پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 3 از 19

6 جولائی 1985ء کو ضلع کوئٹہ صوبہ بلوچستان شہر میں شیعہ کے جانب سے ایک احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا۔ اس مظاہرے سے قبل وہاں بعض ایسی تیاریاں دیکھی گئیں۔ جس سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ اس موقع پر تشدد کی وارداتیں ہوں گی اور بعض لوگوں نے حکومت کو اس کی طرف متوجہ بھی کیا لیکن ان کی طرف سے حسبِ معمول سستی کا مظاہرہ کیا گیا اور ان اندیشوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی اور بالآخر اسی اندیشے کے مطابق وہی کچھ ہو گیا جو نہ ہونا چاہیے تھا۔ اور ظلم و بربریت کا وہ مظاہرہ دیکھنے میں آیا جو چنگیز خان کے مظالم میں بھی نہ سنا گیا تھا۔

 بربریت کوئٹہ کا انکھوں دیکھا کانوں سنا حال

عینی شاہدوں کے مطابق 6جولائی 1985ء کو جب مظاہرین نے دو غیر ملکی شہریوں آغا یعقوب اور مولوی جمعہ اسدی کی قیادت میں جلوس نکالنا شروع کیا تو مظاہرین کا ایک جتهہ جو مسلح تھا اس نے ایک طرف شر انگیزی کے لیے بڑھنا شروع کیا۔ پولیس کے نوجوان راستے میں آئے اور انہوں نے جلوس کے شرکاء کو اس طرف توجہ دلائی کہ حکومت کی طرف سے جلوس نکالنے کی اجازت نہیں، آپ صرف اسی جگہ اجتماع کر سکتے ہیں تو جلوس کے مسلح شرکاء نے پولیس والوں کو پکڑ لیا اور کچھ لوگوں نے ان کو ذبح کر دیا بعض پولیس والوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے۔ بعض کو زندہ ایمان بگاڑے پر لٹکایا گیا۔ بعض پولیس والے لاشوں کے سروں کو فٹ بال کے طور پر کھیل کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس دہشت گرد گروہ کو اسی پر صبر نہ آیا قریب بھی ایک اسکول تھا جس میں ملک کی چھوٹی طالبات تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ جلوس کے شرکاء میں سے ایک گروہ اس سکول کی طرف روانہ ہوا اور معصوم طالبات کا جو حشر کیا گیا اور جس طرح ان لڑکیوں کو پکڑ کر پولیس کے سامنے ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا اس کو تحریر میں لانا مشکل ہے۔ معلوم ایسا ہوتا تھا کہ ان مظالم کے باوجود ابھی جلوس کے شرکاء شیعہ دہشت گردوں کے انتقام کی پیاس نہ بجھی تو انہوں نے قریب کی دکانوں اور بینکوں وغیرہ کو جلانا شروع کر دیا اور جو راہ گیر ملا اس کو بھی تشدّد کا نشانہ بنایا گیا۔6جولائی کا دن اہلِ قائد آباد اور اہلِ کوئٹہ کے لیے قیامت سے کم نہ تھا سرکاری اطلاعات کے مطابق اس میں 92 افراد شہید ہو گئے۔

 افسوس ناک منظر:

16جولائی نوائے وقت اخبار کے مطابق۔۔ تھانہ قائد آباد کے علاقے میں چھ جولائی کے افسوسناک واقعہ کے دوران ایک شیعہ دہشت گرد دوسرے سنی پولیس سپاہی کو ذبح کر رہا تھا۔ یہ منظر ایک لڑکی شمع نے دیکھا جو یہ منظر دیکھتے ہی بے ہوش ہو گئی اور اب تک (یعنی 9دن کے بعد بھی) بے ہوش ہے۔

ان تمام مظالم اور واقعات میں نہ صرف غیر ملکی افراد مظالم کرتے دیکھے گئے بلکہ غیر ملک کے ایک رضاکار دستہ کا محافظ جسے "پاسدارانِ ایرانی انقلاب" کے نام سے پکارا جاتا ہے بھی ہلاک ہوئے۔ اس تمام کاروائی کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس تمام پرتشدّد کاروائی میں پولیس انتظامیہ نے اس کی روک تھام کے لیے کوئی جدّوجہد نہ کی، اور شام تک یہ ظالم خود ہی تھک کر آرام سے بیٹھ گئے۔ جبکہ دوسری طرف رات گئے تک بعض گھروں میں ان کی معصوم بچیاں نہ پہنچی تھی۔ 9جولائی کو پھر اس دہشت گرد گروہ اور حکومت کے درمیان شدید تصادم ہوا اور سارا دن کوئٹہ شہر فائرنگ کی آوازوں سے گونجتا رہا۔ اور آخر کار فوج کو مداخلت کرنا پڑی۔ اور 9جولائی کی شام کو کرفیو نافذ کیا گیا۔ کرفیو کے دوران جب شیعہ دہشت گردوں کے گھروں کی تلاشی لی گئی تو تقریبا 10ٹرک سے زائد مقدار میں غیر ملکی (ایرانی) اسلحہ برآمد ہوا۔ اور بعض جگہوں پر ایک ایک گھر سے ایک ٹرک کی مقدار اسلحہ برآمد کیا گیا اور اس گروہ کے افراد نے گھروں اور ایمان بگاڑوں کے تہہ خانوں میں دیواریں بنا کر اسلحہ چھپا رکھا تھا۔

 میرے محترم قارئین کرام!

سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ 6جولائی کو ہی فوجی کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟ اور مزید یہ نقصان کس کے پاؤر اور مشورے سے برداشت کیا گیا؟ اور چھ جولائی سے قبل جب ایران سے اسلحہ آنے کی خبر دی گئی تو انتظامیہ نے پیش بندی کے طور پر تلاشی کیوں نہیں لی؟ انتظامیہ نے جلوس کے شرکاء کا موڈ دیکھ کر حفاظتی اقدامات کیوں صحیح نہیں کیے؟ غیر ملکی خصوصًا ایرانی ایجنڈوں پر انتظامیہ کی طرف سے کیوں نگاہ نہیں رکھی گئی؟ یہ چند سوالات ہیں جو ہر پڑھنے والے اور سلیم الفطرت شخص کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔

ایرانی انقلاب کو دوسرے ممالک میں لانے کیلئے برآمد کے طریقے:

 انقلاب ایران کی برآمد کے طریقوں سے مراد۔۔۔ ایرانی رہنماؤں کے ان بیانات کی دوسرے ملکوں میں تشہیر ہے جو ان کی طرف سے اس موضوع پر وقتًا فوقتًا دیئے گئے ہیں اور جن کو بروئے کار لاکر ایرانی اس مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

 ایرانی بیانات ملاحظہ کیجئے:

  • یا درکھیں! دنیا میں اگر کہیں طاقتور حکومتیں ہمارے خلاف ہیں تو ان کے لوگ ہمارے ساتھ ہیں، اس لئے ہمارا ہدف صرف عوام اور ان کا عقیدہ ہونا چاہئے، کیونکہ لوگ سچائی کو جلدی قبول کر لیتے ہیں، اور چونکہ وہ دبے ہوئے اور مظلوم ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنے حکمرانوں کے خلاف جلد ہی اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے سرکاری اور غیر سرکاری نمائندے دوسرے ملکوں میں لوگوں کو بیدار کرنے کیلئے بھیجنے چاہئیں۔ اگر ہم ایرانی انقلاب کو برآمد کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں زیادہ سے زیادہ غیر سرکاری نمائندوں کو پوشیدہ طریقے سے دوسرے ملکوں میں بھیجنا چاہئے تاکہ وہ ان کی گلیوں میں آزادی سے چل پھر سکیں اور عام لوگوں سے گھل مل کر ان سے قریبی روابط پیدا کر سکیں، ان کے جذبات کو اُکسا سکیں اور ایران جیسے انقلاب کی طرف ان کو مائل کر سکیں۔ اب جبکہ ایرانی قوم انقلاب کے ابتدائی دور سے کامیابی سے گزرچکی ہے (یعنی لاکھوں سنیوں کے قتل عام کو اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں) اس پر اب ایک بھاری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اسلامی جہاد (جس میں صرف سنیوں کو قتل کیا جاتا ہو) شروع کرنے اور دوسرے ملکوں میں مظلوم اور دبے ہوئے لوگوں کو اپنی حکومتوں کے خلاف اُکسانے میں ان کا ساتھ دیں۔ 

(ایران افکار و عزائم، صفحہ 34)

صفحہ 3 از 19