پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 13 از 19

(15) اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی و بدامنی پیدا کرکے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی،ان تمام واقعات خصوصاً 1983ء میں ایرانی قونصلیٹ باقاعدہ ان ہنگاموں میں ملوث تھا۔

 (16) روزنامہ جنگ: 16:2:1990کے مطابق ایرانی انقلابی گارڈز نے پاکستان کے سرحدی شہر تافتان میں ایک ایرانی سردار بلوچ خان کو ہلاک کر دیا اور واپس ایران میں فرار ہو گئے ۔ 

 (17) مارچ 1993ء میں ایرانی پاسداروں نے ایران کے دو مخالف بلوچی لیڈروں کو کراچی کی ڈیفنس کالونی میں گولی ماردی۔ 

 (18) 1991ء میں ایک معروف بلوچی لیڈر کو پاکستان اور ایران سرحد پر قتل کر دیا گیا تھا۔ 

 (19)6 جون 1993ء کو ایک اور ایرانی مجاہد کو کراچی میں شہید کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ایک پاکستانی راہ گیر بھی شہید ہوا۔

 (دی نیوز:راولپنڈی: 7:6:1993)

 (20)کوئٹہ 22 جمادی الثانی یومِ وفات سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ کے جلوس کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب کے ساتھ بم دھماکہ کیا گیا ، جس میں تقریبا 8 سنی نوجوان شہید اور کئی لوگ زخمی ہو گئے۔

 (21) 7 نومبر 2015ء کو شیعہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے جان محمد روڈ کوئٹہ پر مدرسہ عربیہ تجوید القرآن کے دورۂ حدیث کے طالب علم شمس الرحمٰن کو شہید کیا گیا۔ اور اسی رات کو دو سنیوں کو بھی شہید کیا گیا۔ 

 (22) 21 جولائی 1987 روزنامہ جنگ کراچی کے مطابق سیٹلائٹ ٹاؤن اور ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی کوئٹہ میں 8 جولائی کو ایرانی مہاجرین کی اقامت گاہوں پر حملہ کرنے والے ایرانی دہشت گردوں کے خلاف سرگرمی سے تفشیش جاری ہے، پولیس نے 12 دہشت گردوں کا مزید 7 دن کا ریمانڈ حاصل کر لیا ہے، جبکہ ایرانی دہشت گرد محمد رضا کو عدالت نے اقبالی بیان کے بعد جوڈیشنل حوالات میں بھیج دیا ہے۔

ایرانی دہشت گرد محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ( بی اے ) تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایرانی فوج میں ملازم ہو گیا۔ایک دن اسے اطلاع دی گئی کہ اسے ایرانی حکومت نے کسی ملک میں خفیہ مشن کیلئے منتخب کیا ہے وہ اس کیلئے تیار رہے ۔ میں نے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کر دیں، مجھے فوجی افسر نے اہم ہدایات جاری کیں اور مجھے بذریعہ طیارہ تہران سے زاہدان پہنچا دیا گیا ۔ یہاں مجھے افغان مہاجرین کا جعلی شناختی کارڈ اور دوسری دستاویزات فراہم کی گئیں اور کہا گیا کہ وہ پاکستان میں ایرانی اسلامی انقلاب کے مخالفین اور منافقین کے خلاف جہاد کرنے جارہے ہیں اور جس آپریشن پر جا رہے ہیں اس کا نام جنگ بر خلاف منافقین ہے۔ ایرانی دہشت گرد محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے پاکستان میں داخل ہو گئے اور کوئٹہ پہنچ گئے اور لارڈز ہوٹل میں قیام کیا۔ ہمیں کمانڈر ناصر حسین نے آپریشن سے آگاہ کیا، ایک روز قبل سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ کے ایک مکان میں پہنچا دیا ، جہاں دوسرے 12 کمانڈوز بھی موجود تھے۔ ہمیں نقشے کی مدد سے منافقین کے ٹھکانوں کے بارے میں بتایا گیا اور مکمل ہدایات دی گئیں ۔ کاروائی کے بعد فرار کا منصوبہ بھی تیار کر لیا گیا۔علی صبح چار بجے ہمیں جگایا گیا،چار بجکر پچاس منٹ پر ہم ٹھکانوں پر پہنچ گئے۔ سات منٹ کی کاروائی کے بعد ہمیں یقین ہو گیا کہ تمام منافقین ختم ہو گئے ہیں تو ہم پہلے سے تیار کردہ جیپ میں بیٹھ کر فرار ہو گئے ، جیپ کے ڈرائیور نے دوسرے ٹھکانوں سے بھی کمانڈوز کو اٹھالیا،ہم نے فرار ہوتے وقت زائد اسلحہ باغ میں پھینک دیا اور سرحد کی طرف روانہ ہو رہے تھے کہ راستے میں ہماری جیپ خراب ہوگئی ۔ ہم ایک دوسری پک اپ میں سوار ہوئے لیکن چیک پوسٹ پر پکڑے گئے۔ 

( شیعیت کا اصلی روپ:صفحہ 598 )

 (23) سی آئی ڈی ایکسٹرنرم کراچی پولیس کی جانب سے گرفتار ہونے والے شیعہ دہشت گردوں نے تفشیش کے دوران 11 علماء اور کارکنوں کے قتل کا اعتراف کیا ہے، انہوں نے دورانِ تفشیش CCPO کراچی سعود مرزا اور SP عمر شاہد کے روبرو انکشاف کیا ہے، شیعہ دہشت گرد منتظر امام نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ناظم آباد تھانے کی حدود میں واقع انو بھائی پارک کے قریب 2010 میں سپاہِ صحابہؓ کے مرکزی رہنما مولانا عبد الغفور ندیم شہیدؒ اور ان کے بیٹے معاویہ ندیم صاحب کو شہید کیا تھا۔ تین ہٹی کے قریب مزار والی مسجد کے سامنے انجینئر الیاس زبیر شہیدؒ اور مسجد کے پیش امام شفیق علوی کو شہید کیا تھا۔ آرام باغ تھانے کی حدود میں واقع سٹی کورٹ جاتے ہوئے ایک کارکن عمر دھوبی کو شہید کیا ، اس تھانے کی حدود میں ان دہشت گردوں نے ایک کارکن منظور احمد کو شہید کیا۔ خواجہ اجمیر نگری میں مولانا محمد احمد مدنی کو بیٹے سمیت شہید کیا۔ فیصل کالونی میں ایک کارکن ریحان کو شہید کیا۔ سرسید تھانے کی گلی میں انصار، نبیل،اور نعمان کو شہید کیا۔ کراچی پولیس نے اس سے قبل بھی دہشت گردوں کے اس گینگ کے دوسرے لڑکوں کو گرفتار کر کے میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا، جنہوں نے سنسنی خیز انکشافات کئے۔ان تمام دہشت گردوں کا تعلق شیعہ کی عسکری تنظیم سپاہِ محمدکے ساتھ تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ سپاہِ محمد کے دہشت گردوں کو ایران کے شہر مشہد میں موجود رضا ایرانی دہشت گردی کا ٹاسک دیتا ہے جو( یوایس بی ) کے ذریعے ٹارگٹ کلرز کو پہنچایا جاتا ہے، اس کے ساتھ کالعدم سپاہِ محمد کو کراچی میں فعال کرنے کیلئے ڈالروں کی صورت میں رقم ایران میں موجود سپاہِ محمد کے تین کمانڈروں کو فراہم کی جاتی ہے جو کراچی کے اندر دہشت گردی کے 6 گروپ چلا رہے ہیں ۔ 

ان لوگوں نے مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مولانا ہارون قاسمی شہیدؒ، مفتی جمیل شہیدؒ ، مولانا نذیر تونسوی شہیدؒ اور مفتی عتیق الرحمن شہیدؒ سمیت سپاهِ صحابہؓ کے کئی درجن علماء اور کارکنوں کو شہید کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ انکشافات کراچی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے سپاہِ محمدکے دہشت گردوں سید حماد ریاض نقوی اورسید علی مہر عرف سلمان

نے دوران تفشیش کئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے نیٹ ورک میں ممتاز بھائی منتظر امام،آصف زیدی، یاور عباس اور محسن نامی لڑکے کام کرتے ہیں جنہیں ذوالقرنین حیدر رقم اور اسلحہ فراہم کرنے میں مدد کرتے ہیں،اور علامہ ذوالقرنین حیدر کے رابطے ایرانی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ ہیں۔ 

صفحہ 13 از 19