پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 18 از 19

 تفصیلات کے مطابق سرگودھا کی تحصیل ساہیوال کے ایک گاؤں فاروقہ میں 10 افراد کے اجازت یافتہ ماتمی جلوس کے بجائے 150 افراد پر مشتمل مسلح جلوس نکالے جانے کے خلاف اہلِ علاقہ نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد جلوس کے راستے پر واقع گنبد والی مسجد میں علاقہ مکین مسجد کو تحفظ کرنے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت جمع ہوئے اور انتظامیہ کو بھی اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا اور انہیں ماتمی جلوس کے مسلح شر پسندوں کے عزائم کے بارے میں بتایا گیا لیکن انتظامیہ اسلحہ بردار ماتمی جلوس کے شرکاء کوروک نہ سکی۔ اور پچھلے سال سانحہ پنڈی کی طرح اس سال بھی وہی تاریخ سرگودھا میں ایک بار پھر ماتمی جلوس کی آڑ میں مسلح شیعہ دہشت گردوں نے نہتے اہلِ سنّت نمازیوں پر دھاوا بول کر انہیں شہید و زخمی کر دیا اور مسجد کا تقدس بھی پامال کیا گیا۔ شدید فائرنگ کی آوازیں سننے پر جب اہلِ علاقہ جائے وقوع پر پہنچے تو ہر طرف نمازیوں کا خون بہہ رہا تھا۔ اسلحہ بردار ماتمی جلوس کے دہشت گردوں نے براہِ راست گنبد والی مسجد پر فائرنگ اور خنجر کے وار کر کے 4 نمازیوں کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا جبکہ 10 نمازی زخمی بھی ہوئے ، زخمیوں میں سے متعدد افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ 

)ہفت روزہ اہلِ سنّت اخبار 7 نومبر تا 13 نومبر 2014ء)

 (48) ایران مخالف جنگجو گروپ کے سابق کمانڈر عبدالرؤف ریگی ، اس کے بھتیجے اور کئی اہم شخصیات کو پاکستانی زمین پر ہلاک کیا گیا۔ وزیر انٹیلی جنس ۔ 

بیرون ملک اپوزیشن رہنماؤں کے قتل کا ٹاسک ایرانی انٹیلی جنس کے پاس ہے، کچھ عرصہ پیشتر افریقی ملک تنزانیا میں بھی ایک اپوزیشن راہنما محمد بزووغ زاده کو ایرانی انٹیلی جنس نے ہلاک کیا تھا محمود علوی۔

 ایرانی وزیر کے اعترافِ جرم کے بعد ثابت ہو گیا کہ پاکستان میں ماضی اور حالیہ دنوں میں جید علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں کے قتل کے پیچھے ایران اور اس کے تربیت یافتہ دہشت گرد ملوث ہیں۔

 تفصیلی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر برائے انٹیلی جنس محمود علوی نے بیرون ملک مقیم اپوزیشن رہنماؤں کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق محمود علوی نے یہ بیان قم شہر میں طلباء کی ایک رہائشی اسکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔

 انہوں نے کہا کہ ایران مخالف جنگجو گروپ بلوچ آرمی کے کمانڈر عبدالرؤف ریگی ،اس کے بھتیجے اور کئی دوسری اہم شخصیات کو پاکستان کی سرزمین پر ہلاک کیا۔ خیال رہے کہ عبدالرؤف ریگی کو 28 اگست کو پاکستان کے شہر کوئٹہ میں ایک بم دھماکے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ ایرانی وزیر نے بتایا کہ بیرون ملک ایران کے اپوزیشن رہنماؤں کے قتل کا ٹاسک انٹیلی جنس کے پاس ہے۔ ایرانی وزیر کے اعتراف جرم کے بعد ملک کے مختلف اداروں، سیاسی، سماجی خصوصاً مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور جید علماء کرام نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستانی انٹیلی جنس اداروں اور حکومت کو چاہیئے کہ وہ ایرانی حکومت سے با قاعدہ سفارتی سطح پر سخت احتجاج اور ایرانی سفیر کو ملک بدر کر کے ایران کو ہر سطح پر نا پسندیدہ ملک قرار دے۔ کیونکہ دنیا کا کوئی آئین و قانون کسی ملک کو کسی دوسرے ملک کے خلاف اس کی سرزمین میں گھس کر دہشت گردانہ اور تخریبی کاروائیوں کی اجازت نہیں دیتا۔ ایران کو دوست قرار دینے والوں کے لئے وزیر انٹیلی جنس محمود علوی کا بیان ان کے منہ پر طمانچہ ہے۔ 

پاکستان میں جید علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں کے درجنوں قاتل اب بھی ایران میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور ایران میں بیٹھ کر پاکستان دشمن سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات سے بخوبی واقف ہیں اور کراچی آپریشن میں گرفتار دہشت گردوں نے ایران سے ٹریننگ لینے، ایران کے اشاروں اور مالی فنڈنگ سے جید علماء کرام کے قتل کے اعتراف بھی کئے ہیں۔ اور گرفتار دہشت گردوں کے متعدد ساتھی اب بھی ایران میں موجود ہیں ۔ 

(ہفت روز واہلِ سنّت اخبار 12 دسمبر تا 18 دسمبر 2014)

 (49) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں انتہا پسندانہ نظریات کے فروغ اور بیرونی ایجنڈے کو ہزارہ قوم پر مسلط کرنے کی غرض سے علمدار روڈ کوئٹہ اور ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ میں مختلف تربیتی مراکز کے قیام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان مراکز میں ہزارہ قوم کے معصوم جوانوں اور خواتین کی برین واش کر کے انتہا پسندانہ نظریات کو فروغ دینے اور ہزارہ قوم کو خود سے بیگانہ بنا کر غیروں کے ایجنڈوں پر کام کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جو ہزارہ قوم کے تمام مکاتب فکر کے لئے باعث تشویش ہے۔

 بیان میں کہا گیا کہ ہزارہ قوم نے ماضی میں بھی ایسے عناصر کی کوششوں کو ناکامی سے دو چار کرتے ہوئے ہزارہ قوم کے نوجوانوں کو گمراہی سے بچائے رکھا اور اب بھی قوم کے روشن خیال سیاسی ادارہ قوم کی شناخت کو لاحق خطرات سے محفوظ رکھنے کی خاطر اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے مذہبی اور عقیدہ کے نام پر عوام کو دھوکہ دینے والی قوتوں کی سازشوں سے قوم کو باخبر رکھنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ 

بیان میں کہا گیا کہ مدارس اور تربیتی مراکز کے نام پر اس طرح ہزارہ قوم میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کی کوششیں ہو رہی ہے ہیں، جس میں خواتین اور نوجوانوں کو مختلف بہانوں سے برین واش کرنے کیلئے جس تیزی سے اخراجات کئے جا رہے ہیں اس پر ملکی سلامتی اداروں کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، اور ان عناصر سے ان کی آمدنی کے ذرائع معلوم کرتے ہوئے عوام کو حقائق سے باخبر رکھنے کے سلسلے میں کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ 

 بیان میں کہا گیا کہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور ہزارہ قوم کے روشن خیال قوم دوست حلقے ، جس طرح ماضی میں ان عناصر کو قوم کے سامنے بے نقاب کر چکے ہیں آئندہ بھی تسلسل جاری رہے گا اور قوم کو ہر طرح کے حقائق سے آگاہی فراہم کرتا رہے گا۔ 

(روزنامه جنگ اخبار کوئٹہ: 10 مارچ 2015ء) 

صفحہ 18 از 19