پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 10 از 19

انتظامیہ نے حفظ ما تقدّم نہ کرنے کا خمیازہ بھگت لیا:

         ہمارے ملک کی انتظامیہ بھی عجیب ہے اس کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ اس نے کسی واقعے کی روک تھام کے لیے پہلے سے اقدامات نہیں کیے۔ اور نہ ہی اس سلسلے میں سوچتی ہے۔ اس کا ہمیشہ سے مطمع نظر یہ رہتا ہے کہ جب ہنگامہ ہوگا تو اس وقت سدِّ باب کریں گے، گویا کہ ان کے ہاں پیش بندی کا کوئی باب ہی نہیں ہے۔

کوئٹہ کے واقعات میں بھی یہی ہوا، اسلحہ کھلے عام آتا رہا، باقاعدہ جلوس نکالنے کا اعلان کیا گیا، اس کے لیے رات گئے تک مورچہ بندی ہوئی یہ سب انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا اور لوگ بھی اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ لیکن کیا ہوا، کوئی انتظام نہ کیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غیر ملکی ایرانی ایجنٹ رحم کے جذبہ سے عاری ہو کر مسلمانوں کی جان و املاک کو نقصان پہنچاتے رہے۔

بہرحال انتظامیہ نے کیا اقدامات کیے اس سے ہمیں کوئی بحث نہیں۔ان سطور سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ گذشتہ چند سالوں سے ایسے واقعات کیوں ہو رہے؟ اور ایک اقلیتی طبقہ کس کے اشاروں پر اس قسم کی حرکات کر کے ملک کی سالمیت کے در پے ہیں؟ اور مذہب کی آڑ میں كب تک اس قسم کے واقعات کا اعادہ ہوتا رہے گا۔۔۔؟

3۔۔۔ سانحہ مدرسہ تعلیم القرآن راولپنڈی

سانحہ مدرسہ تعلیم القرآن راولپنڈی ایسا المناک واقعہ ہے جس سے ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ جلتی ہوئی مسجد و مدرسہ دینی کتب اور قرآن مجیدوں کی بے حرمتی نے ماحول کو اور بھی غمناک کر دیا۔ 10 محرم الحرام کو راجہ بازار راولپنڈی میں واقع عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم تعلیم القرآن کی مسجد میں شیعوں نے آگ اور خون کی جو ہولی کھیلی ہے اس نے 1400 سال قبل بپا ہونے والی کربلا کی تاریخ میں ایک اور کربلا کا اضافہ کر دیا۔خنجروں، بھالوں اور نیزوں، کدالوں سے قرآن و حدیث پڑھنے والے معصوم طالب علموں کے جسموں کو جس طرح ادھیڑا گیا ان بچوں کی گردنوں کو جس طرح سے کاٹا گیا، اسے دیکھ کر ہٹلر اور ہلاکو و چنگیز کی روحیں بھی شرما اٹھی ہوں گی۔

 سانحہ راولپنڈی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عمل میں لائی گئی

اس لیے کہ یہ جلوس دار العلوم کے سامنے سے گزشتہ کئی برسوں سے گزرتا رہا اور ہمیشہ وسعت ظرفی برداشت اور صبر و تحمّل سے کام لیتے ہوئے پورا پورا دن محصور رہتے طلباء کے سارے کاموں اور آمد و رفت میں خلل رہتا اور شیعہ دہشت گرد گھنٹوں تک مدرسہ و مسجد کے سامنے مین چوک پر جلوس روک رکھتے نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کی جاتی۔ لیکن اس سال یہ ہوا کہ یہ جلوس اپنے طے شدہ وقت سے پہلے ہی مدرسہ کے سامنے آگیا۔ حالانکہ جلوس کے مدرسے کے سامنے سے گزرنے کا وقت عمومًا سہ پہر ساڑھے تین اور چار بجے کے درمیان ہوتا ہے لیکن اس سال حیرت انگیز طور پر یہ جلوس پونے دو بجے ہی مسجد کے سامنے آگیا۔

مولانا امان اللہ صاحب جمعہ کے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے خطاب کے دوران کچھ پولیس اہلکاروں نے مولانا کو پرچی دی کہ لاؤڈ سپیکر بند کر دیا جائے، چنانچہ لاؤڈ سپیکر بند کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود کچھ شر پسند عناصر مسجد میں داخل ہو گئے۔ یوں لگتا تھا کہ انہوں نے پہلے سے ہی سب کچھ طے کر رکھا تھا۔ ان شر پسند شیعہ دہشت گردوں کے پاس بوتلیں تھیں۔ جن میں کوئی محلول سا تھا انہوں نے ان بوتلوں سے نمازیوں پر حملہ کر دیا، کچھ لوگوں نے بچ بچاؤ کروایا، وہ دہشت گرد وقتی طور پر تو مسجد سے نکل گئے۔ اس کے بعد عربی خطبہ اور نماز ادا کی گئی۔ لوگ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک مرتبہ پھر ایرانی انقلاب کے غنڈوں کا ایک جتھہ مدرسے کے احاطے میں داخل ہو گئے۔ ان لوگوں نے نمازیوں اور طلباء پر تشدّد کر دیا ان کے ہاتھوں میں خنجر تھے ان سے وار کرنے لگے پھر تھوڑی دیر بعد ایک مسلح جتھہ محراب کے راستے مسجد میں داخل ہو کر مختلف مقامات پر مورچہ زن ہو گئے اور حملہ آوروں نے سیدھا نشانہ باندھ کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اور حال یہ تھا کہ مسجد کے اندر شیعہ دہشت گرد سنی مسلمانوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر گاجر ،مولی کی طرح کاٹ رہے تھے۔اور مسلم جتھے باہر نکلنے والوں پر ٹوٹ پڑے۔ اس کے بعد چند مسلح افراد مدرسے میں داخل ہوئے اور بعض علماء کو کمروں سے نکال کر ان پر بہیمانہ تشدّد شروع کر دیا۔جب وہ حملہ آور چلے گئے تو ہم نے کمروں سے باہر نکل کر دیکھا کہ معصوم طلباء کی لاشیں فرش پر پڑی تھی۔ اور ان کے جسم کے مختلف اعضاء کٹے ہوئے تھے۔ ہر طرف لاشیں، دینی کتب اورقرآن پاک کے جلے ہوئے نسخے بکھرے پڑے تھے۔ خدا تعالٰی کی پناہ۔۔ بہت ہی دردناک منظر ہماری آنکھوں کے سامنے تھا ہمارے سامنے قتل و غارت گری کا کھیل جاری تھا اور ہم بے بسی سے ہاتھ مل رہے تھے۔ کچھ کر نہیں سکتے تھے مدرسے سے متصل کپڑے کی پوری مارکیٹ کی ڈیڑھ سو سے زائد دکانوں کو جلا کر ہر سال کروڑوں روپے کی زکوٰۃ دینے والے مسلمان تاجروں کو پائی، پائی کا محتاج بنا دیا۔ آگ کے شعلوں نے اس پورے مرکز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں مسجد کے اطراف میں شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا سانحہ تعلیم القرآن میں 5ہزار احادیث کی کتابیں اور کئی ہزار قرآن مجید کے نسخے جلائے گئے اور کروڑوں روپے کے سامان جلائے گئے اور بہت زیادہ لوگوں کو شہید کیا گیا۔

 سانحہ مدرسہ تعلیم القرآن پر دلخراش تحریر

راولپنڈی میں 10محرم الحرام کو قیامت کا ہی منظر تھا لوگ جس خدا کو برحق مانتے ہوئے اس کے سامنے سر بسجود ہونے دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار گئے تھے 

وہاں ان پر قیامت ٹوٹ پڑی کوئی جلایا گیا، کوئی مر گیا، کوئی ذبح ہو گیا، کسی کی لاش نہ ملی، کوئی لاپتہ ہو گیا، بچوں کے کٹے ہوئے سر، مسجد تاراج، محراب خاموش، جلے ہوئے قرآن دینی کتب کی خاک بنتی ہوئی راکھ، سفید مرمر پر چار سو لہو کے چھینٹے، جنازے مانگے تو نہ ملے، ایمبولنس اور فائر بریگیڈ کا راستہ بند کر کے تعلیم القرآن جانے سے روک دیا، کاروبار تباہ و برباد کر دیا گیا۔ معصوم بچوں نے اپنے والدین کو اطلاع دینے کے لیے جب فون اٹھایا تو موبائل سروس بند کر دی تھی۔ مدد اور نصرت کے لیے باہر سے آنے والے سنیوں کا راستہ روکنے کے لیے کرفیو لگا کر تمام راستے بند کر دیے تھے۔

صفحہ 10 از 19