پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 5 از 19
  •  اسی طرح آیت اللہ خمینی ملعون کی ہدیات پر پاکستان میں کئی شیعہ اسکول کھولے گئے، جن میں ایرانی اسکولوں کا نصاب پڑھایا جاتا ہے جسے نجف اور مشہد کے تعلیم یافتہ استاد پڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ چند اخبار اور میگزین بھی شروع کئے گئے، جن میں اسلام آباد سے شائع ہونے والا انگریزی اخبار مسلم بھی شامل ہے۔ ایران ان اخبارات و جرائد کومختلف طریقوں سے اشتہاری اور مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ ان سب نے ایران کے شیعہ انقلاب کو اسلامی انقلاب اور خمینی ملعون کو اسلامی دنیا کا رہنما ثابت کرنے کیلئے ایک باقاعدہ مہم شروع کر رکھی ہے۔ کچھ سنی اخبار بھی شاید مالی امداد کے لالچ میں اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ اگر ایران کا انقلاب اسلامی ہے تو وہاں کا سرکاری مذہب شیعہ اثناء عشری کیوں ہے؟ اسلام کیوں نہیں؟ 
  •  آخرایسی مساجد اور مدارس میں گرنیٹ اور بم پھینکنا جن کے نام صحابہ کرامؓ کے ناموں پر رکھے گئے ہیں کیا معنی رکھتا ہے؟ یہ عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان میں بھی ان دہشت گردوں کا طریقہ کار بالکل وہی ہیں جو ایران میں "انقلابیوں" کا انقلاب سے پہلے تھا، جس کا مقصد بھی ایرانی عوام میں انتشار اور بے چینی پھیلا کر انقلاب کے لئے راہ ہموار کرنا تھا۔ (ایران افکار و عزائم، صفحہ 85)
  • پاکستان کے شیعہ طبقوں کے لیڈر اپنی تخریب کارانہ دہشت گردی کی کاروائیوں پر پردہ ڈالے رکھنے کیلئے اور اپنے بچاؤ کیلئے حکومتِ وقت کے حلیف بن کر اس کی پشت پناہی حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ ایران میں ان کے آقا ان کی مالی، اخلاقی اور مادی امداد کرتے ہیں اور اسلام دشمن کاروائیوں میں ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔
  • شروع میں جس طرح قادیانیوں نے مسلمانوں کی عام کمزوری عورت اور مال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو استعمال کر کے قادیانیت کو فروغ دیا تھا، آج شیعہ بھی وہی حربہ استعمال کر کے بھر پور فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ ان کی لڑکیاں پڑھے لکھے خوشحال مسلمان نوجوانوں کو فریب دیتی ہیں جس کے نتیجہ میں بعض مسلم نوجوان جو شیعوں کے عقیدے اور عزائم سے واقف نہیں ہوتے، ان شیعہ عورتوں کے دام میں پھنس کر ان سے شادی رچا لیتے ہیں۔ مزید ظلم یہ کہ ان عورتوں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ سنی نوجوان اپنے دین سے برگشتہ ہو جائیں اور ان کی اولاد شیعہ آبادی میں اضافہ کا سبب بن جائیں۔(ایران اور عالم اسلام، صفحہ 46)
  •  اسی طرح ایران نے پاکستان میں اپنے ایجنٹ اور نمائندے بھی مقرر کر رکھے ہیں، جن کا حکومت اور دوسری مذہبی اور سیاسی جماعتوں اور ادبی حلقوں میں گہرا اثر و رسوخ ہے۔ وہ ایران کے قومی و مذہبی دنوں کے مواقع پر ان خاص دنوں کی یاد منانے کیلئے جلسے جلوس اور مختلف تقاریب کا انعقاد کر کے پاکستان کی مقتدر سیاسی، ادبی شخصیتوں اور حکومتی وزیروں مشیروں وغیرہ، خصوصًا ضعیف الاعتقاد اہلِ سنت کو بلا کر ایران اور خمینی کی تعریف میں مقالے پڑھواتے اور تقریریں کرواتے ہیں۔ جن کی ایرانی ذرائع ابلاغ کے ذریعے بعد میں خوب تشہیر کی جاتی ہے۔ 

(ایران افکار و عزائم، صفحہ 80)

  •  دوسرے اسلامی ملکوں میں ایرانی انقلاب کے برآمد کیلئے جو طریقے اختیار کئے ہیں ان میں سے ایک طریقہ۔۔۔ دبی ہوئی اور غلام قوموں کی رہنمائی ہے۔ وہ اس انداز میں کہ ان کے علماء (پادری) مختلف موقعوں پر ان کو مخاطب کرتے ہیں اور پیغام دیتے ہے تا کہ وہ اپنے ملکوں میں انقلاب کیلئے جوش و جذبے سے سرشار ہو سکیں اور شیعیت کیلئے جنگ لڑسکیں۔ 

(ایران افکار و عزائم، صفحہ36)

  • دوسرے ملکوں میں ایرانی انقلاب کو برآمد کرنے کا ایک اہم ہتھیار لٹریچر ہے اور ایک بلین ریال سے زیادہ خرچ پر کتابیں وغیرہ چھاپ کر دوسرے ملکوں میں تقسیم کی جا چکی ہیں۔ چنانچہ ایرانی حاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: اے برادران و خواهران! یہ تمہارا فرض ہے کہ دوسرے ملکوں کے حاجیوں کے ذریعے ایرانی انقلاب کو برآمد کرو۔ ایرانی انقلاب، اس کے بانی (خمینی ملعون) اور اپنی قوم کے مقاصد کی کتابوں، رسالوں اور تقریروں وغیرہ کے ذریعے تشہیر کرو اور دوسرے ملکوں کے حاجیوں کو باور کراؤ کہ ہمارا انقلاب خالصتاً اسلامی انقلاب ہے۔ 

محترم قارئین کرام! ایسی جگہ جہاں پر انسان اپنا سب کچھ بول کر صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ کے ساتھ تعلق بنانے اور اُس ذات کی بندگی کیلئے پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں پر شیعوں کی یہ ذہن ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت کی بجائے لوگوں کو خمینی ملعون اور ایرانی انقلاب سے آگاہ کر کے ان کی تعریفیں کی جائیں۔

 (ایران افکار و عزائم، صفحہ 38:35)

صفحہ 5 از 19