والیان ریاست کے انتخاب اور ان کی تقرری کے لیے مشورہ
علی محمد الصلابیممتاز و بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ لینے کے بعد گورنروں کا انتخاب اور ان کی تقرری ہوئی تھی۔
(عصر الخلافۃ الرشدۃ: صفحہ 114) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ہم نشین صحابہؓ سے ایک دفعہ کہا: مجھے ایسا آدمی بتاؤ کہ اگر وہ لوگوں میں امیر حاکم بن کر رہے، نہ تو امیر معلوم ہو اور جب امیر نہ ہو تو ایسا لگے گویا کہ وہ امیر ہے۔
(فرائد الکلام: صفحہ 165) لوگوں نے اس کے لیے ربیع بن زیاد رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا۔
(فرائد الکلام: صفحہ 165) ایک مرتبہ آپؓ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا کہ اہل کوفہ پر کس کو گورنر بنایا جائے۔ آپؓ کا قول تھا کہ اہل کوفہ اور اپنے امراء کے خلاف ان کے عدم تعاون و بدسلوکیوں کے لیے کون مجھے بچاؤ کا راستہ بتائے گا؟ اگر میں ان پر نرم دل و پاک دامن آدمی کو حاکم بناتا ہوں تو وہ اسے کمزور سمجھتے ہیں اور اس کی ناقدری کرتے ہیں اور اگر سخت و قوی آدمی کو بناتا ہوں تو وہ اس کے خلاف بے ہودہ گوئی کرتے ہیں۔ پھر آپؓ نے فرمایا: اے لوگو! ان دو آدمیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے جن میں ایک کمزور تو ضرور ہے لیکن تقویٰ شعار مسلمان ہے اور دوسرا طاقتور اور سخت گیر ہے، ان دونوں میں امارت گورنری کے لیے کون زیادہ مناسب ہے؟ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے کہا: امیر المؤمنین! کمزور مسلمان کا اسلام اسی کے لیے ہے اور اس کی کمزوری کا اثر آپ اور مسلمانوں پر پڑنے والا ہے، جبکہ طاقتور اور سخت گیر کی سختی اس کی ذات تک محدود ہے اور اس کی قوت سے آپؓ کو اور سارے مسلمانوں کو فائدہ پہنچنے والا ہے۔ آپؓ اپنی رائے سے جو مناسب سمجھیں فیصلہ کریں۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے مغیرہ تم نے سچ کہا اور پھر ان کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور نصیحت کی کہ خیال رکھنا، تم ان لوگوں میں سے بننا جن کے دامن میں ابرار و نیکوکار لوگ امان محسوس کرتے ہیں اور بدکار و فاجر لوگ خوف کھاتے ہیں۔ مغیرہؓ نے جواب دیا: اے امیر المؤمنین! میں ایسا ہی کروں گا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 28)