قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے -…

قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 8 از 10

صنعاء میں ایرانی سفارت خانے کے ذریعے سے حوثی کی تنظیم الشهاب المؤمن کو جو امداد دی گئی وہ ایک رپورٹ کے مطابق 42ملین یمنی ریال ہیں۔ یہ خطیر رقم حوثی کی تنظیم اور اس کے تابع دیگر شیعی مراکز کو دی گئی جو الصعده شہر میں ایرانی مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ 

یہ امداد ان رقوم کے سوا ہے جو حوثی کو شیعہ مؤسسات اور ادارے بھیجتے ہیں، مثلاً: ایرانی شہر قم کا ادارہ مؤسسة انصارين، لندن کا ادارہ مؤسسة خونی، کویت کااداره مؤسسة الثقلین اور لبنانی حزب اللہ کے تابع ادارے۔ ان کے علاوہ دیگر کئی شیعہ ادارے اور تنظیمیں بھی حوثی کو امدادی رقوم کی ترسیل جاری رکھتی ہیں۔ اور یمنی حکومت کے قریبی ذرائع نے یہ بات بیان کی کہ الصعده کی لڑائی کےدوران اور اس سے پہلے حوثی کی مدد کے لئے سعودی شیعہ بھی مالی امداد بھیجتے رہے ہیں۔ اسی لئے یمن کے رئیس علی بن عبد اللہ نے بھی ایک خطاب میں شیعہ اور ایرانی حکومت کی طرف سے حوثی کو ملنے والی امداد کی طرف اشارہ کیا۔ کیونکہ حوثی کی تنظیم کو اتنی بھاری مقدار میں مالی اور عسکری امداد اندرونِ یمن سے ملنا ممکن ہی نہیں عسکری امداد کی صورت یہ تھی کہ عراقی شیعہ اور ایرانی انقلابی گارڈز کے افراد یمن میں قتل و غارت کے مظاہروں اور دہشت گردی کی وارداتوں کیلئے تربیت دینے کیلئے یمن آتے رہے ہیں۔ چنانچہ روزنامه اخبار اليوم اپنے ایک شمارے میں لکھتا ہے کہ : حوثی کے کارکنان میں سے گرفتار ہونے والوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ ایرانی انقلاب گارڈ اور عراقی شیعہ کے معسکرات میں دہشت گردی کی تربیت لیتے رہے ہیں۔

( حزب اللہ کون ہے، صفحہ71)

*ایران کی بنائی گئ اور ایران کے لئے کام کرنے والی شیعہ دہشت گرد تنظیمیں*

         *میرے محترم قارئین کرام!* ایران میں شیعہ انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی بیرونی ممالک خصوصًا اسلامی ممالک میں متعدّد شاخیں اور تنظیمیں قائم کی گئی جو ایرانی نظام کے ماتحت تھیں۔ ان کا مقصد مختلف ممالک میں شیعہ کے ذریعے ایرانی انقلاب کے لئے راہ ہموار کرنے، ان ملکوں میں ایرانی طرز پر شیعہ خمینی انقلاب لانے، اور ان ملکوں کی امن وامان کو خراب کرنے، اور وہاں پر فتنہ و فساد برپا کرنے کے ناپاک عزائم شامل تھیں۔ ان میں سے چند تنظیموں کے نام درج ذیل ہیں:

 اسلامی ملکوں میں شیعہ دہشت گردوں کی بڑی بڑی پارٹیاں جن میں لبنان میں *حزب اللہ*، عراق میں *اسلامی انقلاب کی سپریم کونسل، پاکستان میں *تحریک جعفریہ*، افغانستان میں *وحدت پارٹی*، سوڈان میں *Nif*،مصر میں *الجہاد*، اور الجزائر میں *ISF* شامل ہیں۔ 

*(ایران افکار و عزائم، صفحہ39)* *1... حزب الله لبناني* 

لبنانی شیعه تنظیم *حزب الله* لبنان میں 1982ء میں قائم ہوئی۔ اور 1985ء میں سیاست کے میدان کارزار میں باقاعدہ شامل ہوگئی۔ یہ تنظیم ایرانی کمک پر پلنے والی تنظیم *حركة امل الشیعہ* کے بطن سے پیدا ہوئی ہے۔ 

 *حزب الله:* کا خطرناک کردار بالکل واضح ہو چکا ہے۔ کیونکہ گذشتہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ *حزب الله* ایک متعصّب شیعہ تنظیم ہے، جن کے سینوں میں سنی مسلمانوں کے خلاف حسد و نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ 

 *حزب الله* دورِ حاضر میں سنی مسلمانوں کی سب سے بڑی دشمن جماعت کے روپ میں ابھری ہے، جو پوری دنیا میں سنیوں کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہے۔ یہ جماعت ظاہرًا یہود و نصاریٰ کے خلاف علمِ جہاد بلند کرتی دکھائی دیتی ہے حالانکہ حقیقت میں یہ عالمِ اسلام میں شیعہ مذہب کے فروغ اور خمینی ملعون کے شیعی انقلاب کو کامیاب بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ *حزب الله* لبنان میں ایک ایرانی تنظیم ہے۔ اس کی دلیل خود اس کی تأسیسی دستاویز میں ان الفاظ میں موجود ہے کہ:

 ہم *حزب الله* کے ارکان ہیں، جس کے ہر اوّل دستے کو اللہ تعالٰی نے کامیابی عطا کی اور دنیا میں اسلامی حکومت کی نشاۃِ ثانیہ ہوئی۔ ہم ایک مدبّر عادل حاکم کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں جو بذاتِ خود ولی، فقیہ اور امامت کی شرائط پر پورا اترتا ہے۔ موجودہ دور میں ہمارا لیڈر *آیة الله روح اللہ الموسوی* خمینی ہے۔ جن کے ذریعے سے مسلمانوں نے ایران میں اسلامی انقلاب برپا کیا اور اسلام کی نشاۃِ ثانیہ ہوئی۔

 *حزب الله* کے لیڈر *ابراهيم الامين* اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم ایران کا ایک جزو ہیں، بلکہ ہم تو لبنان میں ایران اور ایران میں لبنان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 

*(حزب اللہ کون ہے،صفحہ 22:9)*

 *ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:* تمام شیعہ خمینی ملعون کے زیرِ اثر *حزب الله* کی نشونما ایران میں ہوئی۔ 

*(حزب اللہ کون ہے، صفحہ106)* 

 *2... حزب الله حجازی*:

 1979ء میں ایران میں خمینی انقلاب کے قیام کے شروع ہونے اور اس کے غلبے کے فوراً بعد ایرانی حکمرانوں نے اپنے سعودی ایجنٹوں کو سعودی حکومت کے خلاف بغاوت کا حکم دے دیا۔ ایرانی حکومت کی اس تحریض و تحریک پر 1400ہجری میں ضلع قطیف میں شیعہ آبادی نے بغاوت کر دی۔ اس بغاوت میں کچھ اس طرح کے نعرے لگائے گئے... ہم حسینی مذہب کے پیروکار ہیں، ہمارا قائد خمینی ہے، سعودی حکومت کو ختم کر کے دم لیں گے، شاہ فہد اور خالد کی حکومت کا تختہ الٹ کر رہیں گے، وغیرہ وغیرہ۔

 پھر جیسے ہی سعودی شیعہ قیادت اور ایرانی حکومت میں تعلقات مضبوط ہوئے اور خمینی انقلاب کے اثرات ظاہر ہونے شروع ہوئے تو سعودی شیعہ کو *حسن الصفار* کی قیادت میں ایک نئی تنظیم بنانے کا حکم دیا گیا۔ لہٰذا *منظمه الثورة الاسلامية لتحرير الجزيرة العربيه* کے نام سے ایک تنظیم تشکیل دے دی گئی۔ جس کے لیڈر اور منتظم *حسن الصفار* تھے۔ اس تنظیم کا معنی ہے۔۔۔۔ جزیرۀ عرب کی آزادی کے لئے اسلامی انقلابی تنظیم۔ اور اس تنظیم کا ہیڈ آفس ایران میں تھا۔

 *اس تنظیم کے اغراض و مقاصد:* 

 *1۔۔۔* ایران میں برپا ہونے والے خمینی انقلاب کی حمایت اور اسے عالمِ اسلام میں غالب کرنے کی کوششیں کرنا۔ 

*2۔۔-* جزیرۂ عرب یعنی سعودی عرب کی سنّی اسلامی حکومت کو ختم کرنا اور ایرانی حکومت کے تابع خمینی حکومت قائم کرنا۔ 

 *حجازی حزب الله کا عسکری ونگ:* 

صفحہ 8 از 10