قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے -…

قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 5 از 10

   میرے محترم قارئین کرام! سپاہ صحابہؓ  پاکستان کے مشن، دستور اور منشور میں جہاں رافضیت و شیعیت کے کفریہ عقائد و نظریات کی بناء پر شیعیت کے کفر کا پرچار ہے، اس کے ساتھ ساتھ مملکت خداداد پاکستان میں نظام خلافتِ راشدہ کے نظام کے نفاذ کے لئے جدوجہد کرنا بھی شامل ہے، اس لئے بحیثیت اصحاب رسولﷺ کے سپاہی کے دعویدار کے میں اور آپ آج کی اس مختصر نشست میں پاکستان میں گذشتہ پچاس سال میں مختلف اوقات میں احیائے نظامِ خلافت راشدہ کے لئے کی گئی جدوجہد اور اس کے نتائج و عواقب پر نظرِ اختصار دوڑائیں گے تاکہ عوامی سطح پر اس صورتِ حال کو زیادہ سے زیادہ سامنے لایا جائے کہ دینِ اسلام کا اصل دشمن کون ہے جن کی وجہ سے پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہو سکا۔

میرے عزیز دوستو!

    اس ملک میں جب بھی نفاذ اسلام اور خلافت راشدہ کے نظام کے نفاذ کیلئے جدوجہد کی گئی وہ بار آور ثابت نہیں ہو سکی۔ اس سلسلے میں جتنے بھی انقلابی اقدامات اُٹھائے گئے اچانک غیر مرئی ہاتھوں کے ذریعے اس جدو جہد کو ثبوتاژ کرتے چلے گئے۔ غرض گذشتہ نصف صدی کے طویل عرصے میں کوئی بھی مخلص مذہبی قومی لیڈ راپنے اس ہدف کو حاصل نہیں کر سکا۔

جنرل ضیاء الحق سے ہزار اختلاف کے باوجود مجھے اور آپ کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ انہوں نے ماضی قریب میں اس سلسلے میں پیش رفت کرنے کی کوششیں کیں مگر اہل تشیع نے خمینی کے ایرانی انقلاب کی شہہ پر اسلام آباد کا گھیراؤ کر لیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنرل ضیاء الحق اپنی طبع کی نرمی کی وجہ سے شیعیت کی کھلی جارحیت کے سامنے گھٹنے ٹیک گیا، اور نہ صرف اسلامی نظام سے راہِ فرار اختیار کی بلکہ ایرانی حکمرانوں کی دھمکیوں سے مرعوب ہو کر تعلیمی اداروں میں اسلامیات کا نصاب اور زکوۃ، شیعہ گروہ کیلئے الگ کرنے کا مطالبہ تسلیم بھی کر لیا۔

اس لئے سپاہ صحابہؓ  کا موقف ہے کہ شیعہ نے اپنے آپ کو نہ تو پاکستانی قومیت میں تسلیم کیا، زکوۃ کا انکار کر کے اپنی زکوۃ ایران میں بھیج کر اپنی پاکستانی قومیت سے سرکاری سطح پر انکار کیا اور اسلام کے اہم اور بنیادی رکن کا انکار کر کے اپنے آپ کو مسلمان بھی تسلیم نہیں کیا۔ تو ہم اگر شیعیت کو انہی کے بنیادی عقائد کی وجہ سے کافر کہتے ہیں تو اس میں ہمارا قصور کیا ہے؟

اسی طرح انہوں نے اسلامیات الگ کر کے اپنے آپ کو مسلم قوم کا ایک متحدہ حصہ تسلیم کرنے سے انکار کیا جس کی وجہ سے یہ خود ہی مسلمانوں سے ان دو مطالبوں کے الگ کرنے کی وجہ سے الگ تھلگ قوم کی حیثیت سے پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ غرض یہ بات تو عیاں ہو گئی کہ پاکستان میں شیعہ گروہ اسلامی نظام کے نفاذ میں آج تک نظام خلافتِ راشدہ کے نفاذ کیلئے جب بھی کوششیں اپنے نتائج کے حصول کے قریب پہنچیں تو شیعہ گروہ نے اپنی الگ قوم کے تشخص کے لئے سامنے آکر حکمرانوں کو اپنی جارحانہ پالیسیوں کے ذریعے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔

اگر پاکستان میں اندرونی طور پر صورت حال ان کے کنٹرول کے اندر نہ رہتی تو بیرونی طور پر بیرونی حکمرانوں کے ذریعے براہ راست مداخلت کر کے ہر ایسی اسلامی تحریک کوناکام بناتا رہا۔ عموماً ریڈیو تہران کا ایسے موقعوں پر یہ پروپیگنڈہ بہت بھونڈے انداز میں کیا جاتا رہا کہ پاکستان کے تمام طبقوں کے لئے مذہبی آزادی ضروری ہے اور ہر طبقے کو اس کے مذہبی عقائد پر عمل کی آزادی دینا ضروری ہے۔ نیز ایرانی اخبارات بالخصوص ایرانی سرکاری اخبارات کے علاوہ دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی اس قسم کے بھونڈے پروپیگنڈے وقتًا فوقتًا کئے جاتے رہے۔ یہی وہ بنیادی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے پاکستان میں قومی مذہبی لیڈروں کی جدوجہد سبوتاژ ہوتی رہی، مثلاً حضرت مولانا مفتی محمود  ؒ  صاحب کی سرحد کی وزارت عظمی کے دور کی جد وجہد خصوصاً قابل ذکر ہے۔ اسی طرح 1977ء کی تحریک نظام مصطفیﷺ کو ملیامیٹ کرنے میں شیعیت کے غیر مرئی ہاتھ تھے جن کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یہ عظیم تحریک ناکام ہوئی۔ بالکل اسی طرح موجودہ دور کی طالبان کی خالص اسلامی انقلاب اور اسلامی نظام کے نفاذ کی افغانستان میں افغانستان کے علمائے حقہ کی تحریک جو عالم اسلام میں اس وقت واحد مذہبی اسلامی نظام کا نفاذ مخلصانہ کوششوں پر مشتمل ہے، ایرانی حکمرانوں نے روس اور انڈیا سے زیادہ اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ کسی طرح افغانستان میں طالبان کا حقیقی اسلامی انقلاب کو ناکام کیا جائے۔ جس میں اس وقت تک 16لاکھ سے زائد نوجوانوں مسلمان مجاہدین کا خون شامل ہے، لیکن ایران کے شیعہ عقائد و نظریات رکھنےوالے بدبخت حکمرانوں نے اپنی توسیع پسندانہ قدیم عادت کے مطابق وہاں کی شیعہ دہشت گرد تنظیم حزب وحدت کو بے تحاشا رقم اور مہلک اسلحہ اور عیاشیوں کے سامان وافر مقدار میں مہیا کر کے مسلمان دشمنی، اسلام دشمنی کے ثبوت دیئے، جس کا انکار آج کا کوئی بھی مسلمان نہیں کر سکتا۔ 

صفحہ 5 از 10