پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 12 از 19

یہ شیعہ نوجوان سڑک پر گزرنے والی کاروں، ویگنوں اور بسوں، کے پاس پہنچ کر جوش و خروش سے نعرے لگانے لگتے۔ اور بسوں ویگنوں اور کاروں میں سوار افراد سے مطالبہ کرتے کہ وہ امریکہ مردہ باد اور صدر ضیاء الحق مردہ باد کے نعرے لگائیں۔ جب ان کے مطالبے کے جواب میں خاموشی اختیار کی جاتی تو وہ ویگنوں، کاروں اور بسوں کے شیشوں پر ہاتھوں میں پکڑے ہوئے ڈنڈے اور ٹھوکریں مارتے۔ ان کی ان کاروائیوں کے نتیجے میں متعدّد بسوں اور ویگنوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور بہت سے لوگوں نے ان کے ساتھ نعرے بازی لگا کر گلو خلاصی کرائی۔

افسوسناک الميه

 یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ اس ملک میں کیا ایک طبقہ ملک دشمنی اور ایران نوازی میں اس حد تک بھی آگے بڑھ سکتا ہے؟اور ساتھ ہی امیرِ عزیمت علامہ حق نواز جھنگوی شہیدؒ اور ان کے رفقاءکار ساتھیوں کیلئے دل سے دعا نکلتی ہے جنہوں نے اپنا تن، من،دھن قربان کر کے اس عظیم فتنے اور سیلاب کے سامنے بند باندھ کر سنی مسلمانوں کو بیدار کیا۔ ورنہ آج ملک کی جو حالت ہوتی، وہ جاننے والے جان سکتے ہیں!

بہرحال لاہور میں ملک دشمن شیعہ مظاہروں نے صدر پاکستان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور ان کی آنکھیں کھول دیں ۔

 (ایران افکار و عزائم:صفحہ 89) 

 (4)لاہور میں ٹھوکر نیاز بیگ کا علاقہ تخریب کاری کے مرکز کی صورت اختیار کر چکا ہے، عام تاثر یہ ہے کہ وہاں جدید ترین اور خطرناک اسلحہ ہر وقت موجود رہتا ہے اور مختلف اوقات میں قتل وغارت گری میں ملوث شیعہ افراد وہاں پہنچ کر روپوش ہو جاتے ہیں اور پولیس والے بھی اس مرکز میں داخل ہونے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ پتہ چلا ہے کہ پاکستانی فوج کے حساس اداروں کے کارکن بھی اس مرکز کو جدید اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔

 (ایران اور عالمِ اسلام: صفحہ 106) 

 (5) نوائے وقت راولپنڈی:6 مارچ 1993ء کے مطابق تحریک کے ایک لیڈر نے کہا کہ ان کے کارکن اُصول پرست ہے اور وہ سیاست اور لیڈرشب کو ایران کی طرز پر چلانا چاہتے ہیں لیکن اس سلسلے میں کوئی فوری تحریک چلانے سے پہلے کارکنوں کو تربیت دینا ضروری ہے۔

 قابل توجہ:

 پاکستان میں حکومت اور خفیہ اداروں کو سمجھنا چاہیئے کہ یہ کس ڈھب کی تربیت ہوگی ؟ اس کا ذمہ دار کون ہو گا ؟ اور اس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں ؟ 

 (6)گرومندر کراچی میں 6 اکتوبر 1984 دن کو 12 بجے شیعہ جلوس نے خونی ڈرامہ کھیلا جس سے چار آدمی شہید اور کئی آدمیوں کو اُٹھا کر آگ میں پھینکا گیا ۔ 24 موٹر سائیکل، 28 کاریں، 8 ٹرک، 27 دستی گاڑیاں ، 3 پیٹرول پمپ اور 70 کے قریب دوکانوں اور گھروں کو جلایا گیا ۔ دوکانوں کے نقصانات کا تخمینہ انسٹھ لاکھ پینسٹھ ہزار چھ سو ستر ، لگایا گیا اور مکمل نقصانات کا تخمینہ دو کروڑ کے لگ بھگ ہے-

(7) 6اکتوبر صبح نماز کے بعد خلفاء راشدینؓ کے دفتر کو توڑا گیا اور وہاں پڑھنے والے بچوں سے قرآن مجید چھین کر روڈ پر پھینک دیئے گئے۔

 (8)لیاقت آباد 10 کے امام باڑہ سے نہتے عوام پر گولیاں برسائی گئیں اور وہاں پر کھڑی گاڑیوں کو نذرآتش کیا، لوگوں کو تلواروں اور چھریوں سے شہید کیا اور پورے لیاقت آباد میں ہر مقام پر فائرنگ کی گئی،پولیس نے چھاپہ مار کر امام باڑہ سے اسلحہ برآمد کیا، ٹربیونل قائم ہوا مگر اس کی رپورٹ شائع نہیں کی۔مارٹن کواٹرز کے امام باڑہ سے اسلحہ برآمد ہوا۔ 

 (9) لاہور میں جلوس نکالا اور مال روڈ پر دھرنا مار کر صبح گیارہ سے چار بجے شام تک بیٹھے رہے اور ہوائی فائرنگ کئے گئے،ڈنڈوں سے مسلح تھے۔

 (10) 1983ء میں گودھرا کیمپ میں شیعوں نے قرآن مجید کو جلا کر بند روڈ پر دھرنا مار کر بیٹھے رہے اور اپنے ناجائز مطالبات اُس وقت کے گورنر عباسی سے تسلیم کروائے۔ ان احتجاجوں میں ایرانی قونصلیٹ جنرل مکمل ملوث رہا، دھرنے کے دوران پاکستان کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

 (11) 12 مارچ 2001ء نماز عشاء کے دوران شیعہ دہشت گرد تنظیم : سپاہِ محمد :کے دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے 9 نمازیوں کو شہید اور 10 نمازیوں کو زخمی کر دیا۔

 (بحوالہ: خلافت راشده: اپریل 2001:صفحہ 6) 

 (12) 6 اکتوبر 2004 کو رشید آباد گراؤنڈ ملتان میں ایک جلسے کے اختتام پر سائیکل اسٹینڈ کے قریب کار اور موٹر سائیکل بم دھماکے ہو گئے۔جس سے کانفرنس پنڈال سے واپس جاتے ہوئے لوگ دھماکوں کی زد میں آگئے۔42 نوجوان شہید جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔

 سانحه ملتان کے مرکزی شیعہ دہشت گرد عرفان علی 2 اکتوبر کو ملتان آیا اور ایک سرائے میں قیام کیا۔ اس دوران ایک پراپرٹی ڈیلر کی مدد سے 5 اکتوبر کو مکان حاصل کر لیا، جہاں وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس گھناؤنے فعل کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔ دہشت گرد عرفان علی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گاڑی سوزوکی ملتان کے ہی ایک رہائشی سے چھینی تھی اور دھماکہ خیز مواد فٹ کر کے ٹھکانے پر لے کر کھڑی کر دی۔

 مزید تفصیلات کے مطابق عرفان علی شاہ کا قریبی ساتھی اور اس سانحہ کا مرکزی کردار امجد علی شاہ بھکر کے سابق ایس پی پولیس کا بیٹا تھا۔ جس نے کار میں بم نصب کیا اور عرفان علی شاہ کے ہمراہ اس کو دھماکہ کی جگہ پر کھڑا کیا۔امجد علی شاہ کا ایک اور ساتھی جس کی ذمہ داری موٹر سائیکل بم دھماکہ کرنے کی تھی جس کا نام ناصر بتلایا جاتا ہے، اس نے اپنے نا معلوم ساتھی کے ساتھ مل کر موٹر سائیکل میں بم نصب کیا اور اس کو راستہ میں کھڑا کر دیا۔ اس کے علاوہ غلام عباس بھی اس گروہ میں شامل ہے جو کہ پلاٹ والے سٹاپ کے قریب ہی موجود علی ہسپتال کے ساتھ ڈبل کیبن ڈالا لے کر کھڑا تھا۔ یہ پانچوں افراد دھماکہ کرنے کے بعد وہاں پہنچے اور بذریعہ ڈالافرار ہو گئے ۔

 (13) 6 ستمبر 1991ء کوملتان روڈ پر چوبرجی کواٹر گراؤنڈ لاہور میں سپاہِ صحابہؓ کی طرف سے منعقدہ دفاعِ صحابہؓ کانفرنس کے دوران پریس گیلری میں ہونے والے بم کے ایک دھماکے میں 4 کارکن شہید جبکہ 55 افراد زخمی ہوئے ۔ 

(14) حیدرآباد : دس محرم الحرام 2015 ء کو اہلِ سنّت والجماعت کے مدح صحابہؓ جلوس پر شیعہ دہشت گردوں نے خنجروں سے حملہ کر دیا۔20 کارکن سخت زخمی ہو گئے ۔ 

صفحہ 12 از 19