پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 4 از 19
  •  انقلاب کو دوسرے ممالک میں برآمد کرنے کا فرض ایران کی ہر تنظیم پر عائد ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ کھیلوں کی تنظیموں کو بھی ایسے کھلاڑی دوسرے ملکوں میں بھیجنے چاہئے جو ایرانی انقلاب سے متاثر ہوں اور اسے برآمد کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔

(ایران افکار و عزائم، صفحہ35)

  • ایرانی انقلاب کی برآمد کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ دوسرے اسلامی ملکوں کی مساجد کے آئمہ کو ایران آنے کی دعوت دیں تاکہ ان کے تعلقات ایرانی علماء کے ساتھ قائم ہوسکیں۔ ایرانی انقلاب کے اعلیٰ مقاصد اور عظیم ایرانی قوم کی قربانیوں سے ان کو آشنا کرو اور ان تک اسلام (شیعیت) کا صحیح پیغام پہنچاؤ۔ اگر امریکہ اور اس کے پٹھوؤں کے غیر اسلامی اور وحشیانہ عزائم سے لوگوں کو مؤثر طور پر آگاہ کر دیا گیا تو وہ ضرور ایران اور اس کے انقلاب کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوں گے 

(ایران افکار و عزائم، صفحہ 35)

  •  ایران کی کچھ سرکاری تنظیمیں اور سیاسی نمائندے اُن تمام اسلامی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے رابطے ایسے نوجوانوں خصوصًا شیعہ نوجوانوں سے ہیں جو یا تو بےکار ہیں یا کسی وجہ سے اپنی حکومتوں سے بیزار ہیں اور یا شیعہ تنظیموں کے سرگرم کارکن ہیں۔ ایسے نوجوانوں کو ایرانی اور بوسینیائی لڑکیوں سے شادی کی ترغیب اور مالی پیشکش کی جاتی ہے اور تخریب کاری کی تربیت کیلئے ایران لایا جاتا ہے جہاں اس مقصد کیلئے درجنوں تربیتی مراکز کام کر رہے ہیں۔ ان مرکزوں میں نوجوانوں کے دماغوں میں بٹھایا جاتا ہے کہ اُن کے حکمران غیر اسلامی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اور تربیت کاروں کے مطابق پروگرام کی تین منزلیں ہیں:  

پہلی منزل: مرکزی جگہوں، چوراہوں اور پرہجوم بازاروں میں بموں کے دھما کے کرنا، جس سے لوگ بددل ہوں اور یہ ثابت ہو کہ اس ملک میں استحکام اور پائیداری نام کی کوئی چیز نہیں اور امن کا فقدان ہے۔

 دوسری منزل: اُن پولیس والوں، وکیلوں اور ججوں وغیرہ کا قتل ہے جو تخریب کاروں یا ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے یا ان کے خلاف وکالت کرنے اور یا ان کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں۔ 

تیسری منزل: حکومت کا تختہ الٹنا اور شیعہ حکومت یا ایران نواز لوگوں کو بر سر اقتدار لانا ہے۔

(ایران افکار و عزائم، صفحہ39)

  •  حالیہ کچھ عرصے سے پاکستان کی شیعہ قیادت نے انٹرنیشنل کیمونیزم کے خطوط پر چلائی جانے والی ایران کی انٹرنیشنل شیعیت کی خمینی(خونی) تحریک کے پاکستان میں غیر مؤثر نتائج اور ناکامی کے بعد ایک حکمتِ عملی اپنائی ہے جس کے تحت اتحاد بین المسلمین جیسی تحریک، اخوتِ اسلامی، اخوتِ اکادمی نامی کئی نئی تنظیمیں متعارف کرائی ہیں جن کا مقصد باہمی اختلافات و نظریات سے ہٹ کر اعلیٰ اخلاق و کردار کو فروغ دینا ہے۔ جبکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ان تنظیموں کی باگ دوڑ نوجوان اور فعّال شیعہ قیادت کے ہاتھوں میں ہے۔

جو آئے دن مختلف اسلامی اور قومی موضوعات پر مجالس اور سیمینار کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ ان مجالس میں اکثر و بیشتر ممتاز سنی مسلم مذہبی، ادبی اور سماجی شخصیات کو نمایاں طور پر مدعو کرتے ہیں۔ ان موقعوں پر منتظمین کی طرف سے زیادہ زور قومی مفاہمت اور یکجہتی پر دے کر نہ صرف یہ تاثر عام کیا جاتا ہے کہ شیعہ و سنی در حقیقت ایک ہی شجر کی دو شاخیں ہیں بلکہ شیعہ کیمونٹی ہر اعتبار سے بہتر مسلمان اور حب الوطن پاکستانی ہیں۔ اس طرح ان کی غرض وغایت شیعہ نوجوانوں کی قیادت کو سنیوں میں مقبول بنانا ہے اور ایسی سازگار فضا پیدا کرنا ہے کہ مناسب وقت پر جب بھی ملک میں شیعہ انقلاب برپا کرنے کا آغاز کیا جائے تو یہی شیعہ نوجوان طبقہ مسلمانوں کے نمائندوں کی حیثیت سے بلا رکاوٹ اپنا شیعی مشن پورا کر سکے۔ یہ ایک دور رس خطرناک گہری سازش ہے جس کا صحیح اور بروقت ادراک پاکستانی مسلمانوں کو شیعوں کی غلامی سے بچا سکتا ہے۔

 (ایران افکار و عزائم، صفحہ4)

صفحہ 4 از 19