پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 14 از 19

 (24)ایران سے دہشت گردی کی تربیت لے کر آنے والا کالعدم سپاہِ محمد کا 16 رکنی ٹارگٹ کلر گروپ کراچی میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کی بڑی بڑی وارداتوں میں ملوث ہے۔ یہ تربیت یافتہ قاتل محض 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پرسپاہِ محمد کے اہداف پورے کرتے ہیں، جبکہ ٹارگٹ مکمل کرنے پر انہیں 50 ہزار روپے انعام الگ دیا جاتا ہے۔ ان دہشت گردوں نے تفشیش کے دوران مزید بتایا کہ پاکستان میں محفوظ تربیتی کیمپ نہ ملنے کے بعد کالعدم سپاہِ محمد نے اپنے دہشت گردوں کو ایران میں دہشت گردی کی تربیت دلوانا شروع کی ہے۔دہشت گردوں کو ٹارگٹ کلنگ کیلئے اہداف ایران میں موجود سپاہِ محمد کے ٹارگٹ کلرز جاری کرتے ہیں۔ مولانا اورنگزیب فاروقی کو ٹارگٹ کرنے پر 20 لاکھ روپے انعام رکھا گیا تھا ۔ اس واردات میں استعمال کی جانے والی کار جعلی شناختی کارڈ پر 11 لاکھ روپے میں خریدی تھی۔ 

اس کار میں مذکورہ ٹیم نے گلشن اقبال میں کاروائی کی لیکن مولانا اورنگزیب فاروقی اس حملے میں زخمی ہوئے،جبکہ پولیس گارڈ اور ان کے دو ذاتی محافظ شہید ہو گئے تھے۔

کراچی کے چھ علاقوں میں کالعدم سپاہِ محمد کے مضبوط نیٹ ورک کام کر رہے ہیں تاہم ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے مرکزی نیٹ ورک نیو رضویہ سوسائٹی سے چلایا جا رہا ہے۔ جہاں ایران میں موجود کالعدم سپاہِ محمد کے ذمہ داروں کے سب ایجنٹ موجود ہیں، جو ٹارگٹ کلرز کو ہدایات جاری کرتے ہیں۔ کالعدم سپاہِ محمد کے دہشت گرد کراچی کی شیعہ آبادیوں میں پناہ لیتے ہیں اور کالعدم سپاہِ محمد میں ہر ایک سال میں اہل تشیع نوجوانوں کو بھرتی بھی کرتے ہیں۔ یہ انکشافات کرنے والے کالعدم سپاہِ محمدکے دہشت گردوں ارشاد حسین عرف عامر عرف حسین،اور جوہر حسین عرف جعفر عرف رحمٰن کو گذشتہ روز سی آئی ڈی کے کاؤنٹرٹیر رازم یونٹ کی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے پر ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع عباس ٹاؤن سے گرفتار کیا تھا۔ ملزمان کے قبضہ سے اسلحہ، واردات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ گرفتار ملزمان نے بتایا کہ ٹارگٹ کلرز کو ماہانا تنخواہ 25 ہزار روپے کے علاوہ ٹارگٹ کی اہمیت کے لحاظ سے انعام بھی دیا جاتا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گروپ2011ء میں کراچی میں فعال ہوا تھا۔ تا ہم تحقیقاتی اور سیکورٹی اداروں کی کاروائیوں کی وجہ سے اس کے بہت سے ٹارگٹ کلرز ایران فرار ہو گئے تھے ۔ 

ذرائع : کے مطابق کالعدم سپاہِ محمدمیں شامل ٹارگٹ کلرز میں سے بعض کا تعلق پارا چنار سے ہے۔ ذرائع کے مطابق کالعدم سپاہِ محمد کے سب ایجنٹ شیعہ نوجوانوں کو منتخب کر کے تربیت کیلئے براستہ دبئی ایران بھجواتے ہیں، جہاں انہیں ایک ماہ کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سپاہِ محمد کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کی 5 اور 6 رکنی ٹیمیں بنائی گئی ہیں جو علاقائی سطح پر اپنے ہدف کی نگرانی کرتی ہیں اور ہدایت ملنے پر کاروائی کرتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایران سے تربیت لے کر آنے والے ٹارگٹ کلر بعض اوقات صحافیوں کا روپ دھار کر مخالف مذہبی گروپوں کی ریلیوں اور جلوسوں میں کوریج کے بہانے اپنے ٹارگٹ کی تصاویر بناتے ہیں اور اس کے بارے میں معلومات اکھٹی کرتے ہیں۔ تفشیشی اداروں کے ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان نے بتایا کہ گذشتہ برس نرسری کے قریب شاہراہِ فیصل پر تین علمائے کرام کوسپاہ محمد کی جس ٹیم نے قتل کیا تھا، اس کی نگرانی سپاہِ محمد کا بدنام دہشت گرد ڈاکٹر علی خود کر رہا تھا اور اس کو وہاں لگے خفیہ کیمرے کی فوٹیج سے شناخت کیا گیا تھا۔ گرفتار سپاہِ محمدکے دہشت گردوں نے تفشیشی افسران کو بتایا کہ ایران میں دہشت گردوں کو آپس میں رابطوں کیلئے جدید مواصلاتی نظام کے استعمال کی تربیت بھی دی جاتی ہے ۔

 (الایثار اخبار: 10 فروری 2014ء) 

 (25) 28 جنوری 2001 ء صبح پونے آٹھ بجے جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی کی گاڑی کا ڈرائیور جامعہ کے علماء اور طلباء کو ان کے گھروں سے جامعہ کی طرف لا رہا تھا، کہ مین شاہراہِ فیصل ڈرگ روڈ پل کے نیچے شاہ فیصل کالونی جانے والے راستے کی طرف سے گاڑی مڑی تو عقب سے آنے والی دو گاڑیوں ہائی روف اور کار میں سوار ملزمان نے پٹری کے قریب اورٹیک کر کے جامعہ کی گاڑی روک کر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس سے جامعہ فاروقیہ کے شیخ الحدیث مولانا عنایت اللہ صاحب،استاد الحدیث مولانا حمید الرحمٰن صاحب مفتی محمد اقبال صاحب اور ان کے صاحبزادے یاسر اقبال اور سات سالہ طالبعلم بلال شدید زخمی ہو گئے، اس واقعہ کے خلاف ملک بھر میں خصوصاً کراچی میں شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا۔ دہشت گردی کا یہ واقعہ بھی سابقہ واقعات کی طرح شیعہ کی طرف سے دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس میں جامعہ بنوری ٹاؤن کے مہتم سمیت استاذ العلماء حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور دیگر نامور علماء کرام شہید ہو گئے ہیں۔ گذشتہ واقعات میں جو چند لوگ گرفتار ہوئے انہوں نے وقوعہ میں شمولیت کا اعتراف کیا اور ان کا تعلق شیعہ کے مرکزی قائدین سے ثابت بھی ہو گیا تھا لیکن ہمارے چند نام نہاد مصلحت پسند علماء ان واقعات کو سنی مسلم تناظر میں دیکھنے پر تیار نہیں تھے۔ اس کے بعد موجودہ واقعہ کا ملزم بھی شیعہ دہشت گرد علی لنگڑاقریبی امام باڑہ سے گرفتار ہوا ، اس نے وقوعہ میں استعمال ہونے والا اسلحہ و دیگر ملزمان کے نام اور قتل کی سازش کی نشاندہی بھی کر دی ہے۔ اب حق پرست علماء کرام کو جان لینا چاہئے کہ شیعہ اپنی ابتداء سے اب تک مسلمان اور اسلام کا دشمن رہا ہے۔ علماء کرام کو مصلحت پسندی کی چادر اتارکر اسلام دشمن گروہ شیعہ کے خلاف فیصلہ کن محنت کرنے کیلئے سپاہِ صحابہؓ کے ساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار ہو جانا چاہیے۔ بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے محفوظ ہو جانے کا خواب دیکھنے والے اس خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کر سکتے ۔

 اور اہلِ حق علماء کرام کو کسی بھی حکومتی یا امن و امان کے پروگرام میں شیعہ اور مسلم کی تمیز کا ضرور خیال رکھنا چاہئیے۔

صفحہ 14 از 19