پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 11 از 19

بٹگرام میں جب معصوم بچوں کی لاشیں پہنچی تو ایک ماں نے اپنے لاڈلے بچے کی لاش دیکھنے کے بجائے آسمان کی جانب دیکھا اور کہا یا اللہ میں نے اپنا پیارا دل کا ٹکڑا تیرے گھر میں تیرا قرآن پڑھنے بھیجا تھا لیکن تو نے کیا کیا۔۔! پھر بٹگرام ایسا چیخا کہ مسلمانوں کی 14سالہ تاریخ بھی شرما کر رہ گئی-

 سانحہ تعلیم القرآن ایک سال گزر گیا لیکن طلباء اور نمازیوں کے قاتل قانون کی گرفت سے باہر کیوں۔۔۔؟

گذشتہ سال 15نومبر 2013ء 10محرم الحرام کو مسلح ماتمی دہشت گردوں کے ہاتھوں اہلِ سنت کی عظیم دینی درسگاہ مدرسہ تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی پر حملہ آور بے دردی سے شہید کیے گئے طلباء، نمازیوں کے قاتلوں اور مسجد و مدرسہ اور اس میں موجود قرآن مجید نذرِ آتش کر کے شہید کرنے والے مجرموں اور قاتلوں کو ایک سال گزرنے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

قاتلوں اور مجرموں کی عدم گرفتاری سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری سمیت عوام اہلِ سنت سخت تشویش کا شکار ہیں۔ جبکہ حکومتِ پنجاب اور وفاقی حکومت کی جانب سے مجرموں کی گرفتاریوں کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے صرف دعوے ہی ثابت ہوئے۔ اور حکومت کی نااہلی کی وجہ سے شیعہ دہشت گرد اتنے جری ہو گئے کہ انہوں نے گزشتہ اس سانحہ کے عینی اور اہم گواہ مدرسہ کے نائب مہتمم مولانا امان اللہ صاحب کو بھی ساتھی سمیت شہید کر دیا- دہشت گردوں نے ایک سازش کے تحت مولانا امان اللہ صاحب کو شہید کر کے سانحہ کے کیس کو کمزور کرنے کی سازش کی۔ 

(ہفت روزہ اہلِ سنت اخبار، 7نومبر تا 13نومبر 2014ء)

 پاکستان میں شیعہ دہشت گردی اور تخریب کاری کے (50) متفرق واقعات اور انکشافات

1.. نوائے وقت 2.8.2003 کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے اسکولوں اور کالجوں میں شیعہ دینی نصاب کے حوالے وہاں کے شیعہ لیڈر ایران کے شہ پر طالب علموں کو احتجاج اور مظاہروں پر اکسا کر وہاں شدید توڑ پھوڑ کروا رہے ہیں اور سرکاری و نجی املاک کو نذرِ آتش کر کے زبردست نقصان پہنچا رہے ہیں اور علاقے کی انتظامیہ کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وہ ان تقریب کار طلباء کے جلوسوں کے پیچھے پیچھے کوو ہاں کے حکام افسران موجود ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی نااہلی اور بے بسی کی وجہ سے ان میں ان طلباء کی پرتشدّد کاروائیاں روکنے کی ہمت اور جرأت نہیں ہوتی۔

(ایران اور عالم اسلام، صفحہ24)

2.. ہمارے بااختیار اداروں کو یاد ہوگا کہ اگست 1991ء میں ہزاروں شیعہ دہشت گردوں نے پاکستان سیکرٹریٹ پر کیسے اچانک اور منظّم حملہ کر کے ڈرامائی انداز میں قبضہ کیا تھا۔ اور سرکاری مشینری کو تقریبًا مفلوج کر کے رکھ دیا تھا- سنا ہے کہ ان دفتروں میں کام کرنے والے شیعہ کارکن بھی ان کےساتھ ملے ہوئے تھے (جن شیعہ کارکنوں کو اسی غرض سے ہر ادارے میں بھرتی کرتے ہیں کہ ایسے دن أن کو کام آ جائیں) بعد میں ایک شیعہ لیڈر نے بتایا کہ یہ کاروائی تو ریہرسل تھی۔ اس بار ان کے پاس صرف ڈنڈے تھے، اگلی دفعہ خود کار ہتھیار ہوں گے۔

آزاد کشمیر کے شہید لیڈر مفتی کفایت حسین نقوی نے کہا کہ ہمارے بچوں نے پچھلے مہینے اسلام آباد میں پاکستان سیکرٹریٹ پر قبضہ کر کے اپنی طاقت ثابت کر دی۔ اگر ساجد نقوی حکم دیں تو ہم ریڈیو اور ٹی وی سٹیشنوں پر بھی قبضہ کر لیں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اسلحہ رکھنا ہمارا شرعی حق ہے اور کوئی ہمیں اس حق سے نہیں روک سکتا۔ 

(ایران افکار و عزائم، صفحہ86)

3۔۔۔ خمینی کے ایرانی خونی انقلاب کے بعد تہران کے ایک مشہور چوراہے میں انور سادات، صدام حسینؒ شہید اور جنرل ضیاء الحق ؒشہید ان تینوں کی قد آور تصویریں لٹکائی گئی اور ان پر لکھا گیا "امریکہ کے کتے" اور ایک ایرانی اخبار نے جنرل ضیاء الحق شہید کو ضیاء الباطل بھی لکھا۔

چند سالوں کے بعد 1985ء میں ایرانی خونی انقلاب کے دوران تہران میں ابھرنے والے نعرے۔۔۔۔جنرل ضیاء الحقؒ، امریکہ کا کتا۔۔ کی گونج پاکستان میں بھی سنائی دی اور وہ بھی اس وقت کے ایرانی صدر خامنہ ای ملعون کی موجودگی میں اس سلسلے میں ایک پاکستانی اخبار کی رپورٹ ملاحظہ ہو: 

ایران کے صدر خامنہ ای اور جنرل ضیاء الحق لاہور کے ہوائی اڈّے سے ایک کار میں سوار ہوئے لیکن ابھی ان کے کار ایئرپورٹ کی حدود میں ہی تھی کہ یہ اطلاع ملی کہ ایئرپورٹ کی حدود کے باہر کافی بڑے ہجوم نے سڑک روک رکھی ہے۔یہ لوگ آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اس ہجوم کو سڑک سے ہٹانے اور راستہ صاف ہونے میں کم و بیش دس منٹ صرف ہوئے اس دوران صدر خامنائی اور جنرل ضیاء الحق کار میں بیٹھے راستہ صاف ہونے کا انتظار کرتے رہے شیعوں کا ہجوم جس نے سڑک کو روک رکھا تھا اور جو سڑک کے دونوں طرف ایئرپورٹ سے اپر مال تک ٹولیوں میں موجود تھے صدر خامنہ ای اور ایران کے حق میں نعرے لگا رہے تھے جبکہ وہ شیعہ دہشت گرد صدر ضیاء الحق وزیراعظم محمد خان جونیجو مردہ باد مردہ باد" اور "امریکہ مردہ باد" اور "امریکی کتے ہائے ہائے" جیسے گستاخانہ نعرے لگا رہے تھے۔

بعد ازاں یہ شیعہ لوگ جب بسوں پر سوار ہو کر اپنے گھروں کے لیے روانہ ہوئے تو جدھر سے گزرتے رہے، حکومتِ پاکستان، صدر ضیاء الحق، وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے خلاف اشتعال اور توہین آمیز نعرے لگاتے رہے۔ ایئرپورٹ سے واپسی پر نوجوانوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں۔۔۔امریکہ مردہ باد، صدر ضیاء الحق مردہ باد، اور جونیجو مردہ باد، کے نعرے لگاتے ہوئے پیدل شہر کی جانب آرہی تھیں۔ ان میں سے بہت سے نوجوانوں نے اپنی پیشانیوں پر سفید پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔ جن پر سرخ رنگ کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے۔ اور ان پر "خمینی رہبر" کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے۔

صفحہ 11 از 19