گورنروں کی تقرری سے پہلے ان کا امتحان لینا
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ افسران و گورنران کی تقرری سے پہلے ان کا امتحان لیتے تھے، یہ امتحان کبھی کبھار کافی طویل ہوتا تھا۔ حضرت احنف بن قیسؓ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ: میں حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس آیا، آپؓ نے تقریباً ایک سال کے لیے مجھے اپنے پاس روک لیا اور آخر میں مجھ سے کہا: اے احنف! میں نے تم کو آزما لیا اور جانچ لیا۔ میں نے دیکھا کہ تمہارا ظاہر بہت اچھا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ باطن بھی ظاہر ہی کی طرح ہو گا۔ ہم آپس میں باتیں کرتے تھے کہ اس امت کو ہر چالاک و ہوشیار منافق ہلاک کرے گا۔ پھر آپؓ نے ان سے کہا: کیا تم جانتے ہو میں نے تم کو کیوں روک رکھا تھا؟ اس کے بعد بتایا کہ تمہارا امتحان مقصود تھا۔ پھر آپؓ نے انہیں گورنر بنا دیا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 142، مناقب أمیر المؤمنین: صفحہ 117) آپؓ نے حضرت احنفؓ کو کئی نصیحتیں کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ اے احنف! جو بہت زیادہ ہنستا ہے اس کا رعب کم ہو جاتا ہے، جو مذاق کرتا ہے اس کی ہنسی اڑائی جاتی ہے اور جو کسی چیز کی کثرت کرتا ہے وہ اسی سے معروف ہو جاتا ہے۔ جو بہت زیادہ بولتا ہے اس سے لغزش زیادہ سرزد ہوتی ہے اور جس کی لغزشوں میں زیادتی ہوتی ہے اس سے حیا و شرم چھن جاتی ہے اور جس سے حیا و شرم چھن جاتی ہے اس سے ورع و تقویٰ ختم ہو جاتا ہے اور جس سے ورع و تقویٰ ختم اور اس کا دل مر دہ ہو جاتا ہے۔
(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 287)