مسلمانوں کے معاملات میں نصاریٰ سے عدم تعاون
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس فتح شام کا خط آیا، آپؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو حکم دیا کہ اپنے محرر کو بلاؤ، وہ مسجد میں لوگوں کو یہ خط پڑھ کر سنائے۔ ابو موسیٰ نے کہا: وہ مسجد میں نہیں داخل ہو سکتا، حضرت عمرؓ نے پوچھا: کیوں؟ کیا وہ جنبی ہے؟ آپؓ نے جواب دیا: نہیں بلکہ اس لیے کہ وہ نصرانی ہے۔ سیدنا عمرؓ نے یہ سن کر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی سرزنش کی اور کہا: ’’ان کو قریب نہ کرو، اللہ نے انہیں دور کر دیا ہے، انہیں عزت نہ دو، اللہ نے انہیں ذلیل کر دیا ہے، انہیں امانت دار نہ جانو، اللہ نے انہیں خائن کہا ہے۔ میں نے تم کو اہل کتاب یہود ونصاریٰ سے تعاون لینے سے منع کیا ہے، کیونکہ وہ رشوت کو حلال مانتے ہیں۔‘‘
(بدائع السالک: جلد 2 صفحہ 27)
’’ اُشِّق‘‘(حافظ ابن حجرؒ نے اسے الاصابۃ میں ذکر کیا ہے) کا بیان ہے کہ میں سیدنا عمرؓ کا ایک نصرانی غلام تھا، تو آپؓ نے مجھ سے کہا: اسلام لے آؤ تاکہ مسلمانوں کے بعض معاملات میں ہم تم سے مدد لے سکیں، کیونکہ جو مسلمان نہیں ہے ہم اس سے مسلمانوں کے مسائل میں کام لینا اچھا نہیں سمجھتے اور جب آپؓ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپؓ نے مجھے آزاد کر دیا اور کہا: جہاں چاہو جا سکتے ہو۔
(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 514، الطبقات: جلد 6 صفحہ 158)