پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 19 از 19

 (50) 14 ستمبر 2015ء،خفیہ ادارہ (سی ٹی ڈی) کے ہاتھوں گرفتار ہونے والا بدنام زمانہ شیعہ دہشت گردMQM کا ٹارگٹ کلر وصی حیدر کی گرفتاری کے بعد خوفناک انکشافات واردات کرنے کے بعد زائرین کے ساتھ ایران چلا جاتا تھا۔ عام کارکن کے قتل پر 20 ہزار۔ بڑے عالم کے قتل پر 20 لاکھ جبکہ مولانا عبدالمجید دینپوریؒ کے قتل پر 30 لاکھ روپے ملے۔

 ملک پاکستان میں اس طرح کے ہزاروں قیامت نما واقعات ہیں کہ شیعہ ظالموں نے مظلوم سنی علماء طلباء، ڈاکٹر ، پروفیسر، وکلاء، تاجر اور عام عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیئے گئے ہیں۔ 

میرے محترم قارئین کرام!

 باطل کا انداز ہر دور میں یہی رہا ہے کہ مال اور عیاشی کی بنیاد پر اہلِ حق کو خرید لو، اور اگر اس میں کامیابی نہ ہو تو طاقت کے زور پر اہلِ حق کو راستہ سے ہٹا دو۔ہر دور میں باطل کا یہی طریقہ واردات رہا ہے۔

 رافضیت جو کہ یہودیت کی نسل سے پیدا شدہ ہے، اس کے اصولوں میں ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ اپنے مخالفین کو راستہ سے ہٹا دیا جائے ، اس کیلئے وہ اس بات میں کوئی تفریق نہیں کرتے کہ ہدف ( یعنی ٹارگٹ ) بنایا جانے والا شخص تحفظ ناموسِ صحابہؓ سے تعلق رکھتا ہے یا نہیں۔

 ہمارے ملک میں تحفظ ناموسِ صحابہؓ کے موضوع پر تنظیم اہلِ سنّت کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھائی گئی، پھر تحفظ حقوق اہلِ سنّت کے نام سے آواز بلند کی گئی ، پھر سپاہِ صحابہؓ کے نام سے آواز اٹھی ، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ دہشت گردوں نے جن علماء کو شہید کیا ہیں کیا وہ سب کے سب مذکورہ بالا تنظیموں سے منسلک تھے؟( نہیں ، ہر گز نہیں ) بلکہ اب تک جو لوگ شیعیت کی دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں ان میں سے ایسے حضرات بھی ہیں جو سپاہِ صحابہؓ کے انداز اور طریقہ کار سے بھی متفق نہیں تھے۔

 حضرت مولانا علامہ حق نواز جھنگوی شہیدؓ سے لے کر حضرت مولانا علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ تک کے علاوہ بھی ناموسِ صحابہؓ کے تحفظ کیلئے جان قربان کرنے والے علماء کرام کی ایک طویل فہرست ہے۔ مگر ہم یہ پوچھتے ہیں کہ مرکزی مسجد اسلام آباد کے خطیب حضرت مولانا عبد اللہ شہیدؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہیدؒ، حضرت مولانا محمد اسلم شیخ پوری شہیدؒ اور ان جیسے دوسرے بہت سے علماء کرام اور قائدین اسلام جو کہ شیعیت کی تیغ قاتل کا شکار ہوئے ان کا کیا قصور تھا ؟

اگر سپاہِ صحابہؓ یا اس کے قائدین شیعہ کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں تو ان کا ہدف بھی وہی لوگ بننے چاہئیں ۔ مگر علمائے حق کو بلا تفریق اپنا نشانہ بنانا اور ان کے معصوم خون سے اپنے ہاتھ رنگنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دشمنانِ اسلام (شیعہ) کے پیش نظر اور مقصد۔سپاہِ صحابہؓ نہیں بلکہ علمائے حق اور علمائے اسلام ہیں، اور شہادتوں کے سنہری سلسلہ میں بلاامتیاز ہر وہ شخص شامل ہو سکتا ہے جسے باطل اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہوں ۔ جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ باطل یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ وہ حق کے خلاف آخری راؤنڈ کھیل رہا ہے اور ان مذہبی شخصیات کو راستہ سے ہٹا کر اپنے مفادات کا تحفظ کر لے گا۔ مگر یہ اس کی بھول ہے۔ اگر تاتاریوں کا قتل عام اسلام کی زندگی مختصر نہ کر سکا اور عیسائیت کا اندھا طوفان اسلام کا کچھ نہ بگاڑ سکا تو یہودیت اور سبائیت کا موجودہ سیلاب بھی اپنے ناپاک مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے گا ان شاء الله )۔

 میرے محترم قارئین کرام !

 اس طرح کے ہزاروں قیامت نما حادثات ہے جو شیعہ دہشت گردوں کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوئے ہیں نمونہ کے لئے چند واقعات آپ کے سامنے پیش کر دیئے ہیں۔


صفحہ 19 از 19