قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے -…

قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 6 از 10

افغانستان کے اسلامی انقلاب میں ایرانی رخنہ اندازیوں کے تقریباً وہی مقاصد ہیں جو پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ میں رکاوٹ بنیں اور ایران کے مدِّنظر ہیں۔ اگر ایران افغانستان کے اسلامی انقلاب میں رکاوٹ نہ رہے تو ایرانی خمینی انقلاب کے پیچھے جو اسلام کے نام پر ڈھونگ، دجل اور اسلامی انقلاب کے نام پر جو فریب گذشتہ 20 سال سے عالم اسلام کے سامنے جھوٹ کو اتنا پھیلاؤ کہ وہ سچ نظر آنے لگے کی پالیسی ایران نے گذشتہ 20سال سے مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے شروع کر رکھی ہے۔ تمام عالم اسلام کے سامنے غیر اسلامی اور خالصتًا سنی دشمنی پر مبنی خمینی ملعون کی خواہشات کا انقلاب پورے عالمِ اسلام میں اسلامی انقلاب کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔ اس لئے ایران نے اپنے سیاسی حواریوں انڈیا اور روس کے ذریعے بھر پور کوشش کی کہ عالمِ اسلام کی عظیمُ الشّان واحد تنظیم طالبان اور افغانستان کو تقسیم کر دیا جائے۔ چنانچہ بامیان کو الگ ریاست بنا کر ایران نے اپنے ماتحت قانونی اور صوبہ کے طور پر دنیا کے سامنے متعارف کر دیا۔ وہاں کی شیعہ دہشت گرد تنظیم حزبِ وحدت نے وہاں کے علماء کرام، مسلم طلباء اور سنی العقیدہ عوام کا قتل عام غیر مسلم قوتوں کے ساتھ مل کر روس اور انڈیا کی پشت پناہی میں کیا۔ ایران افغانستان کی اسلامی انقلابی تحریک کے تباہ و برباد کرنے کے مکمل منصوبے بنا کر اس نظام میں رکاوٹیں ہی پیدا نہیں کر رہا بلکہ اس سرزمین اور سرزمین پر بسنے والے علمائے حقہ مجاہدین وغیرہ کو تباہ و برباد کر کے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کرنا چاہتا ہے۔ لہذا ... 

  1. ایران، پاکستان اور افغانستان میں اسلامی انقلابی تحریک کو سبوتاژ اس لئےکرتا ہے تا کہ اس کے ذریعے سے اپنے جھوٹے نام نہاد اسلامی انقلاب کو بے نقاب ہونے سے بچاتا ہے۔
  2. جتنے بھی اسلامی ممالک ہیں مثلاً پاکستان باالخصوص افغانستان اور اس میں برپا ہونے والے حالات وغیرہ، نیز عراق اور دیگر وہ تمام اسلامی ممالک جن کی سرحدیں ایران کے ساتھ ملتی ہیں ان کو ایران سیاسی، بدامنی اور اندرونی کشمکش میں مبتلا کر کے اپنےمذہبی شیعہ انقلاب کے لئے راہیں ہموار کرنا مقصود ہوتی ہے۔
  3.  افغانستان میں حزبِ وحدت جیسی دہشت تنظیم کے ذریعے افغانستان کو تقسیم کر کے حقیقی انقلاب کی راہیں مسدود و محدود کر کے ایران اپنے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا۔
  4. ایرانی متعصب شیعہ قیادت یہ کبھی بھی برداشت نہیں کرتی کہ اس کی سرحدوں سے ملنے والے اسلامی ممالک میں حقیقی اسلامی انقلاب برپا ہو، کیونکہ حقیقی اسلامی انقلاب اگر کسی بھی ایسے اسلامی ملک میں آجاتا ہے تو ایران میں موجود 40فیصد سنی آبادی میں بے چینی پھیلےگی اور پھر ایران میں سنی حقوق کے لئے ایرانی سنیوں کی ہمدردیاں یقینا ایسی مسلم قیادت سے ہوں گی جو اس نام نہاد اسلامی ملک میں حقیقی اسلامی انقلاب برپا کرے گا۔ (توشه کارکن، صفحہ151)

افغانستان اور عراق حکومتوں کے خاتمے میں ایران کاکردار اور امریکہ کے ساتھ اس کے خفیہ تعلقات

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ حالیہ جنگوں میں ایران نے پس پردہ رہتے ہوئے نہایت اہم اور بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ خصوصاً افغانستان اور عراق کی حالیہ جنگوں کے دوران اور جنگوں سے پہلے اور جنگ کے خاتمے پر اس کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ بلکہ یہ امریکہ کے صف اول کے اتحادی تھے جنہوں نے افغانستان اور عراق کی تباہی کے منصوبے بنائے اور اس مقصد کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑی۔

ان کی انتھک کوششوں کا مقصد صرف ان دو حکومتوں کا خاتمہ تھا تا کہ اُن علاقوں میں اپنی نسلی شیعی متعصب جماعت کو فروغ دے سکیں اور ان کے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ اس بات کا اعتراف خود امریکیوں کو بھی ہے۔ اگر ایران کی شمولیت نہ ہوتی تو طالبان حکومت کا اس تیزی سے خاتمہ ممکن نہیں تھا۔ ان کے اس تعاون کو اس خوبصورت جملے میں سمو دیا گیا۔

" اے ایرانی بھائیو! اگر تم نہ ہوتے تو کابل اور بغداد کبھی فتح نہ ہوتے ۔"

ایران کی انہی رضا کارانہ خدمات کے صلے میں جو اس نے امریکی افواج کیلئے عراق میں سر انجام دیں تھیں، ایران کو عراقی پارلیمنٹ میں بھر پور شیعہ نمائندگی کی صورت میں اس کا صلہ دیا گیا۔ امریکی قابض فوج نے جیسے ہی شیعہ افراد کی اکثریت پر مشتمل نئی عراقی حکومت کا اعلان کیا تو ایران نے سب سے پہلے اس نام نہاد حکومت کو تسلیم کر لیا، حالانکہ یہ حکومت اپنے قانونی جواز سے بھی محروم ہے۔

اس کے فوراً بعد تحریک مجاہدین خلق کے جنگجو میدانِ جنگ سے الگ ہو گئے اورانہوں نے جنگ سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اس طرح امریکہ بھی ایران کے ساتھ بڑا نرم رویہ اپنائے ہوئے ہے، اگرچہ آئینی ہتھیاروں کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو، اور اب ایک بار پھر خفیہ میٹنگوں میں ایران اور امریکی اتحاد کے لئے مسودات تیار کئے جا رہے ہیں۔

(حزب اللہ کون ہے، صفحہ 126)

ایران دوسرے ممالک میں، اپنے مخالفین کو ختم کرنےکیلئے دہشت گردوں کی فنڈنگ کرتے ہیں

ایرانی حکمران دوسرے ملکوں میں موجود اپنے مخالفوں کو بھی اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں اور ان کو ختم کرنے کے لئے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ 

  • لندن کے ایک عربی اخبار المجلہ کے مطابق ایران نے فروری 1980ء میں دنیا بھر سے انقلابیوں کی (جن میں پاکستانی شیعوں کے نمائندے بھی شامل تھے) ایک کا نفرنس منعقد کی۔ اُس وقت سے لے کر اب تک اسلامی ملکوں میں انقلابی تحریکوں کی مدد پر 14بلین ڈالر خرچ کر چکے ہیں۔ ایرانی حکومت نے صرف 1990ء میں لبنان، پاکستان، افغانستان اور کئی دوسرے عرب ملکوں میں شیعہ تنظیموں اور دوسری تخریبی انقلابی تحریکوں کی مدد کیلئے 120ملین ڈالر مختص کئے۔ 

(ایران افکار و عزائم، صفحہ39)

  1.  ایران نے اپنے نئے بجٹ میں تخریب کاری کے لئے 500ملین ڈالر مختص کئے۔ اس مد میں آیت اللہ خامنہ ای ملعون کے پاس کروڑوں ڈالر کا پوشیدہ بجٹ اس کے علاوہ ہے۔

(ایران افکار و عزائم، صفحہ29)

  • ایران کے اسلامی پروپیگنڈہ کی تنظیم اس مقصد کے لئیے پہلے ہی 38000 علماء مختلف جگہوں پر بھیج چکی ہے۔ اور ایک بلین ریال سے زیادہ خرچ پر کتابیں وغیرہ چھاپ کر دوسرے ملکوں میں تقسیم۔کی جا چکی ہیں۔

(ایران افکار و عزائم، صفحہ38)

صفحہ 6 از 10