پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 1 از 19

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

 میرے محترم قارئین کرام!

جناب حافظ احمد بخش ایڈوکیٹ شہید صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: پاکستان میں شیعہ کردار پر روشنی ڈالنے کے لیے عہدِ حاضر کا وہ ناقابلِ فراموش جرم تو لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہوگا جس کا ارتکاب شیعہ صدر یحیٰ خان نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نہ صرف انڈیا کے آگے ہتھیار ڈالے۔ بلکہ مشرقی پاکستان کی مسلم اکثریت کو ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اس کی سازش سے دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست دولخت ہو گئی اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔

جہاں صحیح العقیدہ مسلمانوں کی بڑی اکثریت ہے کوئی شیعہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس طرح بچے کچھے پاکستان میں جس کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں۔ شیعوں کی آبادی کا تناسب اور اثر بہت بڑھ گیا اور ایران کے شہہ اور دخل اندازی پر مقامی شیعوں نے کل پرزے نکالے اور ہر روز کا مشاہدہ ہے کہ کس طرح یہ گروہ حکومتِ پاکستان کو اپنے ناجائز حقوق کے سلسلے میں مذہبی اور سیاسی سطح پر دباؤ ڈال کر بلیک میل کرتا رہا۔ غرض یہ کہ پاکستان کو دو لخت کرنے کی ایرانی سازش جس کی داغ بیل سکندر مرزا رافضی کے زمانے میں ڈالی گئی تھی کامیاب ہو گئی۔

جس طرح میر صادق اور غلام علی لنگڑے نے سلطان ٹیپو شہیدؒ کے خلاف سازش کر کے ہندوستان میں انگریز کے ہاتھوں اسلامی اقتدار کا خاتمہ کیا۔ آج ہندو یہود سے ساز باز کر کے سکندر یحیٰ پاکستان کے ٹکڑے کر چکے، اب بچے کھچے پاکستان کو مزید توڑنے کے لیے تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ چلانے کا یہی مقصد ہے جسے ادنیٰ سا مسلمان پاکستانی بھی گوارا نہیں کرے گا۔

سوچنے کا مقام ہے کہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں برابر کا فارمولا کس نے توڑا؟1971ء کہ انتخابات کے بعد ادھر ہم اور ادھر تم کا نعرہ لگا کر مشرقی پاکستان کو کس نے الگ کیا؟ پھر یحیٰ خان رافضی نے فوجی ایکشن کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کرا کر اسے ہمیشہ کے لیے ہم سے الگ کر کے بنگلہ دیش کس نے بنایا؟ اور اب زکٰوۃ وعشر کا انکار کر کے نفاذ اسلام و شریعت بل کی ڈٹ کر مخالفت کون کر رہا ہے؟ روسی کمیونسٹ اپنانے اور خون کی ندیاں بہانے کی دھمکیاں کون دے رہا ہے؟یہ صرف سبائی فرقہ ہے، جو اپنے اس طویل تاریخی سفر میں ہر منزل میں مسلمانوں کا رہزن ثابت ہوا۔ ہمدرد اور حامی کبھی نہیں رہا۔ اس لیے ہمیں حالیہ ایرانی شیعہ انقلاب اور شدید کشت و خون پر اور اسے دیگر ممالک کہ اپنے ہاں برآمد کرنے کے عزائم پر کچھ تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ہلاکو خان اور تیمور کو اپنا ہیرو ماننے والے خمینی پرست شیعہ مسلمانوں کی یہی خدمت کر سکتے ہیں۔ کاش! ہماری بھولی بھالی بھیڑ چال مسلم قوم کو سمجھ ہوتی۔

 شیعہ، اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں:

لبنان میں مسلمانوں کے خلاف شیعوں نے عداوت اور بے وفائی کا عملی مظاہرہ کر کے مقامی و بیرونی عیسائیوں کو اپنا حلیف اور سچا رفیق سمجھ کر ان سے گٹھ جوڑ کر لیا، ان کا یہ منافقانہ رویہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ لبنان کی مسلم آبادی پر شیعہ امل ملیشیاء کب سے مظالم ڈھا رہی ہے۔ اور کیوں؟ شام میں دروزی شیعہ کس طرح اہلِ سنت کے املاک کو تباہ و برباد کر کے ان کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں؟ پاکستان کے شمالی علاقہ جات (گلگت ،اسکردو وغیرہ) کو علیحدہ ریاست صوبہ بنانے کے لیے کون سرگرم عمل ہے؟ افغانستان کی دس سالہ جنگ آزادی میں، "من حيث القوم" اور رول کبھی مثبت نہیں رہا۔ انہوں نے ہمیشہ جہاد کی مذاحمت اور لادین طاقت روس کے خلاف مجاہدوں کی مزاحمت کو لاحاصل اور بے سود کہہ کر نہ صرف ان کی حوصلہ شکنی کرتے رہے بلکہ عملاً روس کے لیے جاسوسی کر کے ان کو نقصان پہنچاتے رہے مگر جب اللہ تعالٰی جل شانہ نے روس کے خلاف مجاہدین کو فتح دی اور روسی فوجوں کا وہاں سے انخلا ہوا تو یہ مار آستین اب افغانستان کے عبوری حکومت پر قبضہ کرنے کے در پہ ہیں تاکہ وہاں اسلامی نظام قائم نہ ہو سکے۔

اس سلسلے میں ایران اپنے ہمنواؤں کے ذریعے مجاہدین پر مسلسل دباؤ ڈلوا رہا ہے کہ وہاں شیعوں کو ان کی آبادی سے کہیں زیادہ نمائندگی دی جائے۔ مزید برآں حرم کعبۃ اللہ میں بموں کے حالیہ دھماکے اس کی خباثت کا تازہ ثبوت ہیں جس سے بالکل عیاں ہیں کہ رافضی مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں۔ اللہ تعالٰی جلّ شانہ ان مسلمانوں کو بینائی عطا فرمائے جو ایران اور شیعوں کے گن گاتے ہیں۔

وطنِ عزیز پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا، اس کی سلامتی کو تخریب کاری اور لسانی گروہی فسادات کے ذریعے نقصان پہنچانے والے نہ صرف اس کے بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔

سانحہ بہاولپور اگست 1988ء کی تحقیقاتی رپورٹ کے منظر پر آنے کے بعد یہ بات ایک حقیقت اختیار کر گئی کہ یہ سانحہ جہاز کے اندر ایئر فورس کے ایک شیعہ افسر فلائٹ لیفٹنٹ ساجدی کی تخریب کاری (زہریلی گیس چھوڑنے) سے وقوع پذیر ہوا جو اس میں ہلاک ہوا، اور آج رحیم یار خان میں شیعوں کے قبرستان میں دفن ہے۔واضح رہے کہ ساجد ساجدی شیعہ عارف الحسینی سے بہت متاثر اور اس کا مداح تھا۔ پھر جنرل ضیاء الحق کی شہادت پر شیعوں نے خوشی و فتح کا اظہار کر کے اپنی بد باطنی کا ثبوت فراہم کیا۔ یہ وہ حقائق ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سانحہ کے پیچھے شیعہ سازش کار فرما ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی اور کوئٹہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پانچ لاکھ سے زائد ایرانی کیا کر رہے ہیں؟ 1985ء میں ایک شیعہ لڑکی بشریٰ زیدی کے منی بس کے حادثے میں ہلاک ہونے کے بعد شیعہ دہشت گردوں نے ایرانی پاسداروں کی حمایت کے بل بوتے پر بڑے وسیع پیمانے پر پٹھانوں کی ویگنوں، بسوں اور دیگر عملہ، کو تباہ کر کے لسانی فسادات کی ابتدا کیوں کی؟ حالانکہ لڑکی کے باپ نے گاڑی ڈرائیور کو معاف کر دیا تھا۔

صفحہ 1 از 19