قرار داد خلافت
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشہور ہے کہ گورنروں کے انتخاب کے سلسلہ میں اہل شوریٰ سے مشورہ لینے اور گورنر نامزد کر دینے کے بعد ایک قرارداد تیار کرتے تھے، اکثر مؤرخین نے اسے معاہدۂ تقرری کا نام دیا ہے۔ ہم مجازی طور پر اسے قرار داد خلافت کا نام دے سکتے ہیں۔ افسران و گورنران کی تقرری کے وقت آپؓ کے تیار کردہ حلف نامے کی متعدد عبارتیں تاریخی کتابوں میں ملتی ہیں۔
(الوثائق السیاسیۃ للعہد النبوی والخلافۃ الرشدۃ: صفحہ 407) البتہ جس بات پر تقریباً تمام مؤرخین متفق نظر آتے ہیں وہ یہ ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ جب کسی کو افسر یا گورنر مقرر کرتے تو مہاجرین و انصار کی ایک جماعت کو گواہ بناتے اور عہدیداروں سے قرار داد میں درج کردہ شرائط کی پابندی کرنے کا عہد لیتے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 144) بسا اوقات گورنری کے لیے تجویز کردہ شخص مجلس میں موجود نہ ہوتا تو آپؓ اس کے نام سے عہد نامہ تیار کرتے اور اسے اس کے پاس بھیج کر حکم دیتے کہ فلاں ریاست میں چلے جاؤ وہاں تمہاری تقرری ہو گئی ہے، جیسا کہ بحرین کے گورنر حضرت علاء بن حضرمیؓ کو عہدنامہ ارسال کیا اور حکم دیا کہ بصرہ چلے جاؤ، اب عتبہ کے بعد تم وہاں کے گورنر بنائے جا رہے ہو۔ اسی طرح اگر آپؓ کسی امیر کو معزول کر کے دوسرے کو اس کی جگہ پر بھیجتے تو نیا امیر سرکاری خط کے ساتھ وہاں جاتا جس میں پہلے امیر کی معزولی اور نئے امیر کی تقرری کا حکم ہوتا، جیسے کہ آپؓ نے جب بصرہ کی گورنری سے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو معزول کیا اور ان کی جگہ پر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو گورنر بنایا تو حضرت ابو موسیٰؓ کو اسی طرح کا خط لکھ کر دیا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 49)