پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 6 از 19
  •  حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے اس زمانے میں پروپیگنڈہ کیسی غیر معمولی اور کتنی مؤثر طاقت ہے، اور کسی غلط سے غلط بات کو حقیقت باور کرا دینے کی اس میں کس قدر صلاحیت ہے، اس کی تازہ مثال جو آنکھوں کے سامنے ہے وہ پروپیگنڈہ ہے جو موجودہ ایرانی حکومت کی طرف سے اپنے سفارتخانوں اور ایجنٹوں کے ذریعہ خمینی ملعون کی شخصیت اور ان کے برپا کئے ہوئے ایرانی انقلاب کی "خالص اسلامیت" اور اس سلسلہ میں اسلامی وحدت اور شیعہ سنی اتحاد کی دعوت کے عنوان سے کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کیلئے کانفرنسوں پہ کانفرنسیں بلائی جارہی ہیں جن میں دنیا بھر کے ملکوں سے ایسے نمائندے بلائے جاتے ہیں، جن سے متاثر ہونے اور اپنے مقصد میں فائدہ اُٹھانے کی توقع ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ملکوں اور مختلف زبانوں میں کتابچوں، کتابوں، پمفلٹوں اور رسائل و اخبارات کا ایک سیلاب جاری ہے۔ کم از کم راقم سطور نے اپنی ستر سالہ شعوری زندگی میں نہیں دیکھا کہ کسی حکومت یا کسی سیاسی پارٹی کی طرف سے ایسے وسیع پیمانے پر اور ایسا فنکارانہ اور مؤثر پروپیگنڈہ کیا گیا ہو۔ ہمارے اس دور کی حکومتیں زمانہ جنگ میں جس طرح اسلحہ اور دوسرے جنگی وسائل پر بے دریغ اور بے حساب دولت خرچ کرتی اور اس کیلئے حکومتی خزانے کا منہ کھول دیتی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ ایرانی حکومت اسی طرح اس پروپیگنڈہ پر ملک کی دولت پانی کی طرح بہا رہی ہے۔ اس مہینے مارچ 1984ء کے شروع میں ضلع مراد آباد کے دیہات کے ایک صاحب کسی ضرورت سے لکھنو آئے، راقم سطور سے بھی ملے، انہوں نے بتلایا کہ ہمارے علاقے میں گاؤں گاؤں اس سلسلہ کا لٹریچر پہنچ رہا ہے۔ بارش کی طرح بہنے والے اس لٹریچر اور اس پروپیگنڈے سے کلمہ اسلام کی سر بلندی اور اسلامی حکومت کے قیام کی تمنا اور خواہش رکھنے والے ہر اس شخص کا متاثر ہونا فطری بات ہے، جو شیعیت اور شیعیت کی تاریخ سے اور اس وقت کے ایران کے اندرونی حالات اور وہاں کی سنی آبادی کی حالت زار سے خمینی ملعون کی شخصیت اور ان کے برپا کئے ہوئے انقلاب کی اس فکری و مذہبی بنیاد سے واقف نہ ہو، جو خود خمینی ملعون نے اپنی تصانیف خاص کر اپنی کتاب "ولاية الفقيه الحكومت لاسلامیہ"میں پوری وضاحت سے بیان کی ہے۔ یہ کتاب ہی گویا اس انقلاب کی بنیاد ہے۔ اور اس کتاب کو بھی صحیح طور پر وہی سمجھ سکتا ہے جو شیعیت سے واقف ہو، اور اس نے شیعہ مذہب کا مطالعہ کیا ہو۔ 

(ایرانی انقلاب صفحہ22 تا 29)

  •  ایران نے پاکستان میں اپنے سفارت کاروں کو سخت ہدایات جاری کی ہوئی ہیں کہ وہ اس ملک میں اپنے ہم مسلک لوگوں سے مل کر شیعہ انقلاب لانے کیلئے راہ ہموار کریں۔ چنانچہ ان کا کام ہی یہ ہے کہ ایران میں شائع شدہ فرقہ واریت پر مبنی شیعہ مواد کو مقامی زبانوں میں شائع کروائیں، مقامی لوگوں میں تقسیم کریں اور اپنے ہم مسلک لوگوں سے مل کر یہاں شیعہ انقلاب لانے کے لئے حکمتِ عملی اور لائحہ عمل وضع کریں۔

(ایران اور عالم اسلام، صفحہ109)

  • یہ ایک حقیقت ہے کہ ایرانیوں خصوصًا ان کے سفارت کاروں اور ثقافتی مراکز (جو پاکستان میں نصف درجن سے زیادہ ہیں) کے کارکنوں نے بھی پاکستانی شیعوں میں سنیوں کے خلاف تعصّب کو ہوا دی اور انہیں فعّال بنانے کی غرض سے اپنے حقوق بزورِ قوت چھیننے کی تلقین کی۔ ایرانی سفارت کے ذریعے پاکستان میں ایرانی لٹریچر کثرت سے پہنچایا گیا اور یہاں کے مقامی لوگوں کی زبانوں میں ترجمہ کروایا گیا جن لٹریچر میں اللہ تعالیٰ جل شانہ کو جھوٹا لکھا گیا تھا، اور حضوراکرمﷺ کو ناکام لکھا گیا تھا، اور ازواجِ مطہراتؓ و صحابہ کرامؓ کو کافر، مرتد، جہنمی تک تحریر کیا گیا تھا، اور صحابہ کرامؓ کی ماں، بہن کو ننگی گالیاں تحریر کی گئی تھی۔ (معاذاللہ)۔ 

(ایران افکار و عزائم، صفحہ82)

  •  عوام کو حکومت کے خلاف مشتعل کرنے کا کام شیعی خطیب علی احمد حبیل کر رہا ہے۔ وہ اپنے خطابات میں لوگوں کو حکومت کے خلاف پرتشدّد کاروائیاں کرنے اور حکومت مخالف پروپیگنڈہ کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ اس نے کئی پارٹیاں تشکیل دی ہیں جو "بحرینی حزب الله" میں شامل ہو کر تخریبی کاروائیاں کریں گی۔ ان ملزمان کے اعترافات اُن دنوں بحرینی ٹیلی ویژن کی خصوصی بلیٹن میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ نیز ان دنوں کے بحرینی اخبارات میں بھی ان کی تفصیل چھپی تھی۔ اسی طرح حزب الله کے داعی عبد الوہاب حسین کا کردار بھی بڑا اہم ہے، وہ حزب الله کے اراکین کو سیکورٹی اور انٹیلی جنس کے اداروں کے ساتھ نپٹنے کے طریقے سکھاتا ہے۔ وہ اراکین کی خصوصی تربیت کرتا ہے کہ کس طرح خفیہ ادارے والوں کے حساس سوالات کا جواب دینا ہے۔ لوگوں کی ذہن سازی کیسے کرنی ہے اور انہیں حکومت مخالف رویے پر کیسے تیار کرنا ہے۔

 (حزب اللہ کون ہے، صفحہ47)

عالمِ اسلام میں تشیع کی نشر و اشاعت کے لئے شیعی خفیہ منصوبے کی تفصیل:

      ایران کے انقلاب کے مرشدِ اعلیٰ آیة الله العظمی علی خامنه ای ملعون کی ہدایات اور نگرانی میں شیعی شعار (علی کے شیعہ غالب ہوں گے) کے تحت "قم" شہر میں شیعی مجلس مشاورت کا اجلاس ہوا تاکہ عالمِ اسلام میں تشیع کی نشر و اشاعت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس اجلاس میں تمام جماعتوں کے قائدین مراجع، حوات کے لیڈر دینی اور سیاسی قائدین اور مباحثین نے شرکت کی۔ جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کے بعد درج ذیل سفارشات پر اتفاق کیا گیا۔

صفحہ 6 از 19