پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 2 از 19

قیام پاکستان سے لے کر 1985ء تک کراچی میں اسلامی اخوت اور بھائی چارے کے تحت زندگی گزارنے والوں کے درمیان نفرتوں کا بیج کس نے بویا؟ 1985ء سے شروع ہو کر آج تک نہ ختم ہونے والے ہنگاموں میں واقعات کے مطابق گاڑیوں پر سوار ہو کر فائرنگ کرنے اور دہشت گردی پھیلانے والوں کا تعلق یا تو ایران سے ہے۔ یاپارا چنار یا شمالی علاقہ جات کی شیعہ آبادی سے ہے۔ دونوں قوموں کے شیعہ مل کر کراچی میں قومیت کی فضا کو کیوں ابھار رہی ہے۔ وادی پارا چنار میں روس کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے افغانی مجاہدین کا خون کس نے بہایا ہے؟ ان کے راستے روکنے والے کون تھے؟ میر جعفر، میر صادق اور یحٰی خان کی ذریت ایک بار پھر پاکستان کے ٹکڑے کرنے کے لیے گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ آج امام بارگاہوں میں پاکستان کی فوجی چھاونی سے زیادہ اسلحہ موجود ہے۔ کوئٹہ، کراچی اور پارا چنار کے واقعات آنے والے واقعات کا سگنل ہیں۔

ایران میں خمینی انقلاب کے بعد سے ہمارے ملک میں "نفاذ فقہ جعفریہ" کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس پر اہلِ سنت کے محبِّ وطن افراد اور انتظامیہ کی آنکھیں اب کھلنی چاہیے۔ یہی وجہ تھی کہ سانحہ کوئٹہ کے بعد وفاقی وزیرِ داخلہ کو اپنی سینٹ کی تقریر میں کھلے الفاظ میں کہنا پڑا کہ حکومت کے پاس اس بات کا واضح ثبوت موجود ہے کہ پاکستان کے شیعوں کو غیر ملکی امداد مل رہی ہے۔ (روزنامہ جنگ لاہور 12 جولائی 1985ء)

سب کچھ جانتے ہوئے بھی انتظامیہ کسی قسم کی کاروائی کرنے سے کیوں قاصر ہے؟ ایران میں خمینی انقلاب کے بعد پاکستانی شیعوں کو جو ایرانی ایڈ اور گائیڈ لائن ملنا شروع ہوئی ہے، اس کی وجہ سے عالمِ اسلام کے ساتھ مسلسل غداری کرنے والا یہ گروہ پاکستان میں بھی اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاکہ پاکستان کو بھی شیعہ اسٹیٹ بنا دیا جائے، اس مقصد کے حصول کے لیے یہ گروہ اہلِ سنت کے درمیان موجود فروعی اختلافات کو اچھال کر آپس میں دست و گریبان کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ شیعہ کے لیے اقتدار تک پہنچنا آسان ہو سکے۔ اس لیے علماء کرام اور عوام الناس کا فرض ہے کہ اتحاد کا علَم لے کر میدان میں نکلیں اور فتنہ شیعت کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔

1: سانحہ گلگت:

آغا ضیاء الدین رضوی مرکزی انجمن امامیہ شمالی علاقہ جات کے صدر تھے 8جنوری 2005ء کو گلگت میں جب ان پر کسی مخالف نے حملہ کر کے زخمی کر دیا تو شیعہ دہشت گرد تنظیم _امل ملیشیا_ کے کمانڈوز اور مقامی شیعہ آبادی مشتعل ہو کر اپنے خود کار ہتھیاروں کے ساتھ بغرضِ انتقام سینکڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل پڑی اور مقامی دفتروں، بازاروں اور گھروں میں گھس کر سنی مسلمانوں اور ان کے خاندان کے افراد کا قتل عام شروع کر دیا سرکاری دفتروں اور ان کی درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی اور سنی سرکاری افسران اور ملازمین کو بھی نہیں چھوڑا۔

کچھ سنی ملازمین کے اہلِ خانہ بیوی بچوں نے خوف کے مارے بھاگ کر ڈویژنل فوریسٹ افیسر "تیغون بنی" کے گھر پناہ لے لی۔ لیکن مسلح شیعہ درندے وہاں بھی پہنچ گئے اور فاریسٹ آفیسر اس کے اپنے خاندان اور اس کے گھر میں تمام پناہ گزینوں کو گولیوں سے بھون ڈالا اور مکان کو آگ لگا دی فاریسٹ افیسر کی جوان سال بیٹی جو باپ کے خون میں لت پت تھی اللہ تعالٰی جل شانہ اور رسولﷺ کے واسطے دے کر جان بچانے اور ہمسائیوں کو پولیس کو بلانے کے لیے دہائی دیتی رہی، لیکن۔۔۔شیعہ دہشت گردوں کو کوئی ترس نہ آیا۔ وہ تو انسان نہیں درندے تھے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایک ملازم نے بتایا کہ خود کار ہتھیاروں سے لیس سینکڑوں شیعوں نے ہسپتال پر ہلہ بول دیا اور ہسپتال کے وارڈوں میں گھس کر سنی ڈاکٹر مریضوں اور ان کی عیادت کے لیے آنے والوں پر اندھا دھند حملے شروع کر دیے۔شمالی علاقہ جات کونسل کے پارلیمانی لیڈر "حافظ حفیظ الرحمن" نے بتایا کہ اس واقعہ میں سنی سرکاری افسران اور ملازمین کو چن چن کر شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقے سے لے کر گلگت تک مسلح شیعہ افراد دہشت گردی کرتے ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں اطلاع میں بتایا گیا کہ شہر کے گرد و نوا ح میں حفاظتی انتظامات سرے سے تھے ہی نہیں اور مقامی پولیس اور انتظامیہ بے بسی کی تصویر بنی رہی۔ 14 جنوری 2005ء کو شیعہ علماء کونسل کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں شیعوں نے ایک بار پھر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ دیکھا گیا کہ شیعہ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں اور جیبوں میں پتھروں سے بھرے ہوئے تھیلے لیے ہوئے تھے۔ انہوں نے چائنا چوک پہنچ کر پولیس اور گاڑیوں پر زبردست پتھراؤ کرنا شروع کر دیا۔ اسلام آباد میں یہ افواہ بھی پھیلی کہ شمالی علاقہ جات کے کمانڈوز شہر میں ان علماء جو سانحہ گلگت پر زبان درازی کرتے ہیں۔ (یعنی لوگوں کو اصل حقائق سے باخبر کرتے ہیں) کا خاتمہ کرنے کے لیے داخل ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد غازی رشید شہید ؒ پر قاتلانہ حملہ کروا دیا گیا۔ جس میں وہ بال بال بچ گئے۔ اسی طرح اسلام آباد کی مسجد میں طاقتور بم بھی پایا گیا۔ جو اطلاع دینے پر پولیس اٹھا کر لے گئی۔

نوائے وقت 7.2.2005 کے مطابق گلگت میں شیعہ دہشت گردوں کے ہاتھوں سینکڑوں سنی افراد عورتوں اور بچوں کے قتل عام کے بعد اب یہ خبر آئی ہے کہ آغاز ضیاء الدین ملعون پر حملہ کرنے والا ان کا اپنا ہی ایک قریبی(شیعہ) ساتھی ہے۔ جو پشاور سے پکڑا گیا ہے (ایران اور عالم اسلام، صفحہ118)

2 : سانحہ کوئٹہ

کوئٹہ میں بربریت کے دو دن چنگیزی مظالم کی یاد تازہ کر دینے والے عینی شاہدوں کے واقعات، لاشوں کی بے حرمتی، کی ایسی مثال جاہلیت کے دور میں صرف ملتی ہے۔

صفحہ 2 از 19