پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ…

پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 9 از 19

 (2) بعض مرتبہ لوگوں کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں کہ اپنے مذہب کے موافق حضور اکرمﷺ سے مرفوع احادیث گھڑ لیتے ہیں اور پھر ان کو رواج و شہرت دیتے رہتے ہیں، ان کی اکثر حدیثیں قصہ و کہانی کے انداز کی ہوتی ہیں۔ بعض الفاظ و صیغے صحیح احادیث سے اڑا کر اس انداز و طریقے سے ادا کرتے ہیں جن سے ان کے مذہب کی تائید نکل سکے۔ اور بعض وقت ایسے صیغے بھی گھڑ لیتے ہیں کہ احادیث صحیحہ میں کبھی نہیں دیکھے گئے، مثلاً کہتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہ السلام یہ آرزو رکھتے تھے کہ شیعانِ علی میں محشور ہوں (یعنی ان کا حشر انہیں کے ساتھ ہو) اسی جیسے اور الفاظ اور صیغے۔

 (تحفہ اثناء عشريه اردو، صفحہ95)

(3) بعض مرتبہ لوگوں کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں کہ اہلِ سنت کے معتبر رجال اسناد پر شیعہ نظر رکھتے ہیں ان میں سے کسی کا نام یا لقب ان کے رجال میں سے کسی سے ملتا جلتا ہوتا ہے تو اس کی حدیث اور روایت کو اسی کی سند سے منسوب کر دیتے ہیں۔ اب چونکہ دونوں کا نام اور لقب ایک ہوتا ہے اس لئے تمیز مشکل ہو جاتی ہے اور نا واقف سنی ان کے راوی کو اپنا معتبر راوی سمجھنے کے دھوکے میں آجاتے ہیں اور اس کی روایت پر اعتماد کر بیٹھتے ہیں۔

مثلاً "سدی" نام کے دو راوی ہیں۔ سدی کبیر، سدی صغیر اوّل اہلِ سنت کے معتبر راوی ہیں اور دوسرا کذاب۔ روایتیں گھڑنے والا خالص متعصب شیعہ ہے۔ يا مثلاً "قتیبہ" کہ اس نام کے بھی دو راوی ہیں۔ ایک ابراہیم بن قتیبہ جو کٹر شیعہ ہے۔ دوسرے عبداللہ ابن مسلم قتیبہ جو اہلِ سنت میں سے ہیں اور کتاب المعارف انہیں کی تصنیف ہے۔ ڈھیٹ پن ملاحظہ ہو کہ اس مذکورہ بالا رافضی نے بھی ایک کتاب لکھی اور اس کا نام بھی کتاب المعارف ہی رکھا، تاکہ دونوں کتابوں میں اشتباہ پیدا ہو جائے۔

 (تحفہ اثناء عشريه اردو،صفحہ95)

(4) بعض مرتبہ لوگوں کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں کہ ایک ایسی کتاب جس میں صحابه کرامؓ پر لعن طعن ہو اور مذہب اہلِ سنت کا بطلان ہو خود تصنیف کر کے اس کو اہلِ سنت کے کسی جلیل المرتبہ عالم کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ اور اس کے خطبہ میں مصنف کی طرف سے یہ وصیت بھی درج کر دیتے ہیں کہ ہم نے اس میں جو کچھ لکھا ہے یہ ہمارا اصلی اور پوشیدہ عقیدہ ہے۔ اس کو ایک محفوظ امانت اور پوشیدہ بھید، سمجھ کر راز میں رکھیں۔ اس کے علاوہ دوسری کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے اسے ظاہر داری اور زمانہ سازی محض تصور کریں۔ مثلاً "سر العالمین" کو امام غزالی صاحبؒ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اسی طرح کی اور کئی کتابیں ترتیب دے کر انہوں نے یہی حرکت کی ہے۔ اب چونکہ ایسے صاحب ذوق لوگ بہت ہی کم ہیں کہ وہ اس فرضی بزرگ مصنف کے طرزِ کلام سے گہری واقفیت رکھتے ہوں کہ ان کے اور دوسروں کے مزاج سخن میں فرق و امتیاز کر سکیں، اس لئے لامحالہ عام طلبائے دین اس مکر کے چکر میں غوطے کھاتے اور بہت حیران و پریشان ہوتے ہیں۔

(تحفہ اثناء عشريه اردو، صفحہ95)

 (5) بعض مرتبہ لوگوں کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں کہ ان میں سے کوئی عالم، مذاہبِ اربعہ میں سے دکھاوے کیلئے کوئی مذہب قبول کر کے اس کا اپنے اوپر اتنا گہرا رنگ چڑھا لیتا ہے کہ لوگ ظاہری اور باطنی امتحان اور تجربے کے بعد اپنے مذہب کا مقتداء سمجھ لیتے ہیں۔ اور پھر اس مذہب کے مدارس میں تدریس بھی ان کے سپرد ہو جاتی ہے، اور منصب افتاء میں یہی ممتاز نظر آنے لگتے ہیں۔ اور جب وہ فرشتہ اجل کو قریب آتے دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے نزدیک شیعہ مذہب ہی حق ہے، اور وصیت کرتا ہے کہ میری تجہیز و تکفین کی رسوم کسی شیعہ سے کرائی جائیں اور مجھے شیعوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ اور اس حیلہ کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ شاگردوں، معتقدوں اور دوست و احباب کے دلوں میں تردّد اور شک و شبہ پیدا کر دیا جائے تاکہ وہ یہ سوچیں کہ اتنا بڑا عالم فاضل اور پر ہیز گار، شیعہ مذہب کو حق اور سچ نہ جانتا ہو تو اس کی طرف کیوں جھکتا اور اہلِ سنت کے مذہب سے کیوں دست بردار ہوتا۔ چنانچہ ابنِ مطہر علی نے اپنی کتاب "نهج الكرامه" میں لکھا ہے کہ ہمارے زمانہ کے اکثر شافعی مدرسین مرتے وقت یہ وصیت کر گئے کہ ان کی تجہیز و تکفین کوئی شیعہ کرے اور ان کو مشہد امام کاظم میں دفن کیا جائے۔ 

(تحفه اثنا عشريه اردو، صفحہ117)

(6) بعض مرتبہ لوگوں کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں کہ شیعوں میں سے بعض مکار، اہلِ سنت کے ثقہ محدثین کی صحبت و ہم نشینی اختیار کرتے ہیں۔ اپنے مذہب سے بیزاری کرتے اور اپنے مذہبی اسلاف کو بُرا اور مذہب کے فسادات و عیوب کو علی الاعلان بے نقاب کرتے ہیں توبہ، دیانت، احسن سیرت اور تقویٰ کی صفات سے اپنے آپ کو متصف کرنے کی بظاہر کوشش کرتے ہیں، حدیث صرف ثقات سے لینے کی رغبت دکھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ علماء و طلباء ان کو قابلِ وثوق اور لائق اعتماد سمجھنے اور صدق و پاکدامنی پر اطمینان ظاہر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اور جب ان کو یہ مرتبہ مل جاتا ہے تو یہ اپنی اصلیت پر آجاتے ہیں، اور اپنی مکاری کا مظاہرہ شروع کر دیتے ہیں، اور معتبر وثقہ روایات میں اپنی گھڑی ہوئی روایات کا جوڑ لگا دیتے یا بعض کلمات میں تحریف کر کے روایت کرتے ہیں تاکہ لوگ دھوکہ میں پڑ جائیں۔ یہ ان کا بہت بڑا اور چلتا ہوا مکر و فریب ہے۔

 (تحفه اثنا عشريه اردو، صفحہ125)

 بعض مرتبہ لوگوں کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں کہ ان کے اسلاف، سادہ دل بندوں اور کم عقل لوگوں کو دھوکہ اور فریب دینے کے لئے یہ حربہ استعمال کرتے ہیں کہ آئمہ اور بزرگانِ دین کی خدمت میں کثرت سے آمد و رفت رکھتے اور ان کی مجلسوں میں شرکت کرتے اور موقع بموقع ان کے مکانوں میں آتے جاتے ہیں تاکہ لوگ اس دھوکہ میں پڑ جائیں کہ یہ ان کے بہت چہیتے شاگرد یا بہت گہرے دوست ہیں اور اپنے دینی مسائل کا حل انہیں سے حاصل کرتے ہیں، اور ان کی روایات پر اعتماد کرتے ہیں۔ جب لوگ اس قسم کی غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں تو ان کا اصل رنگ کھلتا ہے، اُس وقت یہ اپنی گھڑی ہوئی لغو اور گمراہ کن باتیں ان روایات میں داخل کر کے ان کو پھیلاتے اور خوب شہرت دیتے ہیں اور یوں وہ خوش فہم لوگ ان کے دام مکر میں آکر اپنا دین و ایمان برباد کر بیٹھتے ہیں۔

 (تحفه اثناء عشريه اردو، صفحہ197)

صفحہ 9 از 19