پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 7 از 19
  1.   ایک عالمی شیعہ تنظیم کی ضرورت محسوس کی گئی ہے جس کا نام "منتظمہ مؤتمر الشیعی"(عالمی شیعی مجلس مشاورت) ہوگا۔ اس کا ہیڈ آفس ایران میں ہو گا اور اس کی برانچیں پوری دنیا میں ہوگی۔ تنظیم کی کمیٹیاں اور ان کے فرائض طے ہوں گے اور مجلس کا اجلاس ہر مہینے ہو گا۔ 
  2. ہر ملک کی موجودہ حالت کا تحقیقی جائزہ لیا جائے گا اور عراق میں ہمارے اُن کامیاب تجربے سے استفادہ کیا جائے گا (یعنی جس طرح عراق میں صدام حسین شہیدؒ کی حکومت کو ختم کیا، اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک میں بھی اسلامی حکومتوں کو ختم کر کے شیعہ انقلاب لانے کی کوشش کی جائے گی) پھر باقی ملکوں میں اس کو لاگو کیا جائے گا۔ اُن میں اہم ترین سعودی عرب ہے جو وہابی کافروں کا قلعہ ہے۔ پھر اُردن ہے جو یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔ اسی طرح یمن، کویت، مصر، بحرین، ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں اسے لاگو کیا جائے گا۔ خمسینیہ اور عشرینیہ منصوبوں پر فوری عمل شروع کیا جائے (یعنی پنج سالہ اور دس سالہ پلان پر فوری عمل شروع کر دیا جائے)۔ 
  3. پوری دنیا میں تمام تنظیموں اور جماعتوں کی غیر سرکاری عسکری فوج بنائی جائے۔ یہ کام عسکری اداروں میں اپنے افراد داخل کر کے، امن و امان کے اداروں، حساس اداروں میں داخل کیا جائے۔ ان کے لئے خصوصی بجٹ مقرر کیا جائے اور انہیں ہمارے سعودی، یمنی اور اردنی بھائیوں کے تعاون کے لئے تیار کیا جائے۔  
  4. ہر میدان میں عورتوں کے تمام وسائل اور ذرائع سے بھر پور استفادہ کیا جائے تا کہ تمام جغرافیائی اہداف میں انہیں استعمال کیا جا سکے۔ تربوی اور تعلیمی نوکریوں کو حاصل کیا جائے۔
  5.   تمام مذاہب اور قوموں کے ساتھ عملی ہم آہنگی پیدا کرنا اور ان سے مکمل فائدہ اُٹھانا تا کہ پوری دنیا میں شیعی مقاصد کے حصول میں اُن سے مدد لی جا سکے اور ان کے ساتھ نسلی تعصّب سے اجتناب کیا جائے تا کہ شیعی مصلحت کو نقصان نہ ہو۔ 
  6. عام دینی شخصیات کا قتل اور ان کی صفوں میں جاسوس شامل کرنا تاکہ ان کے منصوبوں کی اطلاع ہو سکے۔
  7.   تمام دینی حوزات اور مراجع کیلئے ضروری ہے کہ وہ ماہانہ رپورٹ اور سالانہ منصوبہ سازی کریں اور مجلس کو آگاہ کریں کہ ان ممالک میں کیا کیا رکاوٹیں پیش ہیں اور کیا کیا کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ تشیع کے پھیلاؤ کے لئے مفید تجاویز بھی ارسال کریں۔
  8.  مجلس کے عسکری، اعلامی اور اداری معاملات کیلئے عالمی مالی بینک کا قیام یہ مجلس کے زیرِ تحت کھولا جائے گا، جس کی ذیلی برانچیں پوری دنیا میں ہوگی۔ اس میں حکومتوں، مالدار تاجروں، زکوة خمس اور تمام جمعیات اور تنظیموں سے مال جمع کر کے رکھا جائے گا۔ 
  9.  ایک مرکزی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو پوری دنیا میں مجلس کے منصوبوں کو مربوط کرے گی اور اس کے امور کو چلائے گی۔
  10.   تمام ممالک، حکومتوں اور جماعتوں کا پیچھا کیا جائے گا، ان کے خلاف ہر میدان میں جنگ چھیڑی جائے گی، خصوصاً اقتصادی جنگ، اس میں ایرانی برآمدات کو فروغ دینے اور سعودی، اُردنی شامیود اور چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کی ترغیب دی جائے گی۔ 

(حزب اللہ کون ہے، صفحہ187)

شیعوں کے وہ طریقے جن سے وہ سادہ لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف لاتے ہیں:

 شیعہ فرقوں میں سے ہر فرقہ میں داعیانِ مذهب ہوتے تھے، جن کو "دعاة" کہتے تھے۔ یہ صرف اپنے اپنے فرقہ کے مذہب کی طرف بلاتے تھے۔ ان کی دعوت کے چار طریقے تھے۔

 علم سے کام لینے کا طریقه

 علم سے وہ اس طرح کام لیتے کہ شبہات کو شہرت دیتے اور ان پر ایسی موزوں اور نپی تلی گفتگو کرتے کہ ہر خاص و عام کے دل میں اُتر جائے، اور ہر شخص کی قابلیت، عادت اور مزاج کے مطابق ہمکلامی کرتے۔ اہلِ سنت کے دلائل توڑ مروڑ کر اپنے مذہب کی تائید و تعریف میں اور دوسرے کے مذہب کی مذہمت میں استعمال کرتے۔

 مال سے کام لینے کا طريقہ:

 مثلاً اس مذہب کو قبول کرنے والوں کو ہدیئے، تحفے اور انعامات دینا، نو مسلموں کی بہت تعظیم کرنا اور ان کو انعام و اکرام سے نوازنا۔ اپنے ہم مذہبوں کو ملازمتوں اور عہدوں کے ذریعہ فائدہ پہنچانا۔ غیر مذہب والوں کو ملازمتوں سے نکالنا اور ان کو حقیر و ذلیل رکھنا۔ مقدمات میں ہم مذہبوں کے ساتھ رعایت و جانب داری کا سلوک کرنا اور غیر مذہب والوں کو ملزم و قصور وار ٹھہرانا۔

 زبان سے دعوت کا کام لینے کی صورت:

 قبولیتِ مذہب پر اچھے وعدے کرنا، جو ان کے مذہب کی طرف مائل ہو تو محبت و شفقت آمیز گفتگو کرنا، اور جو ان کے مذہب کا مخالف ہو تو اس سے تیوری چڑھا کر بات کرنا اور سختی و درشتی سے ہمکلام ہونا۔

   تلوار سے کام لینے کا طریقہ 

 تلوار سے یوں کام لیتے ہیں کہ مذہب کے مخالف کو قتل کر دیتے، لوگوں کو مذہب قبول کرنے پر مجبور کرتے مخالف مذہب کے امراء و حکام سے جنگ کرتے تا کہ ان کی شوکت کم ہو۔ 

(تحفه اثنا عشريه اردو، صفحہ60)

 لوگوں کو اپنے شیعہ مذہب کی طرف دعوت دینے کے اسباب:

پہلا سبب: اہلِ مذہب کو گمراہ کرنا۔ ان کی جمعیت میں پھوٹ ڈالنا اور افتراق پیدا کرنا تاکہ اپنے ہم مذہب ان کی برائیوں سے امن و حفاظت میں رہیں۔ 

 دوسرا سبب: لشکر کی تعداد بڑھانا تاکہ ان کی کثرت کے سہارے اپنے پروگرام پورے کر سکیں۔ 

 تيسرا سبب: صاحبِ دولت و ثروت کی خوشامد اور چاپلوسی کرتے رہنا تا کہ وہ ان کے مذہب کا دلدادہ اورا ہلِ مذہب بنا رہے۔

 چوتھا سبب: اہلِ سنت کے درمیان بغض و عناد اور دشمنی کا ایسا بیج بونا کہ ایک گھر والے بھی آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں اور ایک دوسرے کی کاٹ میں لگ جائیں، تاکہ ان کا روزگار تباہ اور زندگی تلخ ہو جائیں۔

 (تحفہ اثنا عشریہ اردو،صفحہ61)

شیعہ مکرو فریب اور ورغلا کر اپنے مذہب کی طرف لانے کے طریقے

 مراتب دعوت

اوّل مرتبه ۔۔۔ زرق مراتب دعوت یعنی عقل وفراست سے مدعو (جس کو اپنے مذہب کی طرف دعوت دے رہے ہوں) کے بارے میں صحیح جانچ پرکھ، کہ وہ دعوت کے قابل ہے یا نہیں؟ یا اس پر دعوت اثر کرے گی یا نہیں۔ کیونکہ انہیں کے بقول بنجر زمین میں تخم ریزی کرنی چاہئے۔ یعنی جو دعوت کی قابلیت نہ رکھتا ہو اسے دعوت نہیں دینی چاہئے۔ ان کا یہ بھی قول ہے کہ جہاں روشنی ہو وہاں دم نہیں مارنا چاہئے۔ یعنی جس جگہ اہلِ سنت کا اصول یا متکم عالم ہو وہاں لب کشائی مناسب نہیں۔

صفحہ 7 از 19