قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے -…

قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 4 از 10

        لندن کے انگریزی ماہنامہ ایکواف ایران نے اپنی اپریل 1993 کی اشاعت میں ایک مضمون لکھا۔ اخبار نے لکھا کہ ایران نے ان جرائم میں ملوث ہونے سے اگرچہ ہر دفعہ انکار کیا لیکن حکومتِ ایران کا ردِّ عمل اس کے انکار کو نہ صرف جھٹلاتا ہے بلکہ ان جرائم کو سچ بھی ثابت کرتا ہے۔ سچ پوچھیں تو ایران نے اپنے ان جرائم کی کبھی بھی مذمت نہیں کی بلکہ اپنے اُن تمام گرفتار شدہ قاتلوں اور مجرموں کی ہمیشہ پشت پناہی کی اور اُن کو رہا کرانے اور بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

ماہنامہ نے مزید لکھا کہ:

  ایران، لبنان کی حزب اللہ تنظیم کے ذریعے مغربی لوگوں کو یرغمال بنانے اور پھر ان کو رہا کرانے کا بھی ذمّہ دار ہے۔ تاکہ اس کاروبار سے معقول معاوضہ حاصل کر سکے۔

(ایران افکار و عزائم، صفحہ30)

ایران پڑوسی ملکوں کی ترقی نہیں چاہتا۔ اور اُن کے امن کو تباہ کرنا عبادت تصور کرتے ہیں۔ اور تمام اسلامی ملکوں کی امن کو تباہ کرنے میں ایران ملوث ہے

  •    پڑوسی ملکوں کی ترقی اور امن اِن کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور اس کے اثرات کو ختم کرنے کیلئے ایرانی قوم اور ذرائع ابلاغ ان کی کمزوریوں کو اُچھالتے رہتے ہیں، ان کے خلاف طرح طرح کے طنزیہ مضامین لکھتے اور نشر کرتے ہیں، ان کے مختلف طبقات میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

(ایران افکار و عزائم، صفحہ53)

  •   شیعیت کا اصل مقصد اس اصول سے بغاوت کی راہ ہموار کرنا تھا کہ قرآن و سنت اور اعتماد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  پر قائم اس دینِ اسلام میں گمراہی کا راستہ کھولا جا سکے، اس کیلئے انہوں نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جس کو تخریبِ اسلام کہا جاتا ہے اور یہ شیعوں میں کوئی معیوب فعل بھی نہیں ہے۔ کیونکہ ان کی مذہبی تعلیمات بھی اس کے موافق ہیں مثلاً شیعہ مجتہد اپنی کتاب اصول کافی جلد2 صفحہ20 پر واضح الفاظ میں لکھتے ہیں کہ 

 "حقِ حکمرانی صرف شیعوں یا ان کے آئمہ کا ہے اور شیعوں کا فرض ہے کہ تمام سنی حکومتوں کو تباہ کرتے رہیں اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور سنی حکومت میں اطمینان سے رہے تو خواہ یہ کتنے ہی متقی ہوں، عذاب کے مستحق ہوں گے۔“

  • آیت اللہ خمینی ملعون اور آیت الله منتظری ملعون نے انقلابِ ایران کی برآمد کیلئے جو طریقے اختیار کئے ان میں سے ایک طریقہ دبی ہوئی اور غلام قوموں کی رہنمائی تھی، وہ اس انداز میں کہ انہوں نے مختلف موقعوں پر ان کو مخاطب کیا اور پیغام بھیجے تا کہ وہ اپنے ملکوں میں انقلاب کیلئے جوش و جذبے سے سرشار ہو سکیں اور شیعیت کے لئے جنگ لڑسکیں۔ انہوں نے کہا: اے دنیا کے مسلمانو! اسلام کو بچانے کیلئے جلدی کرو، دنیا کی بڑی طاقتیں اسلامی ملکوں اور ان کے حکمرانوں کو زیر کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔ تم ان ظالموں سے بدلہ لینے کیلئے اٹھو۔ ایران اسلامی ملکوں کے لوگوں کا بھائی ہے لیکن تمہارے حکمران امریکہ کے ایجنٹ ہیں، اسلام کی فتح کا راز شہادت میں ہے۔ خمینی نے ایرانی انقلاب کی فتح کے لئے یہی ہتھیار استعمال کیا۔ ہم سچے دل سے تیار ہیں کہ تمہارے انقلاب کے حصول کے لئے ہم اپنے تجربات پیش کریں۔ آیت اللہ خامنہ ای ملعون اور دوسرے ایرانی لیڈر مختلف موقعوں پر اپنی تقریروں میں مندرجہ ذیل نکات پر زور دیتے رہے ہیں۔

☆۔۔۔۔دنیا میں مظلوم لوگوں کیلئے انقلابِ ایران ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

☆۔۔۔ آج دنیا کے مسلمانوں کی نظریں ایران پر لگی ہوئی ہیں اوراسلامی ایران ان کی آخری اُمید ہے۔

☆۔۔۔خمینی کا ایمان تھا کہ خدا نے ایران کو ان اسلامی ملکوں کے انقلاب کی برآمد کی ذمہ داری سونپی ہے جو اسلام کے معاملے میں مخلص نہیں۔ 

☆۔۔۔ ہمیں اپنے انقلاب کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر کرنی چاہئے تا کہ دوسرے ملکوں میں انقلاب کی راہیں زیادہ ہموار ہوسکیں۔

☆۔۔۔ دوسرے ملکوں میں اس وقت اسلام کے حق میں جو شورشیں اُٹھ رہی ہیں ان کے اور ایران کے اسلامی انقلاب کے درمیان ایک روحانی رشتہ ہے۔ 

☆۔۔۔ ہم دیکھتے ہیں کہ صحیح اسلام (شیعیت) اب ایران کی حدود سے باہر پہنچ چکا ہے، گو اسے بغیر کسی طاقت کے استعمال کے برآمد کیا گیا ہے۔ دنیائے اسلام میں تمام مذہبی شورشیں ہمارے انقلاب کا نتیجہ ہیں۔

ایران نے دوسرے ملکوں میں بڑھتی ہوئی اسلامی (شیعی) جدوجہد کی حمایت کا تہیہ کر رکھا ہے۔

 (ایران افکار و عزائم، صفحہ 36،37)

  • اسلامی نشر و اشاعت کی ایرانی وزارت نے اپنے ایک کتابچہ میں جو 1984ء میں شائع ہوا۔ انقلاب کی برآمد کے موضوع پر آیت اللہ خمینی ملعون اور ان کے جانشین آیت الله منتظری ملعون کے بیانات کے حوالوں سے اس کا طریقہ اور مقاصد بیان کئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ:

ہمیں صرف اسلام (شیعیت) کی سربلندی اور مسلمانوں اور محکوم لوگوں کی آزادی مقصود ہے۔ ہم ہر جگہ انقلاب لانے کی کوششوں میں معاونت کرنا چاہتے ہیں۔ (یعنی جس ملک میں بھی لوگ اپنے ملک کی امن کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں ، ہم (ایرانی شیعہ) اس کے ساتھ تعاون ضرور تعاون کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام مظلوم لوگ اپنے حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے معاملات کو اپنی گرفت میں لے کر اپنے حقوق کو بزور حاصل کریں۔

  •  یہی وہ ایران ہے جو آج نئے شیعی صفوی توسیعی منصوبے کو چلا رہا ہے۔ یہ ایران ہی ہے جو امریکہ کو عراق کے خلاف ابھارتا ہے اور اب امریکی قبضے کے استمرار کیلئے ہر طرح کی خدمت بجالا رہا ہے۔ یہ ایران ہی ہے جو حزب اللہ کو لبنانی تباہی اور امن و امان کو غارت کرنے کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ یہ ایران ہی ہے جس کی للچائی نظریں مسلسل خلیج عرب پر جمی ہوئی ہے۔ یہ ایران ہی ہے جس نے عرب امارات کے تین جزائر پر ظالمانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ ایران ہی ہے جو پاکستان کی امن کو خراب کر رہے ہیں، اور یہاں پر ایرانی انقلاب لانے کے لئے انہوں نے مختلف طریقے اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ ایران ہی ہے جو فلسطینی تحریکوں کو اپنے مقاصد کیلئے جب چاہتا ہے جیسے چاہتا ہے استعمال کرتا ہے اگرچہ عربی اور اسلامی علاقوں کا امن و امان غارت ہی ہو جائے۔ (حزب اللہ کون ہے، صفحہ 172)*

پاکستان میں اسلامی نظام اور افغانستان میں طالبان کےانقلابی اقدامات میں ایرانی رخنہ اندازیاں

صفحہ 4 از 10