افسران کی تقرری کے وقت چند شرائط کی پابندی کا معاہدہ
علی محمد الصلابیسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب کسی کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس سے چند شرائط کی پابندی کا عہد لکھواتے اور انصار صحابہؓ کی ایک جماعت کو اس پر گواہ بناتے، وہ شرائط یہ تھیں کہ غیر عربی النسل گھوڑے پر سوار نہ ہو گے، نہ ہی میدے کی روٹی کھاؤ گے، نہ باریک لباس پہنو گے اور مسلمانوں کی ضروریات کے سامنے اپنے گھر کا دروازہ بند نہیں کرو گے۔ پھر فرماتے: ’’اے اللہ! تو گواہ رہ۔‘‘
(محض الصواب: جلد 1 صفحہ 510) آپؓ ان شرائط کی پابندی کا عہد اس لیے لیتے تھے کہ ہمارے عمال زہد و عبادت اور انکساری و تواضع کی زندگی بسر کریں۔ پس امت کی اصلاح و تربیت کا پہلا قدم یہ ہے کہ اسے خورونوش، لباس و پوشاک اور سواری وغیرہ میں اعتدال پسندی کی تعلیم دی جائے، کیونکہ جو زندگی اعتدال پسند ہو گی اس کے معاملات درست ہوں گے۔درحقیقت آپؓ کی یہ شرائط نہایت حکیمانہ منصوبے پر مشتمل ہیں۔ آپؓ کے لیے امت مسلمہ کے تمام افراد کو اسلام کے غیر واجبی امور یعنی زہد و تواضع کی اعلیٰ مثالوں کا پابند بنانا ناممکن تھا، لیکن آپؓ اس بات پر ضرور قادر تھے کہ اپنے گورنران، افسران و قائدین کو اس کا پابند کر دیں اور جب یہ ہستیاں زہد و تواضع اور اخلاق کریمانہ کا مظاہرہ کریں گی تو وہی معاشرہ کے لیے نمونہ ہوں گی۔ واقعتاً معاشرہ کی اصلاح اور اسے اسباب زوال سے دور رکھنے کے لیے یہ ایک کامیاب منصوبہ بندی تھی۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 19، 20 صفحہ 268)