتی کے نظریات و افکار کا پرچار کرتا تھا۔ یہ رسالہ تہران المركز الكويتي للاعلام الاسلامی کے تحت شائع ہوتا تھا۔ یہ رسالہ کویتی شیعہ کو اپنے مقاصد و اہداف کے لئے استعمال کرتا اور ان کی ذہن سازی کرتا تھا، تا کہ کویتی شیعہ حکومت کویت کا تختہ الٹ کر ایرانی شیعی حکومت کے تابع حکومت قائم کریں۔

یہ تنظیم کویت میں فتنہ و فساد اور عوامی اضطراب و بے چینی پیدا کرتی، بم دھما کے، اغوا اور قتل و غارت کی خفیہ کاروائیاں کرتی، تاکہ کویت میں اپنا تسلّط قائم کر کے ایران کی ہم مذہب حکومت قائم کر سکیں۔

کویتی حزب الله ایرانی شیعہ تحریک کا ایک جزو شمار ہوتی ہے جس کی قیادت آیت اللہ خامنہ ای ملعون کرتا ہے۔ 

(حزب اللہ کون ہے، صفحہ61)

  •  علی اکبر محتشمی کے بیان کے مطابق حزب الله کے قیام سے لے کر اب تک تقریباً ایک لاکھ شیعہ جنگجو جنگ کی ٹریننگ حاصل کر چکے ہیں۔ ہر تربیتی کیمپ میں 300 جنگجو شریک ہوئے تھے اور اب تک لبنان اور ایران میں بے شمار تربیتی کیمپ لگائے جاچکے ہیں۔ 

(حزب اللہ کون ہے، صفحہ 92)

     ایران اپنے دہشت گرد قاتلوں اور مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہیں

صفحہ 3 از 10