قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے -…

قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 9 از 10

80 کی دہائی کے نصف ثانی میں تقریباً 1987ء میں جزیرہ عرب کی اسلامی تنظیم نے اپنا عسکری ونگ قائم کیا اور اسے *حزب الله الحجازی* کا متفقه نام دیا گیا۔ اور یہ عسکری ونگ سعودی عرب میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے کیلئے بنایا گیا تھا، ایام حج میں فتنہ و فساد اور دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کیلئے اس کو ایرانی گارڈ کے ساتھ وابسطہ کر دیا گیا۔

 اس تنظیم کی تشکیل ایرانی خفیہ ایجنسی کے افسر احمد شریفی کے زیرِ انتظام انقلابی طرز پر کی گئی۔ اس تنظیم میں بعض سعودی شیعہ طالب علموں کو بھرتی کیا گیا جو ایران کے شہر **قم** میں زیرِ تعلیم تھے۔ 

1407ء کے حج کے دنوں میں *حزب الله الحجازی* کے شیعہ کارکنوں نے ایرانی انقلابی گارڈ کے تعاون سے ایک بہت بڑا جلوس نکالا جس کا مقصد حجاج کرام کو قتل کرنا اور عوامی پراپرٹی کو نقصان پہنچانا اور مسجدِ حرام اور مقدس مقامات میں فتنہ و فساد بر پا کرنا تھا۔

 *(حزب اللہ کون ہے، صفحہ51)*

 *3... كويتي حزب الله:*

 *کویتی حزب الله 80 کی دہائی میں:*حزب اللہ لبنانی* 

*کویتی حزب الله 80 کی دہائی میں:*حزب اللہ لبنانی* کی تأسيس کے بعد قائم کی گئی۔ 

*کویتی حزب الله* کی اس برانچ کی بنیاد کویتی شیعہ کے ان طلباء نے رکھی جو ایرانی شہر *قم* کے حوزہ دینیہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

 خلیجی ممالک میں *حزب الله* کے مؤسسين اور کارکنان کی بھرتی *قم* شہر ہی سے ہوتی ہے، جبکہ یہ لوگ وہاں کے *حوزہ علمیہ* میں شیعی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں۔ اس تنظیم کے اکثر کارکنان کے ایرانی گارڈ کے ساتھ گہرے روابط ہیں، کیونکہ انہوں نے تخریبی تربیت انہیں سے حاصل کی تھی۔ 

یہ تنظیم کویت میں فتنہ و فساد اور عوامی اضطراب و بےچینی پیدا کرتی، بم دھماکے، اغوا اور قتل و غارت کی خفیہ کاروائیاں کرتی تاکہ کویت میں اپنا تسلّط قائم کر کے ایران کی ہم مذہب حکومت قائم کر سکیں۔ اس جماعت نے کویت میں بہت سی تخریبی اور دہشت گردی کی وارداتیں کی ہیں۔ جن کو تاریخ نے محفوظ کر لیا ہے۔

 *کویتی حزب الله* ایرانی شیعہ تحریک کا ایک اہم جزو شمار ہوتی ہے، جس کی قیادت *آية الله العظمی خامنه ای* کرتا ہے۔ 

*(حزب اللہ کون ہے، صفحہ60)* *4... يمنى حزب الله :* 

       یمن میں *حزب الله* کی علاقائی برانچ کا نام *حزب الله* رکھا گیا لیکن *حزب الله لبنانی* کے گھناؤنے جرائم قتل و غارت اور دہشت گردی کی وارداتوں کی وجہ سے یمن کے مسلمان معاشرے میں *حزب الله* کو پذیرائی نہ مل سکی جو کہ شیعہ اثنا عشریہ کے عقائد و افکار کی پیروکار تھی، لہٰذا اس برانچ کا نام تبدیل کرکے *الشهاب المؤمن* رکھا گیا، تاکہ یہ عوام میں مقبول ہو سکے۔ یہ تنظیم 90 کی دہائی میں قائم کی گئی۔

 اس تنظیم میں شیعہ زیدی فرقے کے افراد بھی بھرتی کئے گئے جو کہ اپنے زیدی عقائد ترک کر کے اثنا عشریہ عقائد کو قبول کر چکے تھے یا وہ اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے (تقیہ) دھوکہ دہی سے اس نئی تنظیم میں شامل ہو گئے تاکہ ایرانی شیعہ کے اثنا عشریہ عقائد کو یمن میں فروغ دیا جا سکے۔ 

*(حزب اللہ کون ہے، صفحہ67)*

 *5..... بحريني حزب الله:*

         بحرین میں ہادی المدرسی کو *الجبهة الاسلامية لتحرير البحرين* کے نام سے تنظیم بنانے کی ہدایات دی گئیں۔ جس کا ہیڈ کواٹر تہران میں ہوگا۔ اس تنظیم نے ابتداء میں ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے اغراض و مقاصد کی وضاحت کی، جو درج ذیل ہیں : *1...* آل خلیفہ کی حکومت کا خاتمہ۔ 

 *2...* بحرین میں ایرانی خمینی انقلاب کے موافق شیعی نظامِ حکومت کا قیام۔

 *3...* . بحرین کو خلیجی ممالک کے اتحاد سے نکال کر ایران کے ساتھ منسلک کرنا۔ 

یہ تنظیم ایران سے متعدّد میگزین شائع کرتی تھی۔ جیسے: *الشعيب التأثر:* اور *الثورة الرسالة* وغیرہ ہیں۔ 80 کی دہائی میں بحرین کی تحریکِ آزادی کے قائدین اور ایرانی انٹیلی جنس آفیسروں کا اجتماع ہوا جس میں تحریک آزادی کا عسکری ونگ قائم کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا۔ اس ونگ کا نام *حزب الله البحرين* رکھا گیا۔

 اس جماعت کے قیام کی ابتداء ہی میں حجه الاسلامیہ کے جنرل سیکرٹری محمد علی محفوظ کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ *حزب الله* کے بحرینی ونگ کو تین ہزار شیعی لشکری فراہم کرے گا، جن کی عسکری تربیت ایران اور لبنان میں ہوگی۔

 اس تنظیم کا سربراہ *عبد الامير الجمری* کو بنایا گیا اور ان کے بعد علی سلیمان نے ان کی قیادت سنبھالی ہے۔ ہادی المدرسی تحریکِ آزادی بحرین کا قائد اس نئے ونگ کا مرشد اور امداد کننده سربراہ ہے۔ اسی طرح محمد نقی المدرسی نے اس نئے ونگ کو فکری اور اعتقادی راہنمائی دی۔

 ان تمام مراحل کے بعد یہ نیا ونگ اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہوگیا اور اس نے ملک میں فتنہ و فساد برپا کر دیا اور کچھ اہم علاقوں اور ان کے گرد و نواح میں اپنا غلبہ قائم کر لیا۔ 

اس تنظیم کا پہلا اور بنیادی مقصد موجودہ نظامِ حکومت کو ختم کر کے ایرانی شیعہ کے زیرِ اثر حکومتی نظام قائم کرنا تھا۔ اس بات کی تاکید و تصریح *آية الله روحانی* کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ بحرین ایران کے تابع ہے اور بحرین اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک ٹکڑا ہے۔ اس تنظیم کے اہم ترین کارنامے 1994ء میں ہونے والے فسادات، ہنگامہ آرائی اور غنڈہ گردی ہے۔ یہ بدترین ہٹلر بازی اور غنڈہ گردی مختلف تنظیمی ناموں سے کی گئی، مثلاً کبھی کاروائی *منظمة الوطن السليب* کی کاروائی قرار دیا گیا۔ حالانکہ حقیقت میں یہ ساری تنظیمیں اور ان کی کاروائیاں ایک ہی جماعت *حزب الله البحرين* کی کارستانیاں تھیں۔ 

بعد ازاں یہ تمام نام ایک ہی تنظیم میں مدغم ہو گئے اور نئی تنظیم *جمعية الوفاق الوطني الاسلامیة* کے نام سے قائم کر دی گئی۔ جس کی قیادت علی سلمان کو سونپی گئی۔ اس نئی تنظیم کو سیاسی اور صحافتی میدان میں خدمات کے لئے مختص کر دیا گیا جبکہ عسکری اور تنظیمی کاروائیاں عسکری ونگ *حزب الله البحرین* کے سپرد کر دی گئیں۔

*(حزب اللہ کون ہے، صفحہ41)*

 

*6 ... دهشت گرد گروپ ملنگان حیدر کرار*:

صفحہ 9 از 10