پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 8 از 19

 دوسرا مرتبه۔۔۔ مدعو (جس کو اپنے مذہب کی طرف دعوت دے رہے ہوں) کو خود سے مانوس کرنا، اور ہر شخص کے مزاج کے مطابق اس کی دلجوئی کرنا، مثلاً اگر ایک شخص زہد و طاعت کی طرف زیادہ مائل اور اس کا دلدادہ ہے تو اس کے سامنے اپنے آپ کو بھی زاہد و متقی ثابت کرنا۔ آئمہ کرام سے زہد و طاعت کے ثواب کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا۔ یا کوئی دوسرا جواہرات و زیورات پر فدا ہے اور ان کا شوقین ہے تو اس کے سامنے عقیق و یاقوت اور فیروزے کی فضیلتوں کی روایات بیان کرنا، اور اس پر ثوابِ عظیم کا وعدہ دینا۔ اسی طرح دیگر تمام امور خصوصاً کھانے، اولاد، عورتوں، باغات یا گھوڑوں یا ان کے علاوہ معاملات میں مخاطب کے طبعی رجحان کے موافق بات کرنا۔ 

تيسرا مرتبه ۔۔۔ تشکیک یعنی فریقِ مخالف کے عقائد و اعمال میں شک و شبہ پیدا کرنا، مثلاً قصه فدک بیان کرنا اور اس میں حدیث قرطاس کا بیان چھیٹر دینا، وغیرہ وغیرہ۔ یا اہلِ سنت کے مسائل میں فروعی اختلافات کو چھیڑنا، مثلاً رفع یدین کرنا یا نہ کرنا، آمین بالجبر پڑھنا یا نہ پڑھنا، یا مقطعاتِ قرآنی کا ذکر درمیان میں لانا یا متشابہات کے بارے میں تفاسیری اختلافات کو چھیڑنا اور موضوع بحث بنانا یا ان جیسے کسی اور بات کی طرف کلام کا رخ بار بار پھیرنا اور اس پر اظہار تعجب کرنا، تا کہ سامع کے دل میں شک اور تردّدر پیدا ہو اور مخاطب ان امور کی تحقیق حق کی طرف مائل ہو جائے، اور اپنے اہلِ سنت کے مذہبوں سے مایوس ہو کر دوسرے مذہب کی طرف جھک جائے۔ 

چوتها مرتبه۔۔۔ ربط یعنی عہد و پیمان کرنا اور ہر شخص سے اس کے اعتقاد کے موافق پختہ قول و اقرار کرنا کہ وہ ان بھیدوں کو فاش نہ کرے اور ان کو منظر عام پر نہ لائے۔

 پانچواں مرتبه ۔ تدليس یعنی ان اکابرِ دین، اکابرِ علماء اور برگزیدہ اولیاء کے بارے میں یہ دعویٰ کرنا کہ وہ ہمارے ہم مذہب تھے، مثلاً انہوں نے یہ کہا کہ حضرت سلمان فارسیؓ، حضرت ابوذر غفاریؓ، حضرت مقداد کندیؓ اور حضرت عمار بن یاسرؓ شیعہ مذہب رکھتے تھے اور ان کے بعض کلمات کو اپنے جھوٹے دعوے پر بطورِ دلیل پیش کرنا، اور یہ کہنا کہ حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، اویس قرنیؒ اور تابعین میں سے حضرت حسن بصریؓ اور امام غزالی صاحبؒ بھی شیعہ تھے۔

اور کتاب "سر العالمین" کو جو محض ان بزرگ پر افتراء و بہتان ہے، اپنے دعویٰ کا شاہد بنانا اور کہنا کہ حکیم سنائی مولانا روم، شمس تبریز اور خواجہ شیرازی بھی باطن میں شیعہ تھے، اور ان ابیات کو جو ان سے منسوب ہیں یا ان کی مثنویات اور دیوانوں سے ملحق ہیں اپنے کلام کا گواہ بنانا۔ یہ ساری دروغ گوئی اس غرض سے کرتے ہیں کہ سامع کا میلان شیعہ مذہب کی طرف زیادہ ہو اور وہ سوچے کہ جس چیز کو ان اکابرینِ دین نے اختیار کیا اور یہ پوشیدہ رکھا ہے لا محالہ اس میں بھی کوئی بھید اور راز ہے۔ 

چھٹا مرتبه ۔۔۔ خلع یعنی چہرہ کا پردہ ایک طرف رکھ کر صحابہ کرامؓ کی طرف (معاذ اللہ) ظلم و غضب کی نسبت کھلم کھلا کرنا، اور اپنے مذہب کے اُصول و فروع کو صاف صاف بیان کرنا۔ جب مدعو (جس کو اپنے مذہب کی طرف دعوت دے رہا تھا) اس حد تک پہنچ جائے کہ سب اُمور کو برداشت کرے تو گویا مقصد حاصل ہو گیا۔

 نوٹ: ان میں سے بعض مرتبہ خلع کے بعد ایک مرتبہ اور اضافہ کرتے ہیں جس کو "سطلع" کہتے ہیں۔ یعنی مدعو سے اپنے سابقہ معتقدات سے اظہارِ بیزاری کرانا اور اس کے آباء و اجداد جو اس مذہب پر تھے ان سے اس کو متنفر کرنا اور اولاد واقارب سے قطع تعلق کرنا۔ 

(تحفہ اثناء عشريه أردو، صفحہ71)

 شیعہ مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے دھوکہ دے کر اپنے مذہب سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

میرے محترم قارئین کرام! حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی صاحبؒ نے اپنی کتاب تحفه اثناء عشریہ میں شیعوں کے 107 دھوکے لکھے ہیں کہ وہ کس طرح مسلمانوں کو دھوکہ دے کر اپنے مذہب سے بیزار کر کے شیعہ مذہب کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُن میں سے چند درج ذیل ہیں۔ 

(1) بعض مرتبہ لوگوں کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں کہ ان کے علماء نے تقیہ کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو اہلِ سنت کے محدثین ظاہر کیا اور علمِ حدیث کے قابلِ اعتبار محدثین سے علمِ حدیث حاصل کرنے میں مشغول ہو گئے، اور صحیح اسناد یا دو حفظ کیں۔ ظاہری زہد و تقویٰ سے اپنے کو آراستہ و پیراستہ کیا، ان کی اس ظاہری حالت سے اہلِ سنت کے طلبائے حدیث نے بھی دھوکہ کھایا اور ان کی شاگردی کو قابلِ اعتماد سمجھا اور ان سے علم حدیث پڑھا۔ اہلِ علم میں اعتماد پیدا کرنے کے بعد انہوں نے یہ حرکت شروع کی کہ صحیح و حسن احادیث کی روایت کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کی گھڑی ہوئی احادیث بھی خلط ملط کر دیں۔ عوام تو کیا خواص تک اس دھوکہ اور فریب کے شکار ہوئے، اس لئے کہ احادیث صحیحہ و موضوعہ میں تمیز کی صورة رواۃ حدیث ہیں، اور جب اس چالبازی کی وجہ سے اچھے اور برے راوی مل جل گئے تو اب تمیز کی کوئی صورت نہ رہی لیکن اللہ تعالیٰ جل شانہ کا فضل اہلِ سنت کو شامل تھا اور ان مکاروں کے کید و فریب کا پردہ چاک کرنا منظور تھا۔ لہٰذا فنِ رجال کے ماہرین اس طرف متوجہ ہوئے تحقیق و تفشیش میں لگے اور بالآخر اس دھوکہ کا پتہ چلالیا، اور پورے طور پر اس سے آگاہ ہوئے۔ جب دھوکہ اور فریب کھلا اور معاملہ طشت از بام ہوا تو اس گروہ کے کچھ لوگوں نے حدیثیں گھڑنے اور وضع کرنے کا صاف اقرار کر لیا اور بعض دوسروں نے گو زبان سے تو اقرار نہیں کیا مگر کچھ اور قرائن و علامات نے ان کی سازش اور فریب دہی کا راز کھولا۔

 (تحفه اثناء عشريه اردو، صفحہ93)

صفحہ 8 از 19